امت نیوز ڈیسک //
یوپی کے سابق رکن پارلیمنٹ عتیق احمد کے فرزند اسد اور غلام ولد مقصو دونوں کا جھانسی میں ایک مبینہ انکاؤنٹر میں مارے جانے کی خبر ہے۔ یہ دونوں امیش پال قتل معاملے میں یوپی پولیس کو مطلوب تھے۔
بتادیں کہ امیش پال قتل کیس میں پولیس ملزموں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے لگاتار کام کر رہی ہے۔ مقدمے میں عتیق احمد کا فرزند اسد مفرور تھا۔ پولیس کی کئی ٹیمیں ان کی تلاش میں مصروف تھیں۔ امیش پال کے قتل معاملہ اسد اور غلام کے ملوث ہونے الزام میں جانکاری ملنے کے بعد جھانسی پولیس انتظامیہ اور یوپی ایس ٹی ایف کی ٹیم چوکس ہوگئی۔ اس کے بعد جھانسی میں پولیس ٹیموں کا اسد اور غلام کو انکاؤنٹر میں میں ہلاک کردیا۔ امیش پال قتل کیس میں یوپی ایس ٹی ایف کی یہ کارروائی بڑی مانی جا رہی ہے۔ ایس ٹی ایف نے ان دونوں سے کئی غیر ملکی ہتھیار بھی برآمد کیے ہیں۔
ادھر ایس ٹی ایف کی اس کارروائی میں اسد اور غلام کی ہلاکت پر وکلاء نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے وزیراعلیٰ کا یہ بیان کہ وہ مافیاؤں’مٹی میں ملا دیں گے’ درست ثابت ہوا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اترپردیش پولیس کی اس کاروائی و ہ خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے وزیر اعلی نے یوگی آدتیہ ناتھ نے اسمبلی کے اندر جو بیان دیا تھا آج اترپردیش پولیس نے اسے سچ کر کے دکھا یا ہے۔









