امت نیوز ڈیسک //
سرینگر کے پریس کالونی میں جمعرات کو ایک گروہ نے آکر احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ راجوری کی لڑکی نے ان سب کے ساتھ نکاح کرکے فرار ہوئی ہے۔
جموں وکشمیر پریس سروس کے موصولہ تفصیلات کے مطابق احتجاج میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ ہم نے جس عورت سے شادی کی وہ ہمیں چھوڑ کر بھاگ کے چلی گئی۔
ایک شخص نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے ایک شخص نے کہا کہ میں آپ کی شادی کچھ ہی دنوں میں کرواؤ گا اور میرے راضی ہونے پر کچھ دن بعد اس شخص نے مجھے راجوری لیا اور وہاں ایک عورت کے لواحقین کے سامنے باضابطہ طور پر ہمارا نکاح کرایا اور اس نکاح کے لئے مجھے اس شخص نے 3 لاکھ روپے لئے اور مہر و دیگر زیورات سمیت میں نے دلہن کو گھر لایا کہ کچھ ہی دن بعد بیمار کا ناٹک کرکے عورت اسپتال جانے کے بہانے فرار ہوئی۔
دوسرے شخص کا بھی کہنا تھا کہ میرے ساتھ بھی یہی ہوا اور انہوں نے بتایا کہ ایسا اس عورت نے تقریباً 32 افراد کے ساتھ کیا ہے۔
احتجاج میں شامل افراد کا کہنا تھا کہ یہ ایک گروہ ہے جو لڑکوں کو پھنسا کر پیسہ لوٹنے میں سرگرم عمل ہے۔









