ایک اندازے کے مطابق 2022ء میں ایک کروڑ 88 لاکھ سیاحوں نے جموں وکشمیر کا دورہ کیا جن میں سے ایک بڑی تعداد وادی کشمیروارد ہوئی۔آج کل کی مصروف بھری زندگی میںزیادہ تر سیاح ہوائی جہازکےذریعے ہی آتے ہیں کیوں کہ ایک طرف جہاں انکا وقت بچ جاتا ہے وہیں انہیں وادی کشمیر کی خوبصورتی کو دیکھنے کے لیے وقت بھی زیادہ ملتا ہے۔ تاہم اب شائد سیاحوں کے لیے ہوائی سفر کرنا مشکل ہوگیا ہے، اسکی وجہ ہوائی سفر کا آسمان کو چھوتا کرایہ ہے۔کچھ روز قبل خبر آئی کہ دہلی سے سرینگر تک ہوائی کرایہ 26 ہزار روپے کو پہنچ گیا ہے۔اتنا کرایہ جو کہ کئی ممالک کے ہوائی سفر کےلیے لگتا ہے وہی اب 900کلومیٹر دور دہلی سے سرینگر تک لیا جا رہا ہےجس وجہ سے سیاح شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مارچ کے ماہ میں جہاں کرایہ 15000روپے تھا وہیں فروری میں 5000 روپے تھا۔ اور آج یعنی مئی کو مختلف ویب سائٹس پر 18 ہزار سے 20ہزار روپے کرایہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سستی ائرلائن کمپنی ’’گوفرسٹ‘‘ کمپنی کا دیوالیہ ہو جانا ہے۔واضح رہےگو فرسٹ ایئر لائن نے نقدی کی شدید قلت کی وجہ سے 3 سے 5 مئی تک تین دن کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی تھی اور خود کو دیوالیہ قرار دینے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ گو فرسٹ ایئر لائنز کے تازہ ترین بحران پر، پی اینڈ ڈبلیو نے بدھ کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا’’پریٹ اینڈ وٹنی اپنے ایئر لائن کسٹمرس کی کامیابی کے لیے پرعزم ہے اور ہم تمام کسٹمرس کے لیے ڈلیوری کے شیڈول کو ترجیح دیتے رہتے ہیں۔ پریٹ اینڈ وٹنی گو فرسٹ سے متعلق مارچ 2023 کے ثالثی ایوارڈ کی تعمیل کر رہا ہے۔ چونکہ اب یہ قانونی چارہ جوئی کا معاملہ ہے، ہم اس پر مزید تبصرہ نہیں کریں گے۔‘‘کمپنی نے اس کے بعد پروازیں 9 مئی تک کے لیے منسوخ کر دی۔اسکے بعد ایئر لائن کو ریگولیٹرڈی جی سی اے کی طرف سے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ یہ نوٹس ایئر کرافٹ رولز 1938ء کے تحت محفوظ، موثر اور قابل بھروسہ طریقے سے فضائی خدمات کو جاری رکھنے میں کمپنی کی ناکامی پر جاری کیا گیا ہے۔ نوٹس میں ایئرلائن کو 15دن میں جواب دینےکیلئےکہا گیا ہے۔ ایئر لائن کے جواب کی بنیاد پرڈی جی سی اے کی طرف سے کمپنی کو دیئے گئے ایئر آپریٹنگ سرٹیفکیٹ(اے او سی ) پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ڈی جی سی اے نے ایک بیان میں کہا کہ گوفرسٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹکٹوں کی بکنگ اور ٹکٹوں کی فروخت براہ راست اور بالواسطہ ذرائع سے فوری طور پر اگلے احکامات تک بند کردے۔
ادھر کرایے کے اضافے سے سیاح کافی ناخوش اور پریشان ہیں۔وادی کشمیر میں زیادہ تر سیاح مہاراشٹر اور گجرات سے آتے ہیں ۔ سیاحوں کے ایک گروپ کے ساتھ گلمرگ سیر کرنےآئے گجرات سے راجندر پرساد بھی بڑھتے ہوئے ہوائی جہاز کرائے سے پریشان ہیں۔ان کا کہناہے کہ اگرچہ انہیں ہوائی جہاز کےذریعے جانا چاہتے تھے لیکن آسمان چھوتے کرائے کے باعث اب وہ سڑک سے ہی جائیں گے۔اس وقت احمد آباد سے سرینگر 30 ہزار سے چالیس ہزار اور یہاں سے 20 ہزار سے تیس ہزار روپے کرایہ ہے۔ گوفرسٹ کی جانب سے پروازیں بند ہونے کے بعد اب آنے والے ہفتوں میں کرائے میں مَیں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔











