امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: شری امرناتھ جی یاترا کے لیے یاتریوں کا تیسرا قافلہ اتوارکی صبح بھگوتی نگر بیس کیمپ سے کشمیر کی طرف روانہ ہوا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بھگوتی نگر بیس کیمپ سے اتوار کی صبح 4 ہزار 9 سو تین یاتریوں پر مشتمل تیسرا قافلہ کشمیر کی طرف روانہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ 188 گاڑیوں میں سوار یاتری بالہ تل اور پہلگام بیس کیمپوں کی طرف روانہ ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ یکم جولائی سے شروع ہوئی یہ یاترا 31 اگست کو اختتام پذیر ہوگی۔ جموں و کشمیر انتظامیہ اور شری امرناتھ شرائن بورڈ نے یاترا کے لیے فقید المثال انتظامات کیے ہیں۔
سالانہ امر ناتھ یاترا کے دوران اس بار متعدد ڈرونز کے ذریعے بھگوتی نگر جموں سے لے کر پوترا گھپا تک چوبیس گھنٹے نگرانی رکھی جائے گی تاکہ سماج دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ معلوم ہوا ہے کہ درجنوں ڈرونز امرناتھ یاتریوں کی نقل وحرکت پر نظر رکھیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کے سینئر افسروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر امر ناتھ یاترا کے حوالے سے کیے گئے انتظامات کے بارے میں مرکزی وزارت داخلہ کو جانکاری فراہم کریں۔ جموں کے سرحدی علاقوں میں پہلے ہی ہائی الرٹ جاری کیا گیا اور مقامی لوگوں سے تلقین کی گئی ہے کہ مشتبہ شئی کے بارے میں وہ فوری طور پر نزدیکی پولیس اسٹیشن کے ساتھ رابط قائم کریں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی دوسرا قافلہ امر ناتھ یاترا کے لیے روانہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں حکام نے بتایا تھا کہ 94 گاڑیوں میں صبح 4.50 بجے 2,733 یاتری پہلگام کے لیے روانہ ہوئے تھے، جب کہ 1,683 یاتریوں کو 92 گاڑیوں میں بالتل بیس کیمپ کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو بھگوتی نگر بیس کیمپ سے امرناتھ یاتریوں کے پہلے جتھے کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا۔ باسٹھ روزہ یاترا ہفتہ کو کشمیر سے دونوں راستوں سے شروع ہوئی تھی۔ جس میں ضلع اننت ناگ میں واقع 48 کلو میٹر روایتی نُنہ وَن، پہلگام ٹریک اور وسطی کشمیر کے گاندر بل ضلع میں چودہ کلومیٹر طویل بال تل ٹریک شامل ہیں۔جموں کے بھگوتی نگر بیس کیمپ میں اپنے رجسٹریشن وغیرہ کے لیے قطاروں میں کھڑے پرجوش عقیدت مندوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سکیورٹی سمیت دیگر انتظامات پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ ای ٹی وی بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے یاتریوں نے کہا تھا کہ وہ مقدس شیولنگم کے درشن اور پوتر گپھا میں اپنی حاضری کو ممکن بنانے کے لیے بےتاب ہیں۔(یو این آئی)








