امت نیوز ڈیسک //
پلوامہ:جموں وکشمیر کے ضلع پلوامہ میں کشمیری پنڈت سنجے شرما کی ہلاکت پر سیاسی جماعتوں نے مذمت کرتے ہوئے اس واقع پر رنج ظاہر کیا۔ ضلع پلوامہ کے اچھن گاؤں میں آج صبح نامعلوم عسکریت پسندوں نے کشمیر پنڈت سنجے شرما کو ہلاک کردیا۔ سنجے شرما کو مقامی لوگوں و پولیس نے اسپتال منتقل کیا تھا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہوگیا۔ سنجے شرما ان چند کشمیری پنڈتوں میں سے تھے جنہوں نے ناسازگار حالات کے باوجود اپنے آبائی مقام اچھن میں ہی رہنے کو ترجیح دی تھی۔
پولیس کے مطابق اس گاؤں میں رہائش پذیر کشمیری پنڈتوں کی حفاظت کے لیے پولیس تعینات تھی لیکن سنجے شرما گھر سے باہر کسی کام کے لیے نکلے تھے جب اس پر عسکریت پسندوں نے گولیاں چلائی۔ مملوک سنجے شرما ایک پرائیویٹ سیکورٹی گارڈ کا کام کررہے تھے جس سے وہ اپنے بیوی اور دو بچوں کی کفالت کرتے تھے۔ واضح رہے کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بائیس کے قریب غیر مقامی مزدوروں سمیت چند کشمیری پنڈتوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ مرکزی سرکار کے مطابق کشمیر میں 2022 میں تین کشمیری پنڈتوں سمیت 14 غیر مقامی افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
ان ہلاکتوں کے بعد پی ایم پیکج کشمیری پنڈت جموں چلے گئے اور گزشتہ دو سو ایام سے زائد احتجاج پر ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حالات بہتر ہونے تک ان کو جموں منتقل کیا جائے۔ تاہم سرکاری نے ان کا یہ مطالبہ قبول نہیں کیا ہے اور ان کو ڈیوٹی جوائن کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے سنجے شرما کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ سنجے پنڈت کے انتقال کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا اور انہوں نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے لواحقین کے ساتھ تعزیت کی۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کو بندوق برداروں کی جانب سے دل کو دہلا دینے والا، بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ جے کے پی سی سی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ انتظامیہ کو اس گھناؤنے میں ملوث افراد کی شناخت کرکے ان کو مثالی سزا دینی چاہیے۔ بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے کہا کہ دہشت گردوں نے ایک بار پھر دکھایا ہے کہ ان کے لیے انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجرموں کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور کسی کو بھی امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ اتوار کی صبح جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے اچھن علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک پنڈت پر فائرنگ کردی تھی۔ جس میں ایک کشمیری پنڈت کو گولی لگی تھی جسے علاج کے لیے ضلع اسپتال منتقل کردیا گیا تھا لیکن وہ اپنے زخموں سے جانبر نہ ہوسکا اور ہلاک ہوگیا۔







