• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
بدھ, جنوری ۲۸, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
کشمیر میں جی20 اجلاس کےلئے حفاظتی اقدامات سخت:

کشمیر میں جی20 اجلاس کےلئے حفاظتی اقدامات سخت:

اجلاس کو مناسب اور فول پروف حفاظت فراہم کرنا حکومت اور انتظامیہ کےلئے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کےلئے ہمہ گیر اور مربوط اقدامات اٹھائے جارہے ہیں:حکام

by امت ڈیسک
12/05/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

شاہد لطیف

کشمیر میں22 سے 24 مئی کے دوران ہونے والے جی 20 اجلاس کےلئے حفاظتی اقدامات کو سخت کردیا گیا ہے۔ جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع راجوری اور پونچھ میں حالیہ حملوں اور ہلاکتوں نیز شمالی کشمیر میں پچھلے کچھ ایام کے دوران پے در پے ہونے والے پولیس مقابلوں کے بعد ان حفاظتی اقدامات میں مذید سختی لائی جارہی ہے۔ اس ضمن میں جہاں جگہ جگہ ناکے،تلاشیاں اور دوسرے حفاظتی اقدامات دیکھے جارہے ہیں وہیں پر مختلف سطح پر اس حوالے سے حکام مسلسل اجلاس منعقد کررہے ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ یہ عالمی تقریب اور دورہ خیر و خیریت کے ساتھ گزر جائے۔جی 20 کے اجلاس کے حوالے سے جہاں وادی خاص طور پر سرینگر میں تزئین و آرائش کا کام سرعت کے ساتھ جاری ہے وہیں پر اس اجلاس کو مناسب اور فول پروف حفاظت فراہم کرنا بھی حکومت اور انتظامیہ کےلئے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کےلئے ہمہ گیر اور مربوط اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق پچھلے ماہ کی 13 تاریخ کو اس ضمن میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی سربراہی میں ایک اجلاس نئی دہلی میںمنعقد کیا گیا جس میں جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا اور نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جناب اجیت ڈوؤال کے ساتھ ساتھ دیگرمتعلقین نے شرکت کی۔ مذکورہ اجلاس میں کشمیر میں ہونے والے جی20 کے اجلاس کو پرامن اور مناسب طریقے پر منعقد کرانے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو زیر بحث لایا گیا۔ اجلاس میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جموں و کشمیر کی سیکورٹی صورتحال اور مئی میں سرینگر میں ہونے والے جی 20اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔اس کے علاوہ آنے والی امرناتھ یاترا کی سیکورٹی انتظامات وغیرہ پر بھی بات ہوئی۔تین گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی میٹنگ میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوؤال ، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا ، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن کمار ڈیکا ، جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری ارون کمار مہتا، جموں و کشمیر کے پولیس ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ اور ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ (آر اینڈ اے ڈبلیو) کے سکریٹری سمنت گوئل نے شرکت کی۔یہ بات واضح رہے کہ وزیر داخلہ ہر تین ماہ بعد جموں و کشمیر پر جائزہ اجلاس کی قیادت کرتے ہیں، آخری بار یہ میٹنگ جموں میں ہوئی تھی۔اجلاس میں وزیر داخلہ نے سیکورٹی گرڈ کے کام کاج اور سیکورٹی سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

راجوری ، پونچھ اور پھر کشمیر وادی میں بھی حفاظتی صورت حال میں کچھ پریشانیوںکے بعد سیکورٹی ایجنسیوں اور فورسز نے جی 20 اجلاس کے کامیاب اور پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کےلئے سرعت اور مستعدی کے ساتھ کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں کہا جارہا ہے کہ این ایس جی اور مارکوس کمانڈوز دستے بھی طلب کرلئے گئے ہیں جو اجلاس کے علاقوں اور مقامات کو حفاظتی حصار فراہم کرنے کے کام پر مامور ہوں گے۔

واضح رہے کہ جی 20 کے سیاحتی ورکنگ گروپ کا یہ اجلاس 22 سے 24 مئی تک جاری رہےگا ۔ اس اجلاس کےلئے بتایا جارہا ہے کہ دعوت نامے ارسال کرنے کا کام بھی دردست لیا جاچکا ہے ۔ جی20 ممالک کے نمائندوں کے علاوہ بین الاقوامی اداروں اور مہمان ممالک کے مندوبین بھی ہوں گے جو ڈل جھیل پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں ملاقات کریں گے، جو اجلاس کا مرکزی مقام ہے۔ توقع ہے کہ200مندوبین ہوں گے، اور اس میں جی20ممالک کے مندوبین، بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ساتھ مہمان ممالک کے مندوبین بھی شامل ہوں گے۔سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق جموں و کشمیر کے راجوری اور پونچھ سیکٹر میں حالیہ حملوں کے پیش نظر سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے جس میں کئی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

اس ماہ کے شروع میں ایڈیشنل ڈی جی پی کشمیروجے کمار کی سربراہی میں جموںو کشمیر پولیس کی ایک خصوصی میٹنگ ہوئی جس میں جی 20سیکورٹی کا جائزہ لیا گیا۔ فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے افسران میٹنگ میں موجود تھے جہاں بھارتی بحریہ کے مارکوس نامی فورس کو نہ صرف ڈل جھیل بلکہ دریائے جہلم پر بھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس کے علاوہ این ایس جی کمانڈوز بھی تعینات ہوں گے جو سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) اور دیگر سیکورٹی فورسز کو اضافی سیکورٹی فراہم کریں گے۔واضح رہے کہ ہندوستانی بحریہ کے میرین کمانڈوز (مارکوس )سمندری کارروائیوں میں مہارت رکھتے ہیں اور این ایس جی کے بلیک کیٹ کمانڈوز ملک کی یرغمال مخالف خصوصی دستے وادی میں تعینات کیے جانے جا رہے ہیں ۔مارکوس فورسز کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ہندوستانی بحریہ کے اعلیٰ تربیت یافتہ میرین کمانڈوز ہیں جو بحیرہ عرب میں بحری قزاقی مخالف کارروائیوں کو انجام دینے کے لیے ہر جنگی جہاز پر موجود ہوتے ہیں۔اخباری اطلاعات کے مطابق یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس مقتدر فورس کو وادی میں تعینات کیا جائے گا۔ عوامی حلقوں میں آنے والی اطلاعات کے مطابق پہلی بار وادی میں ان میرین کمانڈوز کو 1990کی دہائی کے وسط میں ولر جھیل میں تعینات کیا گیا تھا۔ یہ جھیل 25مربع کلومیٹر لمبی ہے اورعسکریت پسند اسے وادی کشمیر میں داخلے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔یہ کمانڈوز پانی کے اندر حملوں کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ ہیں۔ اس لیے وادی میں کسی بھی ہنگامی صورت حال کےلئے بیک اپ کے بطوران کی تعیناتی بہت ضروری ہے۔

درایں اثناء میڈیا خبروں کے مطابق مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا اور انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا اس ماہ کے آخر میں ہونے والے جی 20کے اجلاس کے لیے سیکورٹی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے کشمیروارد ہوئے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جی 20 اجلاس کی سیکورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ موصوف عہدے داروںنے جموں و کشمیر انتظامیہ، پولیس، فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران سے ملاقات کی اور سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

کہا جاتا ہے کہ مندوبین کی مجوزہ میٹنگ کے لیے وسیع حفاظتی اقدامات کو حتمی شکل دی گئی تاکہ فدائین حملوں کے ممکنہ خطرات اور عسکریت پسندوں کی طرف سے گاڑیوں اور ڈرون کے استعمال سے لاحق خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔سمارٹ ٹکنالوجی کے ساتھ ایمبیڈڈ ڈرونز اور شہری شہریوں میں پولیس اہلکار مندوبین کے کشمیر میں قیام کے دوران سیکورٹی ڈرل کا خاصہ ہوں گے۔ساتھ ہی سرینگر میں متعدد فورسزبنکروں کو ایک نئی شکل دی گئی ہے اور سڑکوں سے کئی رکاوٹیں پہلے ہی ہٹا دی گئی ہیں۔سرینگر کی ڈل جھیل کے قریب، شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر سربراہی اجلاس کے مقام کے ارد گرد آبی ذخائر کے لیے ایک مضبوط حفاظتی احاطہ فراہم کرنے کے لیے میرین کمانڈوز کو تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے منگل کو سرینگر میں فوج، سنٹرل ریزرو پولیس فورس، بارڈر سیکورٹی فورس اور جموں و کشمیر پولیس کے کئی ونگز کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔ مسٹرکمار نے سمٹ کے لیے فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا ۔اس ضمن میں گاڑیوں سے پیدا ہونے والے دھماکا خیز آلات اور ممکنہ حملوں کے دیگر طریقوں سے ابھرتے ہوئے خطرے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہےجن میں ممکنہ فدائین حملے، اسٹینڈ آف فائر اور گرینیڈ حملے وغیرہ بھی شامل ہیں۔نیشنل سیکورٹی گارڈ( این ایس جی )کی ٹیمیں پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپس کے ساتھ فدائین حملوں کے انسداد کے لیے اور تمام مقامات پر ڈرون سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تعینات کی جائیں گی۔پولیس کے مطابق، اونچی جگہوں پر تسلط، کوریڈور کی حفاظت، علاقے کا تسلط وغیرہ کے حوالے سے فوج کی کلو فورس کو تمام مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے ۔دریں اثنامسٹرکمار نے ہدایت دی کہ سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اس طریقے سے کی جائے جس سے مقامی باشندوں اور سیاحوں کو تکلیف نہ ہو۔ انہوں نے چوکس رہنے پر زور دیا اور سربراہی اجلاس کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات اٹھائے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے حساس مقامات پر اضافی حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی، ٹریفک مینجمنٹ اور ہجوم پر قابو پانے کے اقدامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ۔حکام کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ سیکورٹی خطرات کے بارے میں معلومات اکٹھی کریں اور انہیں بے اثر کرنے کے لیے ضروری اقدامات کریں۔پولیس حکام کا مذید کہنا ہے کہ فورسز اس تقریب سے قبل حملہ کرنے کے عسکریت پسندوں کے کسی بھی ممکنہ منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے چوکس ہیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

پاکستان کے حالات کے پیش نظر سرحدوں پر چوکسی

Next Post

آسمان کو چھوتا ہوائی کرایہ؛ آخر کیوں؟

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی کی مدت 24 فروری 2026 کو ختم ہوگی: حکومت

جموں و کشمیر میں ڈی ڈی سی کی مدت 24 فروری 2026 کو ختم ہوگی: حکومت

27/01/2026
کشمیر میں برف باری کے دوران تاخیر سے برف ہٹانے پر پی ڈبلیو ڈی کی کارروائی، متعدد انجینئر معطل، غفلت برتنے پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت

کشمیر میں برف باری کے دوران تاخیر سے برف ہٹانے پر پی ڈبلیو ڈی کی کارروائی، متعدد انجینئر معطل، غفلت برتنے پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت

27/01/2026
یہ مشترکہ خوشحالی کا خاکہ ہے، ہندوستان-یورپی یونین معاہدے پر پی ایم مودی کا بیان

یہ مشترکہ خوشحالی کا خاکہ ہے، ہندوستان-یورپی یونین معاہدے پر پی ایم مودی کا بیان

27/01/2026
اودھم پور سڑک حادثہ: سی آر پی ایف جوان سمیت 4 افراد ہلاک، متعدد زخمی

اودھم پور سڑک حادثہ: سی آر پی ایف جوان سمیت 4 افراد ہلاک، متعدد زخمی

27/01/2026
محبوبہ مفتی کا اینٹی لینڈ ایویکشن بل اسمبلی  میں پیش کرانے کا اعلان

محبوبہ مفتی کی بابا بلھے شاہ کے مزار کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت، بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا

27/01/2026
سری نگر ہوائی اڈے پر برفباری سے پروازیں متاثر، انڈیگو اور ایئر انڈیا کی تمام پروازیں منسوخ، مزید منسوخیوں کا خدشہ

سری نگر ہوائی اڈے پر برفباری سے پروازیں متاثر، انڈیگو اور ایئر انڈیا کی تمام پروازیں منسوخ، مزید منسوخیوں کا خدشہ

27/01/2026
Next Post
کشمیر میں جی20 اجلاس کےلئے حفاظتی اقدامات سخت:

آسمان کو چھوتا ہوائی کرایہ؛ آخر کیوں؟

یومِ مادر

یومِ مادر

کشمیر میں جی20 اجلاس کےلئے حفاظتی اقدامات سخت:

کم سن نسل میں سرکشی کا میلان

کشمیر میں جی20 اجلاس کےلئے حفاظتی اقدامات سخت:

مکان کی حد صرف ڈھائی انچ بڑھانے پر 80 ہزار پونڈ کی تعمیر مسمار کرنے کا حکم

شوہر کی موت کے غم میں کتاب لکھنے والی بیوی ہی قاتل نکلی

شوہر کی موت کے غم میں کتاب لکھنے والی بیوی ہی قاتل نکلی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »