امت نیوز ڈیسک //
جموں:کشمیری پنڈت ملازمین کو ایک بار پھر مشتبہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ کالعدم تنظیم تنظیم لشکر طیبہ سے منسلک گروپ دی ریزسٹنس فرنٹ نے 57 پنڈت ملازموں کی فہرست تیار کی اور ان ملازمین کے دھمکی آمیز پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہے۔
ان دھمکی آمیز پوسٹوں کے بعد جموں وکشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں کے مختلف علاقوں میں کشمیری پنڈت ملازمین نے اپنی مانگوں کو لے کر احتجاجی مظاہرئے کیے۔ پیر کی صبح کشمیری پنڈت ملازمین کی ایک بڑی تعداد نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا اور سرکار سے مطالبہ کیا کہ اُنہیں جموں میں ہی تعینات کیا جائے۔
کشمیری پنڈت ملازمین کا جموں میں احتجاجمظاہرین نے کہا کہ آن لائن دھمکی کے بعد وہ اب کشمیر جانے کو تیار نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ کو کشمیر میں تعینات پنڈت ملازمین کو جموں ٹرانسفر کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ ’پچھلے چار ماہ سے وہ مسلسل احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں لیکن سرکار کی جانب سے اُن کی مانگوں کو پورا نہیں کیا جارہا ہے۔‘مظاہرین نے مزید بتایا کہ کشمیر میں ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات رونما ہونے کے بعد ہندو ملازمین کو پھر سے دھمکی دی گئی ہے لہذا اس سب کو دھیان میں رکھ کر سرکار کو اب ملازمین کے حق میں فیصلہ لینا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ لگاتار اُنہیں دھمکیاں دی جارہی ہیں لہذا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے سرکار کو کشمیری پنڈت ملازمین کو جموں میں ہی تعینات کرنے کا فیصلہ لینا چاہئے اور جب حالات پوری طرح سے معمول پر آئیں گے تب وہ وادی میں اپنی خدمات انجام دینے کے لئے تیار ہیں۔










