مسلمان جو کہ اس بات پر فخر کرتے ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت ہم پر ہے اور ہم سے جنت کے وعدے کیے گئے ۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین ، دین اسلام ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں لیکن غور و فکر کی بات یہ ہے کہ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ہم ہے، تو ہم آج اتنے ’ خار‘ کیوں؟کیا ہم پریہ اللہ کی رحمت ہے یا ذلت ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ تو ہمیشہ سچا ہے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم وہ پکے مسلمان نہیں ! جن مسلمانوں کے لیے یہ کہا گیا تھا کہ یہ جنت کے حق دار ہے وہ آج کے مسلمان نہیں ۔مسلمان نام کا مطلب ہی ہے فرما بردار۔۔۔ کس کا فرمابردار ؟ مغربی تہذیب کا؟ اپنے نفس کا؟ اپنے سرداروں کا ؟لا علم لوگوں کا؟ کافروں کا ؟حکومت کا ، لیٹروں کا ۔نہیں ! بلکہ فرمابردار صرف اور صرف اس کا جس کا ہم کلمہ پڑھتےہے ۔ جو ہمیں جینا سیکھتا ہے، جو ہمارا حقیقی مالک ہے، جس کے ہم غلام ہے، جو ہمارا آقا ہے ، جس کی مرضی سے دنیا چلتی ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں ۔ ہم دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں مانتے نہیں ! ہماری عمل کافروں کی اور دعویٰ مسلمانی کا !
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر
کافر کا مطلب ہی ہے نافرمان، جس کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتا کہ اس کا اللہ اس سے راضی ہویا بیزار ۔کافر اپنے خواہشات ، نفس، شیطان ، دنیا ،مفاد ، سود کی پہیے وہ پیروی کرتا ہے اور جس چیز سے اس کا اللہ ناراض ہوتا ہے وہ ہی کام کرتا ہے۔ لیکن اگر ایک مسلمان بھی یہی عمل کرتا ہے تو کافر اور مسلمان میں کون سا فرق رہا؟ مسلمان اور کافر میں فرق علم اور عمل سے ہوتا ہے ۔ ہم مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے، ہمارا مسلمان نام رکھا گیا تو اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمیں مسلمانیت وراثت میں ملی ہے ، اور کوئی کافر گھر میں پیدا ہوا اوراس کا نام کچھ رکھا گیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اب ہمیشہ کا فر ہے۔ اگر وہ علم حاصل کرتا ہے ، حقیقی علم سے آراستہ ہوتا ہے ، دین اسلام کو سمجھتاہے، اپنے رب پر ایمان لاتا ہے اور صالح عمل کرتا ہے تو وہ بلکل پھر حقیقی معنیٰ میں مسلمان کہلاتا ہے ۔
ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے
پاسباں مل گئے کیسے کعبے کو صنم خانے سے
غور و فکر کے بغیر ابراہیم علیہ اسلام نے بھی اللہ تعالی کو نہیں پایا ، ورنہ وہ تواُس خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو بت پرست تھے ، لیکن غور و فکر ، عقل و شعور نےابراہیم علیہ سلام کو اللہ تعالیٰ سے ملایا ۔ حضرت محمد ﷺ کی سیرت مبارک میں بھی ہم یہ پڑھتے ہے کہ کس طرح آپ صلی الله غار میں جا کے غور و فکر کرتے تھے اور بت پرستی سے دور بھاگتے تھے ۔ غرض کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان میں عقل و فہم کا سامان عطافرمایا ہے لیکن المیہ ہے کہ ہم اس کا استعمال ہی نہیں کرتے ۔ مسلمان پر تو اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان تھا کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا تھا، اپنی کتاب دی تھی، وہ کتاب جو شک و شبھات سے پاک ہے، کھلے احکامات اور نشانات دیئے کہ ہم نجات کی طرف لپکیںاور کوئی وہم و گھمان نا ہو ۔کیا ہم ان پر غور کرتے ہےہیں، کیا ان پر ہم عمل آور ہیں ؟
جب ہم نے وہی چیزیں ،کام ، رسم و رواج اپنی زندگیوں میں شامل کئے جو ایک کافر کرتا ہے ہم کون سے مسلمان کہلانے کے قابل ہے ؟
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو ہمت، جذبے، رحم دلی، بہادری، جذبات ، سچائی سے نورازہ تھا ۔ لیکن ہم نے خود کو اس قابل ہی نہیں بنایا کہ ہم اس کا استعمال کریں اور دنیا کو اپنے قدموں میں رکھیں۔ جب سے ہم نے قرآن کو صرف ایک کتاب سمجھ کر تاک پر رکھ دیا اور اُسے سمجھنا بھی گوارہ نہ سمجھا تو بس ہم دنیا میں ذلیل و خار ہوئے !جب سے ہم نے اپنی من مانی ، اپنے نفس ، شیطان ، خواہشات کی پیروی کی تو بس ہم پس پست ہو گئے ! جب سے ہم نے خود کو کافر کی طرح آزاد سمجھنے لگے تب سے ہم صرف اور صرف غلام بن گئے ۔ جب سے ہم نے بے پرواہی اختیار کی تب سے غفلت میں پڑھئے رہے۔ جب سے ہم نے حلال اور حرام میں فرق کرنا چھوڑ دا تب سے ہم ذلت کا شکار ہوئے ! ہم نے اپنے دین کو حقیر سمجھا اور مغربی تہذیب کو درجہ دیا ۔ ہم نےاللہ تعالی کو بھول کر دوسرے لوگوں کی پوجا کی اور ہم خود ہی گر گئے۔ ہمارا مقام آسمان کی بلندیوں کو چھوتا تھا اور ہم نے خود کو عرش سے گرا دیا ۔ ہمارے سر اللہ کے سامنےجھکتےتھے اور اللہ کے لیے ہی تن سے جُدا ہوتے تھے لیکن آج کسی اور کےسامنے میں یہ سرجھکاتےہیں۔ اپنی بربادی کا ذمہ دار ہم خودہیں ۔ اور میرا غرض صرف اور صرف یہ ہے کہ
مسلمان خود کااحتساب کریں، غفلت سے بچیں،بیدار ہو جائیں اور اپنی ذمے داریوں سےخود آپ کو آزاد نہ سمجھے۔۔۔۔. اپنے کلمہ پر غور و فکر کرئے اور یاد کرئے کہ کلمہ پڑھتے وقت اُس نے کس چیز کا اعتراف کیا ہواہے؟
کیا بتاؤں مسلمان تجھ سے حال تیرا
بربادی تیری خود یہ زوال تیرا
بے حسی تیری یا دل دغدار تیرا
مقدر بھی ہے تجھ سے بے زار تیرا
غلام ہے تو دل بھی ہے آزاد تیرا
کیا ہے اپنا چمن آباد تیرا
کیا تیری حقیقت تجھ پر عیاں نہیں ہے
کیا تو اس جہاں کا پہنشاہ نہیں ہے
(لکھاری’’تلاش کشمیر‘‘ کتاب کی مصنفہ ہیں۔)






