امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: فوج نے جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ایک میجر رینک کے افسر کو علاقے سے منتقل کردیا گیا ہے جس پر الزام تھا کہ انہوں نے مقامی مسلمانوں کو بندوق کی نوک پر مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا تھا۔ یہ اطلاع ذرائع کے حوالے سے دی گئی ہے حالانکہ فوج نے اس سلسلے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ مقامی لوگوں نے تصدیق کی ہے کہ فوج اور پولیس کے اعلیٰ افسران نے ان کے ساتھ رابطہ کرکے اس واقعے پر معذرت کا اظہار کیا ہے۔ گاؤں کے لوگوں نے فوج کی یقین دہانی پر اعتبار کیا ہے لیکن انکا کہنا ہے کہ فوج کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ مستقبل میں اس قسم کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا۔
ایک قومی ٹی وی چنل کی ویب سائٹ نے ایک افسر کا حوالہ دیتے ہوئے رپوٹ کیا ہے کہ زڈورہ گاؤں میں تعینات 50 آر آر یونٹ کے فوجی میجر کو اس علاقے سے منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم کشمیر میں تعینات 15رویں کور کے ترجمان نے اس خبر پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے جبکہ متعلقہ پولس اور سیول انتظامیہ کے افسران نے بھی اس معاملے پر چپی سادھی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ فوجیوں نے ہفتہ کی صبح جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے زڈورہ گاؤں میں دو مساجد پر مقامی لوگوں کی مرضی کے برخلاف زبردستی داخل ہوکر نمازیوں کو "جے شری رام” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا۔ زڈورہ گاؤں میں ایک سول سوسائٹی گروپ کے چیئرمین اور خود کو عینی شاہد بتانے والے الطاف احمد بٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اتوار کو اعلیٰ فوجی افسران نے گاؤں والوں سے معافی مانگی اور انہیں بتایا کہ اس واقعے میں مبینہ طور پر ملوث میجر کو ہٹا دیا گیا ہے۔
فوج کا اظہار تاسف وادی کے سینئر مین اسٹریم سیاست دانوں کے ردعمل کے بعد سامنے آیا ہے جبکہ یہ لیڈر فوج کے متعلق تبصرہ کرنے میں احتیاط برتتے ہیں۔ تاہم اس بار فوج کی کارروائی کو دینی معاملات میں مداخلت اور جذبات کو اشتعال دینے کی کارروائی بتایا گیا ہے جس سے کشمیر کے امن میں رخنہ پڑنے کا خدشہ ہے۔راشٹریہ رائفلز اصل میں کشمیر میں تعینات فوج کی ایک ذیلی فورس ہے جس کے سپاہی اور فوجی، ریگولر فوج سے مستعار لئے جاتے ہیں۔ اس فورس کے کئی ڈویژن کشمیر میں تعینات ہیں جو گزشتہ تین دہائیوں سے انسداد ملٹنسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ مقامی اخبارات میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس واقعے کو منظر عام پر لانے کیلئے جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر کا سہارا لیا۔ انہوں نے 50 راشٹریہ رائفلز کے دستوں کا نام لیکر بتایا کہ انہوں نے مساجد میں داخل ہوکر جے شری رام کے نعرے لگانے کیلئے مقامی لوگوں کو مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ عین اس وقت سامنے آیا ہے جب امرناتھ یاترا شروع ہو رہی ہے اور وزیر داخلہ امت شاہ نے انتطامات کیلئے کشمیر کا دورہ کیا۔ محبوبہ نے اپنے ٹویٹ میں فوج کی پندرھویں کور کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل راجیو گھئ سے تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔ گھئی نے گزشتہ ہفتے ہی کشمیر میں تعیناتی کا چارج سنبھالا ہے۔ایک اور سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھی اس واقعے پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے ٹوٹر پر لکھا کہ پلوامہ کے زڈورہ میں ایک مسجد میں سیکورٹی فورس کے اہلکاروں کے داخل ہونے کی اطلاعات انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ یہ کافی برا ہے کہ وہ داخل ہوئے لیکن پھر لوگوں کو "جئے شری رام” جیسے نعرے لگانے پر مجبور کرنا، جیسا کہ وہاں کے مقامی لوگوں نے بتایا ہے، ناقابل قبول ہے۔ مجھے امید ہے راج ناتھ سنگھ جی ان رپورٹس کی بروقت اور شفاف طریقے سے تحقیقات کرنے کے لیے ہدایات جاری کریں گے۔
الطاف احمد بٹ نے کہا کہ فوجی اہلکار ایک افسر کی قیادت میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات 2 بجے کے قریب گاؤں میں نمودار ہوئے۔ ان کے مطابق فوجیوں نے انہیں بتایا کہ وہ مقامی افراد کو بلائیں۔ انہوں نے جن افراد کو بلایا ان میں ان کے چھوٹے بھائی جاوید احمد بٹ بھی شامل ہیں جو ایک سرکاری استاد ہیں۔ گہرا اندھیرا تھا۔ انہوں نے تمام سڑکیں سیل کر دیں، میرے دروازے پر دستک دی اور مجھ سے کہا کہ ان آدمیوں کو لے آؤ کیونکہ افسر ان سے ملنا چاہتا ہے۔ میں ان کے گھر گیا اور انہیں اپنے بھائی سمیت ساتھ لے گیا، حالانکہ ان کے گھر والے فوج کے ساتھ جانے مین ہچکچارہے تھے۔
بٹ نے مزید کہا کہ کچھ دیر بعد، میں نے ان کے رونے کی آواز سنی۔ مجھے لگا کہ انہیں مارا پیٹا جا رہا ہے۔ میں نے احتجاج کیا اور کچھ نعرے لگائے لیکن انہوں (فوجیوں) نے مجھے خاموش رہنے کی تنبیہ کی۔ مجھے بعد میں جو معلوم ہوا وہ یہ تھا کہ وہ فوجی اہلکار مقامی لوگوں سے کہہ رہے تھے کہ وہ مسجد کا دروازہ کھولیں اور لاؤڈ اسپیکر پر جے شری رام کے نعرے لگائیں لیکن انہوں نے مسجد کھولنے سے انکار کر دیا جس پر انہیں مارا پیٹا گیا۔ میں نے انہیں (فوجیوں) کو اپنے بھائی کے سر کو روندتے ہوئے دیکھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ ان سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مسجد کے باہر نعرے لگائیں گے لیکن اندر نہیں۔بٹ کے مطابق جب نماز فجر کی اذان کا وقت آپہنچا تو ایک مقامی نوجوان عارف وگے فجر کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا۔ اس نے لاؤڈ سپیکر آن کیا اور اذان دینا شروع کیا۔ عین اذان کے دوران اسے ان (فوجیوں) نے روک لیا۔ انہوں نے ‘جئے شری رام’ کے نعرے لگانے کے لیے اس پر آوازیں لگائیں۔ بٹ کے مطابق وگے نے فوجیوں سے ڈر کر جے شری رام کے نعرے اذان کے دوران ہی لگائے لیکن فوجی انہیں کہہ رہے تھے کہ جس طرح وہ لے میں اذان کیلئے پکار رہے ہیں اسی طرح ہندوؤں کا مذہبی نعرہ بھی لگائیں۔
بٹ نے دعویٰ کیا کہ اس دوران دیگر فوجی چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع جامع مسجد میں داخل ہوئے اور وہاں موجود نمازیوں سے بھی ایسا ہی کرنے کو کہا۔ شیراز احمد، جو وہاں کے ایک مؤذن ہیں، نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن اسے اندر گھسیٹا گیا اور دیگر نمازیوں کے ساتھ نعرہ لگانے پر مجبور کیا گیا۔ جب میں نے ان سے کہا کہ اس سے علاقے میں افراتفری پھیلے گی، تو انہوں (میجر) نے جواب دیا کہ کوئی بھی "مائی کا لال (ماں کا بیٹا)” ان کی موجودگی میں ایسا کرنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ اس نے آنے والی عید الاضحیٰ پر اس کی اجازت کے بغیر گاؤں میں جانوروں کی قربانی سے متعلق بھی دھمکی دی۔بٹ کے مطابق فوجیون کے جانے کے بعد گاؤں میں مظاہرے ہوئے۔ بٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انٹیلی جنس ونگ کے کچھ لوگوں نے کل (ہفتہ) دن کے وقت مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ کچھ اعلیٰ فوجی افسر مجھ سے فون پر بات کرنا چاہتے ہیں، میں نے سارا واقعہ بیان کیا۔ افسر نے معافی مانگی اور کارروائی کا وعدہ کیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ احتجاج نہ کیا جائے۔







