سرینگر//عوامی نیشنل کانفرنس کے نایب صدر مظفر شاہ نے سرکار کے حالیہ حکمنامہ کی پرزور الفاظ میں کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے غریبوں کے ساتھ حد درجہ کی زیادتی قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ اس کا منفی اثر بھا جیا سرکار پر پڑنا یقینی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ اس قسم کے عوام دشمن حکم نامے کون بیورو کریٹ جاری کرتے ہیں۔ شاہ نے کہا کہ سرکار کا کام عوام کی بھلائی و یہودی ہوتا ہے مگر یہاں تو اس کے الٹ فیصلے کر کے غریب کی جھونپڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ہزاروں کنال اوقاف سٹیٹ لینڈ، جے ڈی اے لینڈ و کسٹوڈین کی اراضی پر زبردستی قابضین نی پر زبردستی قابضین کی سدہ کوئی نہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بڑا عوام دشمن فیصلہ کیا ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہل ایک جانب کشمیر وادی سے ہر برادری و طبقہ کے افراد نے نا گفتہ بہ حالات کی وجہ سے نقل مکانی کی ، ان کو جموں کی اکثریتی فرقہ نے والہانہ خیر مقدم کر کے اپنے گھر کے دوار کھول کر ان کی ہر ممکن مدد کی لیکن اب ان چند مرالوں پر زندگی بسر کرنے والوں کونشانہ بنانے کی جانب قدم بڑھایا جارہا ہے۔ مظفر شاہ نے افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ اس سے ماحول میں بے یقینی بے چینی پائی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کروڑوں واربوں روپے کی اراضی پر قابضین کے خلاف ایکشن لیا جاتا مگر سرکار غریب کو اجاڑنے پر تلی ہوئی ہے جو کسی طور پر جائز نہیں کہا جا سکتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ جو معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس کا انتظار کیا جاتا چاہئے مگر ایسا لگ رہا ہے کہ سرکار کسی قانون و عدالت کو نہیں مانتی ہے۔ مظفر شاہ نے کہا کہ آج تمام برادری کو لوگ افراتفری و انتشار و بے یقینی کا شکار ہیں کہ کیا سرکار غریب کو اجاڑنے کے لئے بنائی گئی ہے۔ اس لئے عوام دشمن تعلیقی فرمان کو فوری واپس لیا جانا چاہئے ،ان کا کہنا تھا کہ ہر ذی ہوش دعوامی لیڈروں کو غریب عوام کے حق رہی کے لئے ایک پلیٹ فارم پر آکر غریب کے حق کی کرنی چاہئے ، یہ سیاسی لیڈران کی ذمہ داری و اولین فرض بنتا ہے کہ وہ سچائی وحق کی بات کر کے مظلوم کو بچانے کا کام کریں، ان کا کہنا تھا کہ بھاجپا کے خلاف عوام میں غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے عوام اپنے غصے کا اظہار بر وقت کر کے غرب عوام کے حق میں بات نہ کرنے والوں کو سبق سکھائیں گے۔ اسلئے وقت کی سرکار کو چاہئے کہ وہ عوام کے منفاد ا مد نظر رکھ کر عام کی بھلائی وخوشحالی و ترقی و روزگار کیلئے کام کرے اور اس فیصلے کو فوری واپس لے کر غریب کو سکون سے زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کرے۔
شاہ نے کہا کہ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ آج خود کو جموں کے لیڈر کہنے والوں کے منہ میں دہی جم گئی ہے جبکہ چناؤ کے دوران یہی لیڈر غریب کے ہمدرد ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ ان کو روزگار ہر ایک کو گھر ہر ایک کو پر امن ماحول و سہولیات زندگی وغیرہ بات دینے کے لیے چوڑے وعدے کرتے ہیں۔ ادھر مرکزی سرکار و پردیش بھاجپا کے لیڈران سب کا ساتھ سب کا وشواش وسب کا وکاس کی باتیں کرتے ہیں مگر زمین پر جو ہورہا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ یہ تیرے محض نعرے رہ گئے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے، شاہ نے کہا کہ مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ اس قسم کے غریب دشمن فیصلے ایل جی سرکار کے ہیں بلکہ بیرون ریاست کے بیورو کریٹ کا یہ کھیل لگ رہا ہے جس کے خلاف ہر طبقہ فرقہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔










