وادیٔ کشمیر میں گزشتہ ہفتے ایک ایسا انوکھا واقعہ پیش آیا جو فلموں میں ہی دیکھا جاتا ہے۔دراصل یہ واقعہ اس وقت خبروں میں آیا جب کچھ افراد سرینگر کے لالچوک میں واقع پریس کالونی پہنچنے جہاں ہر روز وادی کے مختلف علاقوں سے لوگ اپنے مسائل کو لے کر احتجاج کرنے پہنچتے ہیں ۔تاہم اس مرتبہ یہ احتجاج انتہائی مختلف تھا جو پہلے کبھی بھی سننے کو نہیں ملا۔
وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سے کچھ افراد نے یہاں پہنچ کر میڈیا کو بتایا کہ ضلع راجوری کی ایک خاتون نے ان سے شادی کر کے انہیں چونا لگایا ہے۔ یہ خاتون جیسے اب’’لٹیری دلہن‘‘ کہا جاتا ہے ‘پر تب شک کے دائرے میں آئی جب بڈگام کے محمد الطاف میر نے اس سے نکاح کیا۔الطاف نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسکا شاہین نامی خاتون کے ساتھ جولائی 2022میں نکاح ہوا۔نکاح کے بعد وہ اپنی بیگم شاہین کو لےدرگاہ حضرت بل گئے ۔الطاف کہتے ہیں کہ لیکن وہاں پر اسکے سامنے گاندربل سے تعلق رکھنے والا یونس نامی شخص آیا اور پوچھا کہ آپ کیساتھ جو خاتون ہے یہ کون ہے؟“
الطاف کہتے ہیں کہ وہ حیران ہوگیاجب اسکی بیوی شاہین نے اس سے کہا کہ’’ آپ اس شخص سے کہیں کہ وہ(الطاف) اسکا جیجا(بہن کا شوہر) ہے!‘‘ الطاف کے مطابق اس نے جھوٹ بولنے سے انکار کیا اور کہا کہ شاہین میری(الطاف کی) بیوی ہے۔الطاف کا کہنا تھا کہ گاندربل سے تعلق رکھنے والے شخص نے واپس کہا کہ” آپ اسکے ساتھ کیسے ہو؟ یہ میری بیوی ہے اور میرے گھر سے بھاگ گئی ہے۔“ الطاف نے یونس سے بڈگام آنے کو کہااور اپنا فون نمبر بھی اسے دیا لیکن اسکے مطابق یونس پر دباو ڈالا گیا اور وہ بڈگام نہ آسکا۔ اسکے دو روز بعد ہی الطاف کے مطابق اسکے پاس چرار شریف سے محمد اسماعیل چوپان اور رالپورہ سے عبدالاحد میرآئے اورکہا کہ شاہین ان کے نکاح میں بھی ہے!! عبدالاحد میر اور دیگر کئی افراد نے مقامی پولیس تھانے (خانصاحب بڈگام)میں شکایت بھی درج کروائی۔
ثناء اللہ گنائی بھی اس’’لٹیری دلہن‘‘ کامبینہ شکار بنے۔ثناء اللہ کے مطابق ایک مقامی شہری عبدالحمید نے ان سے کہا کہ وہ اسکی شادی کروائے گا جس پر ثناء اللہ راضی ہوگیا۔اس شخص نے دھوکہ سے ثناءاللہ کونکاح کےلیے راجوری پہنچایا۔ثناء اللہ کہتے ہیں کہ ٹال مٹول کے بعد وہاں اس لڑکی کے ساتھ نکاح ہوااور پھر وہ دلہن کو واپس ساتھ اپنے گھر لے آئے۔ثنا واللہ کا کہنا ہے کہ شادی کے اٹھارویں دن شاہین گھر سےبھاگ گئی اور سبھی سامان اور زیورات بھی لے اڑی۔پولیس کے پاس شکایت درج کروانے کےدوران ثناواللہ کو معلوم ہوا کہ سرسیاربڈگام کے علاقے میں بھی اس خاتون نے نکاح کیا ہواہے۔
متاثرہ مردوں کو تین سے پانچ لاکھ روپے مہر اور زیورات کے طور ادا کرنے پڑے ہیں جو انہوں نے کافی مشقت کے بعد جمع کیے تھے۔ ایک اور متاثرہ شخص کے والد نے کہا کہ چونکہ ان کے بیٹے کو کچھ جسمانی مسائل تھے، اس لیے انہوں نے شادی کے لیے لڑکی تلاش کرنے کے لیے ایک واسِط کو رقم دی تھی۔ گھر والوں نے اسے شادی کے لیے 2 لاکھ روپے ادا کیے ،اہل خانہ کچھ رشتہ داروں کے ساتھ راجوری پہنچے اور ہوٹل کے کچھ کمرے بک کرائے تویہ لوگ شادی میں تاخیر کرتے رہے۔کچھ دنوں کے بعدکہا گیاکہ لڑکی کا حادثہ ہوگیا ہے اور آدھی رقم واپس کر دی گئی۔ تاہم چند گھنٹوں کے بعد انہوں نے رقم دوبارہ مانگی اورایک دوسری لڑکی کی تصویر دکھائی۔ متاثرہ کے والد عبدالاحد میر کے مطابق جب ہم شادی پر راضی ہوئے تو عشاءکے وقت اس لڑکی کو لایا گیا۔ اس کے بعد خاندان اسی رات کشمیر واپس آیا اور کچھ دنوں بعد خاتون نے صحت کے کچھ مسائل کی شکایت کی۔ اسپتال میں جب ٹکٹ لینے گیے تو دلہن وہاںسے غائب ہوگئی۔ متاثرہ کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے خاتون کے لیے جہیز کے طور پر پانچ لاکھ سے زائد کا سونا لیا تھا۔
عدالت سے رجوع کرنے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا، لیکن خاتون پیشگی ضمانت کروائی اور رہا ہو گئی۔اب تک اگرچہ بڈگام سے چھ کے قریب دلہے سامنے آئے ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق اس خاتون نےمبینہ طور پر 32کے قریب مردوں کو چونا لگایا ہے۔
ادھر شاہین اختر نامی اس خاتون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انکی شادی راجوری میں ہوئی تھی لیکن شوہرکے ساتھ اَن بن کی وجہ سےطلاق ہوگئی۔اسکے بعد وہ سرینگر میں کورٹ کیس لڑ رہی تھی جہاں اسکی ملاقات الطاف نامی شخص سے ہوئی جس نے اسے شادی کی آفر دی لیکن شاہین کے مطابق اس نے کسی بھی نکاح کاغذ پر دستخط نہیں کیے۔وہیں انہوں نے کہا کہ” اگر کوئی تین شادیاں ثابت کر کے دے تو مجھے پھانسی دی جائے“۔ تاہم اسکے اگلے روز ہی راجوری پولیس نے شاہین کو گرفتار کر لیا ہے۔
فی الحال اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔وہیں بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ یہ ایک بڑا” گینگ “ہو سکتا ہے ۔ واضح رہے وادیٔ کشمیر میں پیسے کی تنگی، غربت اور دیگر وجوہات کے باعث کئی مرد غیر مقامی خواتین سے نکاح کرتے ہیں جن میں خاص طور پر بہار، مغربی بنگال اور اترپردیش شامل ہیں۔وہیں اس سے پہلے بھی کئی ایسے معاملات سامنے آئے ہیں کہ جب شادی کے کئی سال بعد مذکورہ ریاستوں کی خواتین واپس میکے جاتی لیکن پھر لوٹ کر نہیں آئی؛ لیکن راجوری سے تعلق رکھنے والی شاہین اختر نامی خاتوںکا انوکھا معاملہ پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے۔









