امت نیوز ڈیسک //
وارانسی: اترپردیش کے وارانسی میں گیان واپی مسجد اور شرنگار گوری معاملے میں آج صبح سات بجے اے ایس آئی کی ٹیم سروے کے لیے مسجد احاطے کے اندر پہنچ گئی ہے۔ ٹیم نے سروے کا کام شروع کر دیا ہے۔ موقعے پر اے ایس آئی ٹیم کے ساتھ ہندو فریق کے وکیل اور نمائندے بھی موجود ہیں۔ سروے کے پیش نظر علاقے میں سکیورٹی کے سخت بند و بست کیے گئے ہیں۔ وہیں مسلم فریق نے اس سروے کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس سے قبل پولس کمشنر اشوک متھا جین کے مقام پر ضلع مجسٹریٹ وارانسی اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ اتوار کی رات تقریباً 11 بجے تک ہندو فریق کے ساتھ ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس کے بعد دونوں فریق کو صبح سات بجے سے سروے شروع کرنے کی اطلاع دی گئی۔
اتوار کو رات گئے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد باہر نکلنے والے دونوں فریق نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے سروے سے متعلق اہم جانکاری دی۔ مدعی سیتا ساہو نے بتایا کہ تقریباً 40 افراد پر مشتمل اے ایس آئی کی ٹیم کے علاوہ مسلم فریق سے تقریباً 8 افراد کی ٹیم اور مدعا علیہ کی طرف سے ان کے وکلاء موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ چار مدعی خواتین کے علاوہ ہری شنکر جین، وشنو شنکر جین، سدھیر ترپاٹھی اور سبھاش نندن چترویدی جو کہ مدعی فریق کے وکیل ہیں، یہ لوگ بھی سروے میں موجود ہوں گے۔ تقریباً 65 سے 70 افراد کی ایک ٹیم جس میں مقامی انتظامیہ، پولیس، اے ایس آئی اور مدعی مدعا علیہ شامل ہیں، سروے کے لیے اندر داخل ہوں گے۔اس کے لیے پولیس کمشنر نے نزدیک کے اضلاع سے اضافی فورس بھی وارانسی طلب کی ہے۔ پولس کمشنر وارانسی نے دونوں فریق کے ساتھ میٹنگ کرتے ہوئے واضح کیا کہ سروے کی پوری کارروائی اضافی فورس کے ساتھ مکمل کی جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور کتنے دنوں میں مکمل ہو گا۔ کیونکہ چار اگست کو عدالت نے اے ایس آئی کو اپنی سروے رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ سروے کا کام پیر سے شروع ہو گا اور یہ چار اگست سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔
اس وقت بڑی مشینوں کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں جدید ترین سائنسی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سروے کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ کیونکہ جی پی آر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے عدالت نے گنبد کے نیچے زمین کے اندر ستونوں کے اندر تعمیراتی مٹیریل سے لے کر ان تمام چیزوں کی عمر جاننے کے لیے ریڈار ٹیکنالوجی کے ذریعے ضرورت پڑنے پر کھدائی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ان تمام باتوں کے ساتھ عدالت نے اے ایس آئی سے مسجد احاطے سے ہر چھوٹی بڑی چیز کی الگ الگ رپورٹ بنانے کو بھی کہا ہے۔ فی الحال، بھاری پولس فورس کی موجودگی میں گیانواپی مسجد کیمپس میں پیر کی صبح سے اے ایس آئی سروے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔وضو خانے کو چھوڑ کر مسجد کا سروے ہوگا
21 جولائی کو عدالت نے فیصلہ سنایا تھا کہ مسجد کے احاطے کے اندر بیریکیڈ والے علاقے میں وضو خانے کو چھوڑ کر باقی احاطے کا ریڈار ٹیکنالوجی اور دیگر مختلف سائنسی تکنیکوں سے سروے کرکے رپورٹ چار اگست تک بھیجی جائے۔ اس حوالے سے اے ایس آئی ڈائریکٹر کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ستون اور گنبد پر پائے جانے والے نشانات پر ریڈار ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ان سب کی چھان بین کی جائے۔
اے ایس آئی کے ڈائریکٹر کی طرف سے یہ ہدایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو احاطے کی کھدائی کرکے مٹی وغیرہ کی جانچ کی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ یہ احاطہ کب کا ہے۔ عدالت نے اے ایس آئی ڈائریکٹر سے رپورٹ کے ذریعے تعمیر سمیت تمام جانکاری طلب کی ہیں۔ اسے چار اگست تک داخل کرنا ہوگا۔ گیان واپی مسجد کے احاطے سے متعلق تازہ ترین تنازع شرنگر گوری اور دیگر دیوتاؤں کی پوجا کرنے کے حق کے مطالبے کے بعد پیدا ہوا۔ یہ مورتیاں گیان واپی مسجد کے باہر واقع ہیں۔ یہ تنازع 18 اگست 2021 کو شروع ہوا تھا۔ شرنگر گوری مندر میں روزانہ پوجا اور درشن کا مطالبہ کرتے ہوئے پانچ خواتین نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ اس سے پہلے یہاں روایت کے مطابق سال میں صرف دو بار پوجا کی جاتی تھی لیکن پھر ان خواتین نے مطالبہ کیا کہ بلا رکاوٹ دیگر دیوی دیوتاؤں کی پوجا کرنے کی اجازت دی جائے۔









