ڈاکٹر کرن سنگھ نے جموں وکشمیر کے مرکزی زیرانتظام علاقے کو ریاست کا درجہ بحال کرنے اور یہاں جمہوری طرز کے انتخابات کرانے پر زور دے کر پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا ہے۔
سابق ریاست جموںو کشمیر کے آخری ولی عہد (یو راج)،سابق صدر ریاست، سابق گورنر ڈاکٹر کرن سنگھ جی آج کل سرخیوں میں ہیں۔ حال ہی میں موصوف نے جموں وکشمیر کے مرکزی زیرانتظام علاقے کو ریاست کا درجہ بحال کرنے اور یہاں جمہوری طرز کے انتخابات کرانے پر زور دے کر پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا ہے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ کون ہیں اور ان کا یہ بیان کیوں اہم ہے‘ اس بارے میں بعد کی سطور میں بحث ہوگی لیکن ہمارے قارئین کرام کےلئے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ موصوف کا ہر بیان جہاں بھارت میں غور سے پڑھا اور سنا جاتا ہے وہیں پر دنیا بھر میں موجود جموںو کشمیر کے باسی بھی اس بیان کو نظر انداز نہیں کرتےہیں۔ جموں وکشمیر کے متعدد حلقے جن میں خاص طور پر پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر، گلگت اور بلتستان نیز بیرونی دنیا میں رہنے والے کشمیری قوم پسندوں کی ایک اچھی تعداد شامل ہے‘ ڈاکٹر کرن سنگھ کو متحدہ جموں کشمیر کی پہچان اور تاجدار کے طور پر مانتے ہیں اور ان کی خاصی’’ عزت‘‘ کرتے ہیں۔
موصوف ایک نہایت فصیح اللسان مقرر اور دانشور ہیں اور ان کے قلم سے نکلنے والی کتابیں اور مضامین کا اپنااچھوتا انداز اور طرز ہوتا ہے۔متحدہ ریاست جموں کشمیر کےآخری یوراج ہونے کی بنا پر نیزسابق صدر ریاست کی حیثیت سے ویسے بھی وہ جموں کشمیر کے باشندوں کےلئے بلا تفریق مذہب و ملت ایک نقطہ اتحاد ہیں لیکن شومئی قسمت کہ پچھلی کچھ دہایئوں سے موصوف کی سیاست گومگو کی کیفیت کا شکار رہی ہے جس کی وجہ سے ان کا مرتبہ ،قد اور وقار کچھ مجروح سا ہوا ہے۔ خاص طور پر2019 سے قبل اور اس کے بعد جس انداز سے موصوف نے جموںو کشمیر کے حوالے سے متضاد گفتگو کی ہے اس نے ان کے بارے میں منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔پھر جموں اور لداخ کے ساتھ مبینہ زیادتی پر بیانات داغنے اور دوسری جانب کشمیریوں کے معاملات پرچپ سادھنےکا عمل بھی ان کے سابق ریاست جموں کشمیر لداخ کے یوراج اور سربراہ ہونے کے منصب سے میل نہیں کھاتا جس سے ان کی شخصیت ہم گیرکے بجائے علاقائی بنتی جارہی ہے۔
اپنے حالیہ، مذکورہ بیان کانگریس کے سینئر لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ کا دعویٰ ہے کہ جموں وکشمیر میں بیورو کریسی اور عوام کے درمیان کمیونیکیشن خلا ہے، جس کو پاٹنے کے لئے اسمبلی انتخابات کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ساتھ ہی انہوں نے جموں وکشمیر کے لئے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ موصوف نے ان باتوں کا اظہار میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی کشمیر کو جنگ کے بغیر واپس لانا ممکن نہیں ہے جس سے صرف تباہی و بر بادی ہوسکتی ہے۔ جموں و کشمیر میں بی جے پی کی پالیسیوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ ایک سخت اقدام تھا اور جموں وکشمیر میں گذشتہ تین برسوں سے مرکزی حکومت کے تحت ہے۔سابق صدر ریاست نے کہا کہ اس میں کوئی ،شک نہیں ہے کہ کئی اچھی چیزیں بھی ہوئی ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں اور عوام کے درمیان کمیونیکیشن خلا ہے۔انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کیسے بھی ہوں ایک اچھا رول ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ حکومت اور عوام کے درمیان ایک وسیلے کا کام انجام دیتے ہیں۔اُن کے مطابق آج ممبران اسمبلی کے بجائے بیروکریسی ہے اور وہ سب کی بات نہیں سن سکتے اور یہ ان کا کام نہیں اس خلا کو پر کرنے کی ضرورت ہے۔کرن سنگھ نے مزید بتایا کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے ہی حکومت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے لہٰذا جتنی جلد ممکن ہو سکے جموں وکشمیر میں ریاستی درجے کی بحالی اور اسمبلی انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔ریاست کو دو یونین ٹریٹری میں تبدیل کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کرن سنگھ نے کہاکہ’’میرا ماننا ہے کہ ہمیں پیچھے جانے کے بجائے آگے کی طرف دیکھنا چاہئے۔‘‘
ڈاکٹر کرن سنگھ کے اس بیان کے بعد وہ بعدمدت پھر سرخیوں میںنظر آئے ہیں۔ موصوف اگرچہ ہندو مذہب کے اعلیٰ ترین ودوان ،سنسکرت زبان کے عالم اور شریمد بھگوت گیتااور مقدس ویدوں کے محقق ہیں لیکن مزاج میں اعتدال، بات چیت میں نرمی اور سیاسی خیالات میں آزاد خیالی کی وجہ سے جموں کشمیر کے مسلمانوں کےلئے بھی قابل قبول شخصیت رہے ہیں۔ ان کی حیثیت ایک تاریخی شخصیت کی ہے کیونکہ موصوف 1947 سے قبل اور اسکے بعد کے سبھی سیاسی سماجی اور سفارتی حالات کے چشم دید گواہ بلکہ حصہ رہے ہیں۔9 مارچ1931کو پیدا ہونے والے کرن سنگھ ریاست جموں کشمیر کے آخری حکمران مہاراجہ سر ہری سنگھ کے بیٹے ہیں۔ وہ 1952تک جموں و کشمیر کے پرنس ریجنٹ تھے۔ 1952سے 1965تک وہ جمہوریہ ہند میں ریاست جموں و کشمیر کے صدرِ ریاست (صدر) تھے۔ وہ جموں اور کشمیر کے دھرمارتھ ٹرسٹ کے چیئرپرسن ٹرسٹی ہیں جو شمالی ہندوستان میں 175مندروں کی دیکھ بھال کرتا ہے اور دیگر شعبوں جیسے کہ تاریخی تحفظ میں کام کرتا ہے۔کرن سنگھ پارلیمنٹ کے ایوان بالا، راجیہ سبھا کے رکن رہے ہیں۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس پارٹی کے ایک سینئر رکن ہیں جنہوں نے یکے بعد دیگرے صدر (صدرریاست) اور سابق ریاست جموں و کشمیر کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے لائف لانگ ٹرسٹی اور صدر بھی رہے ہیں۔ وہ2018تک تین بار بنارس ہندو یونیورسٹی کے چانسلر منتخب ہوئے۔ وہ گزشتہ برسوں سےبھارت کے ممکنہ صدارتی امیدواربھی رہے ہیں۔کرن سنگھ کی پیدائش فرانس میں ہوئی اور وہ جموں کشمیر کے مہاراجہ سر ہری سنگھ کے اکلوتے بیٹے تھے۔ ان کی والدہ، مہارانی تارا دیوی، جو انکے والد کی چوتھی بیوی تھیں، ایک زمیندار کٹوچ راجپوت خاندان کی بیٹی تھیں اور ہماچل پردیش کے کانگڑا ضلع میں (بلاس پور کے قریب وجے پور) سے آئی تھیں۔ڈاکٹر کرن سنگھ کی ابتدائی تعلیم دوون اسکول، دہرہ دوون کے ایک بورڈنگ اسکول میں ہوئی، جو کہ اسوقت شہزادوں کے گھر پر ہی معلمین کے ذریعہ تعلیم حاصل کرنے کے معمول سے ہٹ کر تھا۔انہوں نےمعیاری تعلیم حاصل کی۔ ایک شہزادے کےبطور غیر معمولی انداز میںانہوں نے گریجویٹ ڈگری کے لیے ایک کالج میں داخلہ لیا، پہلے بی اے حاصل کیا۔ جموں و کشمیر یونیورسٹی، سرینگر سے ڈگری، اور اس کے بعد پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کی ڈگری اور دہلی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
ایک طرف سے ڈاکٹر کرن سنگھ سابق ریاست جموں کشمیر کے سبھی لوگوں جس میں ہندو، مسلمان، بودھ وغیرہ شامل ہیں کے لیڈر بنے رہنا چاہتے ہیں لیکن دوسری جانب انہیں جموںو کشمیر میں اپنے والد کی برسی پر چھٹی دینا، جموں اور ڈوگرہ کارڈ کھیل کر اپنی سیاسی زندگی کو دوام بخشنے کا معاملہ درپیش ہے جس کےلئے وہ چار و ناچار بی جے پی کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے۔
1950میں، 19برس کے کرن سنگھ کی شادی نیپال کے رانا خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک رئیس کی بیٹی13سالہ یاشو راجیہ لکشمی سے ہوئی۔انکے تین بچے ہیں۔ یوراج وکرمادتیہ سنگھ، بڑا بیٹا اور ولی عہد،اجاتشترو سنگھ، دوسرا بیٹا جو سیاست میں آئے اور نگروٹا حلقہ سے ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے اور ریاستی حکومت میں وزیر بن گئے۔ اس کے علاوہ ان کی اکلوتی بیٹی جیوتسنا سنگھ ہیں ۔اپنی سیاسی زندگی میں ڈاکٹر صاحب خاصے متنازع رہے ہیں ۔1949 میں اٹھارہ سال کی عمر میں، انہیں ریاست جموں و کشمیر کا پرنس ریجنٹ مقرر کیا گیا جب ان کے والد نے ریاست کے ہندوستان سے الحاق کے بعد حکمرانی چھوڑ دی۔وہ اس وقت سے1967 تک مسلسل ریجنٹ، صدرِ ریاست، اور ریاست جموں و کشمیر کے پہلے گورنر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔8 اگست 1953کو جموں و کشمیر کے صدر (صدر ریاست) کے طور پر، کرن سنگھ نے منتخب اسوقت کے وزیر اعظم شیخ عبداللہ کے خلاف بغاوت کی حمایت کی۔ 1967میں، انہوں نے جموں و کشمیر کے گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اور1967اور1973کے درمیان سیاحت اور شہری ہوا بازی کے قلمدان سنبھالتے ہوئے، مرکزی کابینہ کے اسوقت تک کے سب سے کم عمر رکن بن گئے۔ وہ امریکہ میں ہندوستان کے سفیر بھی رہے ۔ ڈاکٹر کرن سنگھ کو 2005میں پدم وبھوشن ملا۔بھارت میں ایمرجنسی کے بعد، کرن سنگھ1977میں کانگریس کے ٹکٹ پر ادھم پور سے لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے اور 1979میں وزیر تعلیم اور ثقافت بن گئے۔ کرن سنگھ نے لوک سبھا1980 کا الیکشن کانگریس (یو) کے ٹکٹ پر لڑا اور جیت گئے۔1984میں، انہوں نے جموں سے آزاد امیدوار کے طور پر لوک سبھا کا انتخاب لڑا لیکن وہ الیکشن ہار گئے۔ وہ30نومبر1992 سے12 اگست1999تک راجیہ سبھا کے رکن رہے، اس دوران وہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی نمائندگی کرتے رہے۔ بعد میں، وہ28جنوری2000سے 27جنوری2018تک انڈین نیشنل کانگریس کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیہ سبھا کے رکن رہے۔ انہیں اکثر اپنی وفاداریاں ایک سیاسی پارٹی سے دوسری میں تبدیل کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ بنارس ہندو یونیورسٹی، جموں و کشمیر یونیورسٹی، جواہر لال نہرو یونیورسٹی، اور این آئی آئی ٹی یونیورسٹی کے چانسلر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں؛موصوف کی سیاست چاہے کتنے تضادات سے پرُہو لیکن ان کے خیالات، قلم کی روانی اور ادب و مذہب کے علوم میں مہارت سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سیاسات کے ایک پروفیسرسے جب ہم نے موصوف کی زندگی کو کچھ سطور میں سمیٹنے کی بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر کرن سنگھ سیاست کی گندگی کے بجائے اپنے آپ کو قلم اور علم کی وسعتوں تک ہی محدود رکھتے تو شاید وہ سماج کازیادہ بھلا کرسکتے تھے۔ڈاکٹر کرن سنگھ کی علمی و ادبی خدمات اور صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے پروفیسرمذکور کا کہنا ہے کہ سیاست اور وہ بھی جموںو کشمیر کی سیاست میں رہنا کوئی آسان معاملہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ تو اوّل روز سے ہی اس معاملے میں خاصے متنازع رہے ہیں۔ 1953 میں شیخ عبداللہ کی معزولی ہو کہ راجیہ سبھا ممبری کےلئے نیشنل کانفرنس سے کانگریس کا سفر سب ان کی سیاسی ابن الوقتی کا ہی پتہ دیتے ہیں۔ہم نے جب ڈاکٹرکرن سنگھ کے حالیہ بیانات سےمتعلق ایک سیاسی مبصر کی رائے جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بھی پروفیسرکے الفاظ کی تائید کی۔2019سے قبل راجیہ سبھا میں کشمیر پر دئے گیئ ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی مبصر کا کہنا تھا کہ اسوقت موصوف دل اور دماغ سے بات کرنے کی صلاح دیتےتھے اور کہا کرتے تھے کہ جموں کشمیر کو اندرونی معاملہ کہنا بھی دراصل اس معاملےکو حد سے زیادہ آسان بنانا ہے کیونکہ جموں کشمیر کا ایک بڑا حصہ پاکستان اور چین کے پاس مقبوضہ ہے اور ہمیں جموں کشمیر کی وحدت کو بحال کرکے اس کو پورے کا پورا بھارتی یونین کے ساتھ ملحق کرنا پڑے گا۔ لیکن اس کے بالکل برعکس وہ لداخ کو جموں وکشمیر سے کاٹ کر علیحدہ یو ٹی بنانے کی کارروائی کے بڑے طرفدار کے طور پر سامنے آئے اور کانگریس میں ہونے کے باوجود اس حکومتی اقدام کی کھلے بندوں تعریف کرتے رہے۔یہی معاملہ آئین کی دفعہ 370 اور35 اے کا بھی ہے ۔وہ پہلے اس کی حفاظت کے بڑے مدعی اور اب اس کو ہٹانے کے بڑے مداح نظر آرہے ہیں۔ جب جموںو کشمیر میں باہر کے ووٹرس کے اندراج کی بات اٹھی تو موصوف کا کہنا تھا کہ یہ سراسر غلط ہے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے موصوف کا کہنا تھاکہ کسی بھی غیر مقامی شہری کو یہاں پر ووٹ ڈالنے کا حق دینا سراسر ناانصافی ہوگی کیوں کہ حکومت یہاں کے عوام کےلئے منتخب ہونی ہے توباہری لوگ کس حق سے ہمارے لئے حکمران چنیں گے۔راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کرن سنگھ نے کہا کہ یہ دیکھنا بھی اچھا ہے کہ کانگریس پارٹی میں انتخابات ہوتے ہیں اور یہ طویل عرصے کے بعد ہو رہے ہیں۔سیاسی مبصر کا خیال ہے کہ غالباً ڈاکٹر کرن سنگھ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں۔ ایک طرف سے وہ سابق ریاست جموں کشمیر کے سبھی لوگوں جس میں ہندو، مسلمان، بودھ وغیرہ شامل ہیں کے لیڈر بنے رہنا چاہتے ہیں لیکن دوسری جانب انہیں جموںو کشمیر میں اپنے والد کی برسی پر چھٹی دینا، جموں اور ڈوگرہ کارڈ کھیل کر اپنی سیاسی زندگی کو دوام بخشنے کا معاملہ درپیش ہے جس کےلئے وہ چار و ناچار بی جے پی کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ جب جموں کشمیر کی یوٹی انتظامیہ نے ان کے والد کا دن منانے کا اعلان کیا تو موصوف کا کہنا تھا کہ یہ ایک خوش آئند معاملہ ہے۔ کسی سیاسی پارٹی کو اس کا کریڈٹ نہیں لینا چاہئے کہ صرف ہماری وجہ سے ہوا ہے، یہ سبھی لوگوں کا مطالبہ تھا، مرکز میں اور جموں وکشمیر میں بی جے پی کی حکومت ہے، اس کا کریڈٹ انہیں جائے گا، لیکن ہمیں اس سے آگے بڑھ کر ریاست کی ترقی کی بات کرنی چاہئے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ کا کہنا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا کچھ حد تک ازالہ ہوچکا ہے، شیخ عبداللہ نے میرے والد کو مجبورکیا، انہیں جموں وکشمیر ریاست چھوڑنی پڑی، پہلے ان سے کہا گیا ہے مہینے کے لئے چلے جائیں، لیکن میں ان کی باقیات لے کر ریاست میں آیا۔ ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا دوسرا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ ڈوگرہ طبقہ کا اپنا وجود ہے، انہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
ابھی حال ہی میں بھی موصوف جموں میں منعقدہ ایک مجلس میں ڈوگرہ سماج اور جموں کے ساتھ انصاف کی باتیں کرتے نظر آئے۔توی فیسٹیول کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر کرن سنگھ نے جو جموں کے فن، ثقافت اور روایات کے سر پرست ہیں نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جس میں ڈوگر و ثقافت اور روایت کی دولت اور ثقافت کے تحفظ اور فروغ میں تہواروں کے کردار کے بارے میں آگہی دی۔ انہوں نے کہا کہ میری بیٹی ڈاکٹر جیو تنا سنگھ نے یہاں ہر چیز کا اہتمام کیا ہے تاکہ میلے کوثقافتی علم اور معلومات کے اشتراک کا ایک پلیٹ فارم بنایا جا سکے اور تفریح کے لیے ثقافتی پروگراموں کا ایک گروپ فراہم کیا جاسکے۔ لوگوں کو ڈوگرہ کھانوں اور روایتی ڈوگرہ ملبوسات کے بارے میں آگاہ کرنے کو یقینی بنایا گیا ہے جو ڈوگر و ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ الغرض موصوف سابق ریاست کے ہمہ گیر قائد اور لیڈر کے بجائے اپنے آپ کو جموں اور ڈوگرہ سماج تک محدود کرنے کا کام کررہے ہیں جس کے یہ معنی لئے جارہے ہیں کہ شاید موصوف آنے والے ایام میں کانگریس پارٹی کو چھوڑ کر یا تو بی جے پی میں شامل ہوں گے یا پھر جموں اور ڈوگرہ سماج کے نام پر اپنی انفرادی سیاست کرتے رہیں گے۔اگرچہ اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ ڈاکٹر کرن سنگھ کا سیاسی و سماجی قد رومنزلت اس سے کئی درجہ بڑا ہے لیکن بہرحال کوئی ان کے بارے میں ازخود فیصلہ نہیں کرسکتا۔کیونکہ اپنی سیاسی زندگی کی نہج اور راستہ طے کرنے کا اختیار صرف انہیںکے پاس ہے۔
ڈاکٹر کرن سنگھ سابق ریاست کے ہمہ گیر قائد اور لیڈر کے بجائے اپنے آپ کو جموں اور ڈوگرہ سماج تک محدود کرنے کا کام کررہے ہیں جس کے یہ معنی لئے جارہے ہیں کہ شاید موصوف آنے والے ایام میں کانگریس پارٹی کو چھوڑ کر یا تو بی جے پی میں شامل ہوں گے یا پھر جموں اور ڈوگرہ سماج کے نام پر اپنی انفرادی سیاست کرتے رہیں گے۔









