امت نیوز ڈیسک //
چیف الیکشن کمشنر راجیو کمارنے پیر کو انتخابات کے حوالے سے فرضی مواد کو ختم کرنے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں انتخابات میں خلل ڈالنے والوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر گھڑا جارہا ہے ، جو پریشان کن ہے۔
کمار نے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں اپنی انگور تھنک اور ڈیکیٹل انٹیلی جنس کے ساتھ جعلی انتخابات کے حوالے سے ایسی وسیع جعلی کہانیوں کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ وہ نئی دہلی میں ٹیکنالوجی کااستعمال اور انتخابات کی شفافیت’ کے موضوع پر دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ دوسری بین الاقوامی کانفرنس ہے جس کا اہتمام الیکشن کمیشن آف انڈیا نے جمہوریت کے لیے سر براہ اجلاس کی تجاویز پر عمل کرنے کے لیے کیا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے اپنے خطاب میں انتخابی اداروں کو درپیش اہم چیلنجز کے عنوان سے انتخابی انتظامی اداروں کے کام پر نئے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کے اثرات کا خصوصی ذکر کیا۔ انتخابات کے سلسلے میں گردش کرنے والی سنگین فرضی کہانیوں کے چیلنج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ہندوستان جیسے ممالک میں جہاں انتخابات کا وقت اچھی طرح سے متعین ہے وہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیکنالوجی کے ذریعے من گھڑت
کہانیوں کو پکڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلیمواد کے مقابلے میں باضابطہ طور پر تصدیق شدہ مواد کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ کی کمی ہے، خاص طور پر تلاش کے نتائج کے ڈسپلے کے معاملے میں۔ جعلی مواد کی نشاندہی کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری کا انفورسمنٹ ایجنسیوں سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جعلی مواد کی نشاندہی کے لیے فعال کردار اد اکرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر پولیس یا انفورسمنٹ ایجنسیاں یہ کہنا شروع کر دیں کہ جب تک جرم کی اطلاع نہیں دی جاتی وہ کارروائی نہیں کریں گے ، خفیہ طریقے سے روک تھام کرنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔
کمار نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کی شمولیت انتخابات میں شمولیت اور شفافیت کو یقینی بنانے اور اس طرح جمہوری انتخابی مشق میں اعتماد کو بڑھانے میں اہم بن گئی ہے۔










