امت نیوز ڈیسک //
سرینگر:28 مئی کو بھارت کے نئے پارلیمنٹ ہاؤس کا افتتاح وزیر اعظم نریندر مودی کریں گے۔ اس کو لیکر کانگریس، عام آدمی پارٹی سمیت 19 حزب اخلتاف کی پارٹیاں اس کی مخالفت کی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح وزیر اعظم نہیں بلکہ صدر کریں۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کی جانب سے افتتاح پر پابندی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جسے سپریم کورٹ نے جمعہ کو مسترد کر دیا ہے۔
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی و نائب صدر نیشنل کانفرنس عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت متاثر کن ہے۔
عمر عبداللہ نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’پارلیمنٹ کی نئی عمارت متاثر کن ہے، اور یہ کہ پرانے پارلیمنٹ ہاؤس نے ہماری اچھی طرح سے خدمت کی ہے۔‘انہوں نے مزید لکھا کہ اکثر ممبر پارلیمان نئی اور بہتر پارلیمنٹ عمارت کی ضرورت پر ہمیشہ آپس میں بات کیا کر تے تھے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ نے حسنین مسعودی نے اس حوالے سے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا جو آئین ہے اس میں سب سے بڑا مقام پارلیمنٹ کا ہے، اور جو ہمارا پارلیمنٹ ہے یہ صدر جمہوریہ، لوک سبھا اور راجیہ سبھا پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی پارلیمنٹ کا افتتاح کرنا ہوتا تو یہ حق بتنا ہے کہ صدر جمہوریہ کا۔ انہوں نے کہا آئین میں صدر کا مقام سب سے اعلیٰ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔ یہ واقعی ناانصافی ہے کہ صدر مملکت کو پارلیمنٹ ہاؤس کی نئی عمارت کے افتتاح کے لیے نہیں بلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ پہلے بھی ایسا کیا گیا، لیکن ماضی میں پارلیمنٹ کے ایک حصے کا افتتاح صدر کے ہاتھوں سے نہیں ہوا تھا، لیکن اس بار پوری نئی عمارت کا افتتاح ہونا ہے۔






