امت نیوز ڈیسک //
بنگلورو:ایپل کمپنی کے ایک ملازم خالد پرویز نے بنگلورو آفس میں کام کی جگہ پر ہراساں کئے جانے، جیسے بدسلوکی، انتظامی غلطیوں اور اسلامو فوبک تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے استعفی دے دیا۔ خالد پرویز نے ایپل میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک کام کیا۔ وہ لنکڈ اِن پورٹل کو بتایا کہ کمپنی کے ایچ آر کے ساتھ اسلامو فوبک تبصروں کا مسئلہ کو اٹھانے کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ "انتظامیہ پر بھروسہ کریں” اور مناسب تحقیقات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ تاہم دو ماہ کی طویل انتظار کے بعد بھی کوئی کارروائی نہ کیے جانے سے وہ ناخوش تھے۔
ناراض ملازم نے بتایا کہ جب میں نے ذمہ داروں سے اسلامو فوبک تبصروں کے بارے میں پوچھا تو کسی نے میرے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا، لہذا میں سمجھ گیا کہ کبھی بھی کوئی تفتیش نہیں کی گئی اور جب کہ یہ بڑا کارپوریٹ کور اپ تھا۔ ‘‘ پرویز نے مزید کہا کہ ان کی ذہنی صحت کو لیکر مذاق اڑایا گیا اور انہیں ہراساں کیا گیا۔ پرویز نے بتایا کہ ان سب سے تنگ آکر انہوں نے استعفی دینا بہتر سمجھا۔
پرویز نے اپنے ساتھیوں اور دیگر کارپوریٹ عملے سے امتیازی سلوک اور بد سلوکی کے خلاف آواز اٹھانے کی بھی درخواست کی اور زور دیا کہ وہ ہر چیز کا نوٹس بھی لیں۔ وہیں ایپل انڈیا نے ابھی تک ان الزامات کے متعلق کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔







