• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
پروفیسر عبدالغنی بٹ کے بعد سید الطاف بخاری کا ایک اور حریت لیڈر آغا سید حسن سے ملاقات:کس نے کیا مانگا اور کس نے کیا دینے کی پیشکش کی؟

پروفیسر عبدالغنی بٹ کے بعد سید الطاف بخاری کا ایک اور حریت لیڈر آغا سید حسن سے ملاقات:کس نے کیا مانگا اور کس نے کیا دینے کی پیشکش کی؟

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
21/07/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

جموں و کشمیراپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے 9جولائی 2023ء کے روز ممتاز شیعہ رہنما،حریت کانفرنس لیڈر اور انجمن شرعی شیعان کے صدر آغا سید حسن موسوی الصفوی کی بڈگام رہائش گاہ پر جا کر ان سے ملاقات کی اور خبروں کے مطابق انہیں عید غدیر کے پُرمسرت موقع پر مبارکباد پیش کی۔انجمن شرعی شیعان کی جانب سے جاری ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ الطاف بخاری نے آغا سید حسن موسوی سے وسطی کشمیر کے بڈگام میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور بزرگ رہنما کو عید غدیر کے موقع پر مبارکباد دی۔خود سید الطاف بخاری نے مذکورہ ملاقات کی خبر اپنے ایک ٹویٹ میں دی اور اس کی ایک عدد تصویر بانٹتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کے دوران ان کی آغا حسن کے ساتھ مختلف معاملات پر نتیجہ خیز تبادلہ خیال ہوا اور مختلف امور زیر غور لائے گئے۔خبر کے مطابق ملاقات کے دوران آغا سید حسن موسوی نے سوناواری علاقے میں پینے کے پانی کی کمی اور جھیل ڈل سے’بے دخل‘ کئے گئے مکینوں کی بحالی میں تاخیر کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔پریس کےلئے جاری پریس نوٹ کے مطابق شیعہ رہنما نے ضلع اسپتال بڈگام میںناکافی طبی سہولیات کے بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے 300 بستروں کے اسپتال میں اپ گریڈ کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر’ اپنی پارٹی‘ کے رہنما نے آغا سید حسن کو یقین دلایا کہ وہ ان عوامی مسائل کو حل کرانے کی خاطرفوری کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کی توجہ دلائیں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آغا سید حسن الموسوی پہلے حریت لیڈر نہیں ہیں کہ جن سے الطاف بخاری خود چل کر ملنے گئے ہیں بلکہ اس سے قبل وہ پچھلے ماہ خود چل کر ایک اور حریت لیڈر بلکہ سابق حریت چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بٹ سے ملنے ان کے گائوں بوٹنگو سوپور پہنچے تھے اور اس ملاقات کی بھی ایک عدد فوٹو عوام الناس کے سامنے شیئر کی تھی۔ ایک مقامی جریدے نے اسوقت ان دونوں کی ملاقات پر جو خبر چسپاں کی تھی وہ بھی قدرے معنی خیز تھی ۔لکھا گیا تھا ’’دہلی میں مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرنے کے بعد لوٹتے ہی الطاف بخاری کی حریت لیڈر پروفیسر عبدالغنی بٹ سے سوپور جاکر ملاقات‘‘۔ اگرچہ پروفیسر عبدالغنی بٹ اور ان کی جماعت کے کئی اراکین نے اس ملاقات کو محض ایک معمول کی باہمی ملاقات قرار دیا اور کہا کہ اس میں کوئی سیاست وغیرہ زیر بحث نہیں لائی گئی لیکن عوامی ،سماجی اور سیاسی گلیاروں میں اس ملاقات سے متعلق چہ مہ گوئیاں اور رد عمل دیکھنے کو ملے ۔ سوشل میڈیا پر کسی نے اس ملاقات کی تعریف کی اور کہا کہ سیاست دانوں کو اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہئیں۔کسی نے اسے پروفیسر صاحب کے اپنی پارٹی میں شامل ہونے کا اشارہ کہا ،تو کسی نے پروفیسر صاحب کو مشورہ دیا کہ خدارا الطاف بخاری کو مفتی سعید اور محبوبہ مفتی والا’’ مشورہ‘‘ نہ دیجئے گا جس کا خمیازہ کشمیری بھگت رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’اپنی پارٹی‘ کے سربراہ کاحریت کانفرنس کے ساتھ یہ یارانہ پن آخر کیا معنی رکھتا ہے۔ الطاف بخاری کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ2019 ء میں آئین ہندکی دفعہ 370 اور35اے کی منسوخی کے بعد وہ پہلے سیاست داں تھے جنہیں دہلی نے جموں وکشمیر میں سیاسی اٹھک بیٹھک کی اجازت دی تھی اور مارچ 2020 ء میں انہوں نے جب اپنی نئی جماعت ’اپنی پارٹی‘ کو لانچ کیا تو وہ بہرصورت بی جے پی کی مرکزی حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات کے ترجمان بنے رہے۔قارئین کرام کو یاد ہوگا کہ الطاف صاحب نے کمال ’جرات‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیز عوامی ردعمل کی چنداںپرواہ نہ کرتے ہوئے سبھی سیاسی جماعتوں اور لیڈران سے جدا راہ اپنالی تھی اور اعلان کیا تھا کہ وہ حریت پسندوں کی مانند کشمیریوں کو ’آزادی‘ کے جھوٹے خواب نہیں دکھائیں گے اور نا ہی نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس پارٹی وغیرہ کی طرح انہیں 370 کی بحالی کا سراب پیش کریں گے۔ ان کی سیاست کا محور اسوقت دہلی اور وہاں حکمرانی کرنے والی بی جے پی ہی تھی اور کئی مبصرین انہیں نئے دور کا غلام محمد بخشی کہتے تھے جو دہلی کی صحیح سمت میں رہو اور حکمرانی کرو کے اصولوں پر گامزن ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ انہیں آج تک ’ بی جے پی‘ کی بی ٹیم ہونے کا طعنہ ملتا ہے، اگرچہ بظاہر آج وہ بی جے پی مخالف سیاست کرتے نظر آرہے ہیں۔ خود ان کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی کی بی ٹیم نہیں ہیں لیکن وہ کشمیریوں کو جھوٹے خواب بھی نہیں دکھانا چاہتے۔ حال ہی میں انہوں نے ایک عدد ریلی بھی منعقد کی جس میں ان کا دہلی کے تئیں رویہ کچھ بدلا بدلا اور تلخ نظر آیا۔ وہ دفعہ370 کی بات کرتے بھی نظر آئے اور کشمیریوں کے حقوق کی بحالی کا نعرہ بھی بلند کرتے نظر آئے۔ اگرچہ کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ الطاف بخاری کے رویے میں یہ ظاہری بدلائو صرف اور صرف سیاسی ہے اور حقیقت میں وہ آج بھی جموں وکشمیر کی سیاست کے ضمن میںدہلی میں قائم بی جے پی حکومت کے سب سے بڑے ساجھی دار ہیں۔ اس قسم کے مبصرین کا کہنا ہے کہ جموںو کشمیر میں اپنا جموی وزیراعلیٰ لانے کےلئے سبھی دائو پیچ خالی جاتا دیکھ بی جے پی نے بھی حالات کے تقاضوں کے مطابق کشمیر میں اپنے حامیوں یا کم از کم انہیں جو براہ راست بی جے پی مخالف سیاست نہیں کررہے ہیں‘ کو کچھ معاملات میں چھوٹ دینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ الطاف بخاری کوحریت لیڈروں کے ساتھ ملاقاتیں کرنے کے پیچھے بھی شاید یہی چھوٹ کارفرما ہے۔ ایک اور طبقہ بھی ہے جو الطاف بخاری کی ان ملاقاتوں کو کشمیر کی سیاست کا کڑوا سچ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ علیحدگی پسندی کو جڑ سے اکھاڑنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے بڑے طبقے کو نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور ایسی ہی دوسری جماعتوں کا ہمدرد اور ساجھی بنادیا گیا ہے۔ یعنی بالفاظ دیگربی جے پی کی مخالف جماعتیں مضبوط ہوئی ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ ’ علیحدگی پسندوں ‘ کے ہمدردوں کی ہمدردیاں اپنی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جائے۔ مبصرین کے اس طبقے کے مطابق الطاف بخاری کی حالیہ ملاقاتوں کا سلسلہ غالباً اسی سوچ کا نتیجہ ہے اور یہ بھی قرین از قیاس ہے کہ کچھ اورسیاسی جماعتیں بھی اسی سمت کی سیاست کرتی نظر آئیں گی۔ ہم نے ایک کہنہ مشق اخبار نویس سے اس بارے میں رائے زنی کرنے کی گزارش کی تو کہنے لگے کہ’’ دیکھو یہ ہے کشمیر اور اس کی سیاست۔ بقول کسے یہاں صرف چنار کے درخت ہیں جو سیدھے ہیں باقی سب کچھ ٹیڑھا میڈھا ہی ہے! کہاںاگست 2019کے بعد کا الطاف بخاری جو حریت کے نام سے بھی چڑتا تھا۔ جس نے کھلم کھلا یاسین ملک کےلئے پھانسی کی سزا کی حمایت کردی جو بعدازاں عوامی دبائو میں آکر ’واپس ‘ بھی لی۔ اور کہاں آج کی یہ ملاقاتیں۔۔۔ دراصل الطاف بخاری نئے زمانے کے بخشی غلام محمد بنتے بنتے کچھ قدیم زمانے کے مفتی محمد سعید بن بیٹھے ہیں جنہوں نے ’علیحدگی پسندوں ‘ خاص طور پر جماعت اسلامی کی حمایت لےکر 2002ء میں حکمرانی کا تاج سر پر پہنا اور پی ڈی پی کی صورت میں ایک مضبوط جماعت اپنے ورثے میں چھوڑ دی‘‘۔

علیحدگی پسند سیاست کے سخت ترین مخالف ایک قلم کار نے ویب پورٹل’’کشمیر سینٹرل‘‘میں تحریر ایک مضمون میں لکھا کہ یہ سب کچھ وہی پرانی بوتلوں میں نئی شراب رکھنے کا سلسلہ ہے جو عرصہ دراز سے جموںو کشمیر میں عملایا جارہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ بھارت کا الیکشن کمیشن کشمیر میں الیکشن کرانے کے مطالبے پر کوئی کان نہیں دھر رہا ہے اور مستقبل قریب میں اسمبلی الیکشن کہیں نظر نہیں آرہے ہیں لیکن اس کے باوجود وادیٔ کشمیر میں جوڑ توڑ اور سازشوں کے سیاسی کلچر کو بحال کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ سیاسی کلچر دراصل وہ سلسلہ ہے کہ جس میں ظاہری طور پر الیکشن اور اس ضمن میں جملہ کاوشوں کا بائیکاٹ کرنے والے لوگ ایسے عناصر یا جماعتوں کی درپردہ حمایت کرتے ہیں جو ووٹ اور الیکشن کی سیاست کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ علیحدگی پسند ایک طرف الیکشن میں حصہ لےکر عوام کے سامنے جانے سے بچ جاتے ہیں اور دوسری جانب اپنی حمایت سے ایوانوں میں پہنچنے والے لوگوں اور جماعتوں کے ذریعے اپنے مفادات کی تکمیل بھی کرواتے ہیں۔ موصوف کا کہنا ہے کہ کشمیر کی سیاست کے ساتھ یہ ایک المیہ رہا ہے کہ معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو انتخابی حصہ لینے سے دور رہا ہے وہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کس کو ووٹ دیا جائے گا اور کس کو نہیں۔اس لکھاری کے مطابق اس طبقے جسے علیحدگی پسند کیمپ کے نام سے جانا جاتا ہے، نے جموں و کشمیر میں تقریباً30سالوں سے حکومتیں بنانے اور توڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ موصوف کے مطابق جماعت اسلامی، لبریشن فرنٹ، میر واعظ عمر فاروق کی عوامی ایکشن کمیٹی اور آغا سید حسن موسوی اور مولانا عباس انصاری کی زیر قیادت شیعہ کمیونٹی کے دھڑے ہی درحقیقت فیصلہ کرتے تھے کہ ہوا کس سمت چلتی ہے اور انتخابی میدان میں کون فاتح ہوتا ہے۔مذکورہ لکھاری کا کہنا ہے کہ اسی حکمت عملی کے نتیجے میں 2002 ء میں پی ڈی پی کامیاب ہوئی اور ایسا ہی کچھ دوسری جماعتوں کی کامیابی کے درپردہ بھی ہوتا رہا ہے۔ موصوف کے مذید کہنا ہے کہ 2019ء کے واقعات کے بعد، یہ تاثر تھا کہ علیحدگی پسند تنظیموں کا وجود اور اثرمٹ گیاہےلیکن افسوس کہ کشمیر کی سیاست ڈل جھیل کے موجودہ پانیوں کی طرح گندی ہے۔ یہاںآپ کبھی نہیں جان سکتے کہ کل کیا ہونے والا ہے۔ موصوف کے مطابق مشہور اقتباس کہ سیاست میں بیل چھپکلیوں کا پیچھا کرتے ہیں اور چوہے سانپوں سے شادی کرتے ہیں‘ کشمیر کے حوالے سے فٹ بیٹھتا ہے۔موصوف آگے لکھتے ہیں کہ’’ آج پرانے سیاسی کلچر کو زندہ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔افواہیں گرم ہیں کہ جماعت اسلامی نئی دہلی سے خفیہ مذاکرات کر رہی ہے۔مذکورہ لکھاری جو خود بھی ایک زمانے میںحریت سے جڑے رہے ہیں‘ کے مذکورہ خیالات جو غالباً ان کی مایوسی اور غصے کا منہ بولتا ثبوت ہیں اور وہ ایک ایسے بڑے طبقے کی ترجمانی کررہے ہیں جو انتخابی عمل میں علیحدگی پسندوں کی مبینہ مداخلت سے نالاں ہیں۔ مذکورہ سطور میں اگرچہ وہ براہ راست حکمرانوں یا ایجنسیوں پر الزام نہیں دھر رہے ہیں لیکن زبان حال سے نالاں ہیں کہ علیحدگی پسندی کی کمر توڑنے کےلئے کئے گئے تاریخ ساز اقدامات کے بعد بھی آج الطاف بخاری جیسے ہند نواز لیڈران کیوں اور کیسے علیحدگی پسندوں کو لبھانے کی سعی میں مصروف ہیں۔ اسی لئے اپنے مضمون میں موصوف آگے رقم طراز ہیں کہ ’’اپنی پارٹی کے لیڈر سید الطاف بخاری کی سینئر علیحدگی پسند لیڈروں پروفیسر عبدالغنی بٹ اور آغا سید حسن موسوی سے ملاقات کے بارے میں رپورٹس کا دیئے گئے تناظر میں تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ صرف وقت کا ہے۔ اندازہ ہے کہ جموں و کشمیر میں انتخابات اس سال کے آخر یا اگلے سال کے شروع میں ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ بے وقوفی ہوگی اگر ہم علیحدگی پسندوں سے یہ توقع رکھیں کہ وہ انتخابی معرکہ میں کود پڑیں گے ۔ہم کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں کہ علیحدگی پسند گروہ، افراد اور تنظیمیں بات کرنے والوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے، علیحدگی پسند ہمیشہ واپسی کے لیے ایک یا دوسری سیاسی جماعت کو کھلی حمایت دیتے ہیں۔بلاشبہ یہ سہولت کی شادی ہے۔‘‘ موصوف حال ہی میںسرینگر کے ایک ہوٹل سے حریت کے کئی لیڈران کی گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ’’حریت کانفرنس کو ایک ایسے وقت میں زندہ کرنے کی کوششیں جب مرکزی دھارے کے سیاسی رہنما انتخابات کے لیے کوشش کر رہے ہیں، کچھ عجیب امر ہے۔ تقریباً 30افراد جن میں زیادہ تر سابق عسکریت پسند کمانڈر اور کالعدم تنظیموں کے ارکان تھے، چند روز قبل ایک مقامی ہوٹل میں جمع ہوئے۔پولیس کے مطابق یہ حریت کانفرنس کو زندہ کرنے کی کوشش تھی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت مخالف جذبات رکھنے والے لوگوں کا ایک گروپ، بالکل نارمل انداز میں ایک ہوٹل میں ملاقات کے لیے کیسے جمع ہو سکتا ہے؟ یہ بات مذید تشریحات کے لیے کھلی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس معاملے سے اسٹیبلشمنٹ کا ایک طبقہ باخبر تھا۔ بلکہ اس طبقے نے اس طرح کے اتحاد کو اپنی منظوری بھی دے دی تھی۔‘‘ موصوف کے مطابق تاہم ’’جموں و کشمیر پولیس کو اس کے بارے میں کوئی سراغ نہیں تھا اور جب انہیں اس کی اطلاع ملی تو اس نے اس کے خلاف فوری کارروائی کی۔ سچ کچھ بھی ہو، انتخابات پر نظر رکھتے ہوئے علیحدگی پسندوں تک پہنچنے کا مناسب تناظر میں تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

سیدالطاف بخاری کی مذکورہ ملاقاتوں کے ضمن میں جب ہم نے ایک اور سینئر جرنلسٹ سے استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقاتیں کسی یقین دہانی کے بغیر نہیں ہوسکتیں۔ ایسے ماحول میں کہ جب انتظامیہ کو حریت پسندی کا نام سننا تک گوارا نہیں ‘ان ملاقاتوں کی اجازت دینا یا ان پر چپ سادھنا اسی مبینہ یقین دہانی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ موصوف کا کہنا ہے کہ الطاف بخاری کا ایک شیعہ لیڈر سے ملنا ویسے بھی بنتا ہے کیونکہ ماضی قریب میں اس حساس کیمونٹی کے بارے میں ان کے ایک ڈھیلے بیان کے بعد اس کیمونٹی میں ا ن کے خلاف کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے اور الطاف بخاری غالباً اس ملاقات جو بظاہر عید غدیر کے حوالے سے ہوئی ‘کے ذریعے اس کیمونٹی کے سامنے اپنا معذرت نامہ پیش کرنا چاہتے ہیں۔مذکورہ صحافی کا مذید کہنا ہے کہ’’ بڈگام میں مقیم آغا فیملی کا یہ پرانا وطیرہ ہے کہ وہ بقول انکے عوامی مفادات کےلئے ہمیشہ اس قسم کی ملاقاتیں اور معاہدے کرتے رہے ہیں۔ مشہور ہے کہ ایک دن جب خواجہ عبدالغنی لون مرحوم نے بڑے آغا صاحب سےسوال کیا کہ ان کے ایک بیٹے تو علیحدگی پسند ی اور بائیکاٹ کے حمایتی ہیں لیکن دوسرے الیکشن کا حصہ ہیں اور وہ اس تضاد کو کیوں ختم نہیں کرتے ۔ تو بڑے آغا صاحب مرحوم نے نہایت سنجیدگی اور متانت سے جواب دیا کہ دونوں بیٹے ان کی آنکھوں کی روشنی ہیں‘‘۔

مذکورہ ملاقات اور اس میں سید الطاف بخاری کے سامنے اٹھائے گئے مسائل پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے ایک وکیل جو سیاسی تبصرے بھی کرتے رہتے ہیں کا کہنا تھا کہ آغا صاحب نے سوناواری میں پینے کے پانی کا اور بڈگام میں300 بیڈ والے ہسپتال کا معاملہ سید الطاف بخاری کے سامنے یوں رکھا ہے جیسے وہ یو ٹی انتظامیہ چلا رہے ہیں۔ یہ اگرچہ مضحکہ خیز بات ہے لیکن اسے مبینہ طور پر آنے والے بلدیاتی الیکشن سے نہ جوڑنا بھی مضحکہ خیز معاملہ ہی ہوگا۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ آغا سید حسن کے گھر سے ہی ان کے خلاف بڑے سخت بیانات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ خود آغا حسن صاحب کے بھتیجے اور سابقہ داماد نیشنل کانفرنس لیڈر آغا روح اللہ کا ایک دینی مجلس میں خطاب سماجی ویب سائٹس اور ویب پورٹلز پر خاصا وائرل ہوا ہے جس میں نام لئے بغیر آغا روح اللہ اپنے چچا کے خلاف سخت ریمارکس پاس کررہے ہیں۔ مجلس سے اپنے خطاب کے دوران آغا روح اللہ کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے قوم کی یہ حالت ہے کہ سر پر ایک کالا دستار سجائے ،بڑے علمائے کرام کے منصب پر براجمان ان کی جانشینی کا دعویٰ کرنے والے ایک صاحب جو ماضی قریب میں نظام مصطفیٰ وغیرہ کی باتیں کرتا تھا۔ جو اسی منصب پر،اسی محراب و منبر پر بڑے دعوے کرتا تھا آج اُسی منبر پر جناب لیفٹیننٹ گورنر سے گزارشات کرتا پھررہا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے نام پر انہیں جلوس نکالنے کی اجازت دی جائے۔ آج یہی دستار بند شخص سیکولرزم اور جمہوریت کی دہائیاں دیتا پھررہا ہے اور ان کا معتقد بن بیٹھا ہے۔ حق یہ ہے کہ جب شرم و حیا مرجاتی ہے تو ایک عدد جلوس نکالنے یا چند حقیر مفادات کی تکمیل کےلئے آدمی ذلت کی کسی بھی حد پر گرجاتا ہے‘‘۔ سچ یہ ہے کہ ہم آغا روح اللہ کی مذکورہ تلخ باتوں کے ساتھ اتفاق نہ بھی کریں لیکن اس سے ایک ٹھوس اور آپس میں جڑی ہوئی کمیونٹی کے اندر پائے جانے والے غم و غصہ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو اس کے اندر پیدا ہورہا ہے۔

بہرحال پروفیسر عبدالغنی بٹ یا آغا سید حسن الموسوی کے ساتھ ملاقاتوں میں اپنی پارٹی کے سربراہ نے ان سے کیا مانگا اور انہیں بدلے میں کیا دینے کی پیش کش کی ، اس کا فی الوقت بیان کرنا نہ مناسب ہے اور نا ہی بند کمروں میں ہونے والے ان اجلاسوں کی اندرونی کہانی کے بارے حتمی طور پرابھی کچھ کہنا مناسب ہے۔ لیکن ایک چیز روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ ان میٹنگوں کے وقت اور مقصد کا تعین کرنا بھی کوئی راکٹ سائنس قسم کی مشکل نہیں ہے۔ دیکھئے ! اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور کیا کچھ پک کر باہر نکل آتا ہے۔ ہم تو بس میر تقی میرؔ کایہ شعر دہرائیں گے کہ؎

راہ دور عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

 32 شادیاں کرنے والی ” لٹیری دلہن “:  حقیقت کیاہے؟ 

Next Post

سرینگر میں بھتہ خوری کا گینگ بے نقاب، دو خواتین سمیت چار گرفتار

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

21/01/2026
این سی کا لداخ کو دوبارہ جموں و کشمیر میں شامل کرنے، ملازمت و اراضی حقوق اور خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ: سکینہ ایتو

این سی کا لداخ کو دوبارہ جموں و کشمیر میں شامل کرنے، ملازمت و اراضی حقوق اور خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ: سکینہ ایتو

21/01/2026
پونچھ میں کنٹرول لائن کے قریب بی ایس ایف اہلکار لاپتہ

کیرن سیکٹر میں ایل او سی پر پاکستانی فوج کی ہوائی فائرنگ، بھارتی فوج کا محتاط جواب

21/01/2026
حکمران جماعت کے رکنِ اسمبلی کا امیرا کدل پل کے افتتاح پر لیفٹیننٹ گورنر کے کردار پر اعتراض

حکمران جماعت کے رکنِ اسمبلی کا امیرا کدل پل کے افتتاح پر لیفٹیننٹ گورنر کے کردار پر اعتراض

21/01/2026
جی ڈی سی ڈوڈہ کی طالبہ کی موت کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیٹی قائم، اسسٹنٹ پروفیسر معطل

جی ڈی سی ڈوڈہ کی طالبہ کی موت کی تحقیقات کے لیے سرکاری کمیٹی قائم، اسسٹنٹ پروفیسر معطل

21/01/2026
مذہبی بنیادوں پر جموں و کشمیر کی تقسیم دو قومی نظریے کی توثیق ہوگی: محبوبہ مفتی

پیر پنجال اور چناب ویلی کے لیے ڈویژنل درجہ کا معاملہ: محبوبہ مفتی کا نیشنل کانفرنس سے واضح موقف کا مطالبہ

20/01/2026
Next Post
سرینگر میں بھتہ خوری کا گینگ بے نقاب، دو خواتین سمیت چار گرفتار

سرینگر میں بھتہ خوری کا گینگ بے نقاب، دو خواتین سمیت چار گرفتار

پٹن میں چوروں کے گروہ کا پردہ فاش: پولیس

پٹن میں چوروں کے گروہ کا پردہ فاش: پولیس

امر ناتھ یاترا بیس کیمپ پر جھگڑے میں ملوث 3 افراد گرفتار:پولیس

امر ناتھ یاترا بیس کیمپ پر جھگڑے میں ملوث 3 افراد گرفتار:پولیس

سکمز میں مبینہ دھوکہ دہی سے نوکریاں حاصل کرنے پر 9 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر

سکمز میں مبینہ دھوکہ دہی سے نوکریاں حاصل کرنے پر 9 افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر

بادام واری میں پاگل کتے نے چار افراد کو کاٹ کھایا، علاقے میں خوف ودہشت

بادام واری میں پاگل کتے نے چار افراد کو کاٹ کھایا، علاقے میں خوف ودہشت

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »