امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی و پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز اروناچل پردیش میں سرحد پر بھارت اور چین کے درمیان حالیہ کشیدگی کو "انتہائی افسوسناک حالت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بی جے پی اس کے بارے میں کچھ نہیں کر رہی ہے۔
سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ "چین نے لداخ میں ہماری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ کے بیان کے مطابق چین نے اروناچل پردیش میں بھی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے،لیکن بدقسمتی سے بی جے پی اس بارے میں کچھ نہیں کر رہی ہے۔
بھارت چین گشیدگی ایک انتہائی افسوسناک حالت ، محبوبہ مفتیاُن کا مزید کہنا ہے کہ "ہمارے فوجیوں کو چین کی جانب سے مارا پیٹا گیا ہے،اور ہمارے فوجی اہلکاروں کو جوابی کارروائی کی اجازت نہیں ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک حالت ہے۔”
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب حکومت کے پاس چین کے زمین قبضے کا کوئی جواب نہیں ہے اس کے برعکس حکومت یہاں لوگوں کو لیز پر دی گئی زمین چھین رہی ہیں۔
جموں و کشمیر میں فیملیز کے لیے منفرد شناختی کارڈ بنانے کی حکومت کی تجویز کے بارے میں پوچھے جانے پر محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکز جموں و کشمیر کے لوگوں پر نگرانی رکھنا چاہتی ہے کیونکہ اسے ان پر بھروسہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے پاس اعتماد کی کمی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ یہاں کے لوگ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد ناراض ہیں۔ اس لیے سرکار ایسے حربے استعمال کر کے لوگوں پر نظر رکھنا چاہتی ہے۔








