پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں اس انکشاف نے کہ جموں وکشمیر سے2019 ء کے بعد سے اب تک قریب دس ہزار خواتین اور بچیاں لاپتہ ہیں ‘ نے جموںو کشمیر کے لوگوں کو ورطہ ء حیرت میں ڈال دیا ہے ۔ دراصل جولائی کی28 تاریخ کو مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ جموں وکشمیر سے2019ءسے تقریباً دس ہزار خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں۔ پارلیمنٹ کو بتایا گیا ہےکہ جموں وکشمیر میں2019ءسے اب تک18سال سے اوپر اور اس سے نیچے کی9765خواتین اپنے گھروں سے لاپتہ ہو چکی ہیں۔یہ بات وزیر مملکت (ایم او ایس) امور داخلہ اجے کمار مشرا نے ممبر پارلیمنٹ (راجیہ سبھا) ڈاکٹر فوزیہ خان کے ذریعہ ملک میں لاپتہ خواتین کی رپورٹوں کے بارے میں اٹھائے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہی۔ ڈاکٹر فوزیہ نے سوال کیا تھا کہ کیا حکومت تمام لاپتہ لڑکیوں اور خواتین کی رپورٹس کا نوٹس لے رہی ہے؟ایم او ایس ہوم نے مزید ہا کہ ڈیٹا نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے ذریعہ مرتب اور شائع کیا گیاہے۔
رپورٹ کے مطابق 2019ءسے 2021ءتک کے اعداد و شمار جموں وکشمیر کے لیے پریشان کن ہیں۔ ان تین سالوں میں 18سال سے کم عمر لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کے 1148معاملات سامنے آئے اور 18سال سے زائد عمر کی 8617خواتین لاپتہ ہوئیں۔اطلاعات کے مطابق ابھی تک ان خواتین کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ظاہر کئے گئے اعداد و شمار2019ءکے بعد سے خطے میں خواتین کی گمشدگی کی رپورٹس میں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔اس کے مطابق سال 2019ء میں 18سال سے کم عمر کی 355خواتین لاپتہ ہوئیں اور18سال سے زیادہ عمر کی2738خواتین لاپتہ ہیں۔ اگلے سال350اور2701خواتین بالترتیب 18سال سے نیچے اور اوپر کی زمروںمیں لاپتہ ہوئیں۔ جموں وکشمیر سے سال 2021میں3178خواتین لاپتہ ہوئیں جن کی عمریں 18سال یا اس سے زیادہ تھیں، جب کہ18سال سے کم عمر کی443خواتین لاپتہ ہوئیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گمشدہ خواتین کے معاملے میں جموں وکشمیر یو ٹی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ خواتین کے لاپتہ ہونے کے معاملے میں دہلی سرفہرست ہے۔
019ءاور2021ءکے درمیان دہلی میں 18سال سے کم عمر کی22919لڑکیاں اور 18سال سے زائد عمر کی16050 خواتین لاپتہ ہوگئیں۔2021ءمیں، مہاراشٹر ہندوستان میں سب سے اوپر ہے۔ اس ریاست میں لاپتہ خواتین کے 65894واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن کی عمر 18سال سے زیادہ ہے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے خواتین سے متعلق مسائل کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں ہیں، جن میں تفتیشی عملے کو خواتین مجرموں اور مشتبہ افراد کی گرفتاریوں، تلاشیوں اور پوچھ گچھ میں مدد فراہم کرنا بھی شامل ہے۔اپریل 2016ءمیں، اننت ناگ، بارہمولہ، راجوری اور ادھم پور کے اضلاع میں ایک ایک خاتون پولیس اسٹیشن بھی بنائے گئے، اور 208آسامیاں منظور کی گئیں ۔ ان میں ہر ایک خواتین پولیس سٹیشن کے لیے 52آسامیاں مختص کی گئیں۔ان میں ایک ایس آئی،2اے ایس آئی، 6 ہیڈ کانسٹیبل،34کانسٹیبل اور 8پیروکار شامل ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں خواتین پولیس کی طاقت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور ریاست کی کچھ خواتین افسران کو ریاستی سول سروسز امتحان کے ذریعے براہ راست ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ عہدوںپر بھرتی کیا گیا ہے۔پولیس نے جموںو کشمیر کے بیشتر اضلاع میں خواتین کے لیے ہیلپ لائن نمبر بھی قائم کررکھے ہیں۔لیکن ان جملہ اقدامات کے باوصف لاپتہ خواتین کی تعداد میں ہوش ربا اضافہ ان اقدامات کی کامیابی کی نفی ہی کررہا ہے۔ اس ضمن میں جموں وکشمیر پولیس کے سربراہ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) جے اینڈ کے دلباغ سنگھ نے ایک مقامی روزنامے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے لاپتہ خواتین سے متعلق اعداد و شمار کی دوبارہ تصدیق کراتے ہیں۔’’ہمیں سوال کے سیاق و سباق کو سمجھنا ہوگا اور اعداد و شمار کو کس تناظر میں شیئر کیا گیا تھا یہ بھی سمجھنا ہوگا۔ ہم اعداد و شمار کی درست تصدیق کے بعد ہی اس معاملے پر بات کر سکتے ہیں۔‘‘
پارلیمان میں اعداد و شمار کی تفصیل تو سامنے لائی گئی لیکن اس کی بھر پور وضاحت نہیں کی گئی جبکہ اور اس کے بعد جموں و کشمیر پولیس کی نامکمل وضاحت نے بھی لوگوں کی حیرانگی اور تذبذب میں اضافہ کیا ہے۔ مزید برآں یو ٹی انتظامیہ کی اس معاملے پر خاموشی بھی عوامی پریشانی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پارلیمان میں پیش کئے اعداد و شمار کوئی مذاق نہیں ہوتے اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ اعداد و شمار یوٹی کے اداروں سے ہی حاصل کئے گئے ہیں۔ اب اگر یہ اعداد و شمار صحیح اور بادی النظر میں واضح ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ گمشدہ خواتین کون ہیں اور کہاں چلی گئی ہیں؟ یہ بھی ایک تلخ سوال ہے کہ آخر مرکز کے زیر انتظام علاقہ جموں وکشمیر جہاں انٹلی جنس، سیکورٹی اور سیفٹی کے وسیع ترین انتظامات موجود ہیں‘ میں سے دس ہزار خواتین کیسے اور کیونکر غائب ہوگئیں۔ یہ اعداد و شمار اس سارے بندوبست اور انتظام اور بیٹی بڑھائو، بیٹی بچائو جیسے خوش کن حکومتی نعروں کی بھی کھِلی اڑا رہے ہیں۔ اس لئے عوامی اور سماجی حلقے منتظر ہیں کہ یو ٹی انتظامیہ اور پولیس اس ضمن میں تفصیلی وضاحت جاری کرے تاکہ جملہ ابہامات اور سوالات کا تشفی بخش جواب مل سکے اور عوامی حلقوں کے اندر پائی جانے والی فکر و تشویش کا اِزالہ ممکن ہو۔
اس تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر یہ خبر ویسے ہی جیسے کہ اس کے ظاہری الفاظ سے مظہر ہورہا ہے سچ ہے تو وہ کشمیری سماج کہ جہاں عورت محفوظ تر مانی جاتی ہے ،وہ کشمیر کی سرزمین جسے کبھی جنت تو کبھی پیر واری کا نام دیا جاتا ہے ؛ اس میں سے دس ہزار خواتین کا پراسرار طور پر لاپتہ ہونا ، ایک المناک حقیقت کو چھپاتا ہے کہ ہمارا سماج بحیثیت مجموعی کس قدر خطرات کی زد میںہے۔ پارلیمنٹ میں حالیہ خطرناک انکشاف نے اگرچہ پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سول سوسائٹی اور عوام فوری ردعمل کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن جموںو کشمیر میں اس انکشاف کے بعد بھی بحیثیت مجموعی سماج چپ سادھے ہوئے ہیں اور عوامی سطح پر اس ضمن میں کوئی ردعمل ظاہر نہیں ہورہا ہے ۔ دوسرے سماجوں اور معاشروں کی مانند جموں وکشمیر کا سماج بھی اس حساس معاملے کی نوعیت کو سمجھتا ہے لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کشمیری سماج ایسے معاملوں پر کبھی بھی خاموش نہیں رہا۔ لیکن عجیب معاملہ ہے کہ سوائے نیشنل کانفرنس کے ایک احتجاجی مظاہرے کے کہیں سے کوئی متحرک و مؤثر آواز ان سطور کے تحریر کئے جانے تک نہیں اٹھی ہے۔واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس کی خواتین ونگ کے اس ضمن میں نکالے گئے احتجاجی جلوس کو پولیس نے آگے بڑھنے سے روک لیا تھا۔
بہرصورت وزیر مملکت برائے داخلہ کے مطابق جموں و کشمیر کی صورتحال افسردہ کن اور انتہائی تشویشناک ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت پیش کرتے ہیں جس کے مطابق2016 سے 2017 ء کے برسوں کے برعکس2019ء کے بعد کے برسوں میں خواتین کی گمشدگیوں کے معاملات میں حد درجہ اضافہ ہوا ہےجس سے بحران میں شدید اضافہ کا پتہ چلتا ہے۔ جیسے کہ پہلے ہی تحریر ہوچکا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں2016 سے 2018 ءکے دوران تقریباً 3300خواتین لاپتہ ہوئیں جبکہ 2019ء سے 2021ء کے درمیان اگلے تین سالوں میں یہ تعداد تین گنا بڑھ گئی۔
دریں اثنا مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک بھر میں خواتین کی حفاظت کے لیے کئی اقدامات اٹھائے گئےہیں۔مجرمانہ قانون (ترمیمی) ایکٹ 2013ءجنسی جرائم کے خلاف موثر روک تھام کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ مزید برآں، فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ، 2018کو12سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی عصمت دری کے لیے سزائے موت سمیت مزید سخت سزاؤں کی تجویز کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ یہ قانون دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ عصمت دری کے معاملات میں 2مہینوں میں تفتیش اور چارج شیٹ داخل کرنے اور2مہینوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا بھی حکم دیتا ہے۔ایمرجنسی ریسپانس سپورٹ سسٹم تمام ہنگامی حالات کے لیے ایک پین انڈیا، واحد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نمبر (112) پر مبنی نظام فراہم کرتا ہے، جس میں کمپیوٹر کی مدد سے فیلڈ وسائل کو وقوعہ کے مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ایم ایچ اے نے ملک کے تمام اضلاع میں پولیس اسٹیشنوں اور انسداد انسانی اسمگلنگ یونٹس میں خواتین کے ہیلپ ڈیسک کے قیام اور اسے مضبوط بنانے کے لیے دو پروجیکٹوں کو بھی منظوری دی ہے اور وزارت داخلہ نے وقتاً فوقتاً ایڈوائزری جاری کی ہیں تاکہ ان کی مدد کی جاسکے۔ خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت نے ملک میں 377ون اسٹاپ سینٹرز قائم کیے ہیں۔ یہ مراکز تشدد اور پریشانی سے متاثرہ خواتین کو ایک ہی چھت کے نیچے مربوط مدد اور مدد فراہم کرتے ہیں اور طبی امداد، قانونی امداد، عارضی پناہ گاہ، پولیس معاونت، نفسیاتی سماجی مشاورت سمیت خدمات کی ایک مربوط رینج فراہم کرتے ہیں۔ پراسراسر گمشدگیوں کے ان معاملات کے متعلق ماہرین کا کہناہے کہ سوشل میڈیا کا بہت زیادہ اثرورسوخ اجنبیوں کے ساتھ فرار کا باعث بننا خواتین کی آبادی میں گمشدگی کے واقعات میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ہے جبکہ چند معاملات اغوا اور دیگر مسائل سے بھی متعلق ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر خواتین کو مقدمات درج ہونے کے بعد واپس لایا جاتا ہے اور ان اجنبیوں کے ساتھ بھاگ جانا جن سے وہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ملتی ہیں زیادہ تر معاملات کی بنیادی وجہ ہے۔
بہرحال پارلیمان میں پیش کردہ یہ اعداد و شمار اس پریشان کن رجحان سے نمٹنے کی عجلت پر زور دیتے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی اس کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور خطے میں خواتین کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے فوری توجہ اور ٹھوس کوششوں کا مطالبہ کرتی ہے۔جب ہم اس گہرائی سے متعلق مسئلے کی بنیادی وجوہات کا گہرائی میں جائزہ لیتے ہیں تو ایک اہم اور پریشان کن عنصر اُبھرتا ہے اور وہ سوشل میڈیا کا تاریک اور وسیع اثر ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی وسیع پیمانے پر رسائی اور مقبولیت نے بلاشبہ مختلف مثبت مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے گہرے اور گھمبیر چیلنجز کو بھی جنم دیا ہے۔ مواصلات اور رابطے کی سہولت کے ساتھ ساتھ، ان پلیٹ فارمز نے ممکنہ خطرات کے لیے راہیں کھول دی ہیں۔ آن لائن ہراساں کرنا، سائبر دھونس و دبائو، اور استحصال سنگین خدشات کے طور پر اُبھرے ہیں، جن میں جرائم پیشہ عناصر کمزور خواتین کو شکار کرنے کے لیے ان پلیٹ فارمز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ دھوکہ دہی سے، وہ خواتین کو خطرناک حالات میں پھنساتے ہیں اوریہی معاملہ ان کے پراسرار گمشدگی کا باعث بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے گھناؤنے اثر و رسوخ کے لیے ایک مکمل اور محتاط جانچ پڑتال اور خواتین کو ایسے سنگین خطرات سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کے نفاذ کی ضرورت ہے۔
جموں و کشمیر میں لاپتہ خواتین کا مسئلہ اس نظام میں ایک اہم اور متعلقہ کمی کو بے نقاب کرتا ہے جو علاقے میں خواتین کوتحفظ فراہم کرتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، حکومت، قانون نافذ کرنے والی تنظیموں، اور سول سوسائٹی کو مل کر ان پیچیدہ اور کثیر جہتی حالات کی شناخت اور ان کو حل کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے کام کرنا چاہیے جو ان حیران کن گمشدگیوں کا سبب بن رہے ہیں۔ اس ضمن میں تحریر کئے گئے ایک حالیہ مضمون میں کچھ تجاویز سامنے آئیں۔ اس مضمون میں کہا گیا کہ’’ لاپتہ خواتین کو ڈھونڈنے اور بچانے کے امکانات کو کافی حد تک بڑھانے کے لیے، ایک اہم اور فوری قدم قانونی نظام کو مضبوط بنانا بھی ہے تاکہ لاپتہ افراد سے متعلق حالات پر فوری اور موثر ردعمل کو ممکن بنایا جا سکے۔ مزید برآں، اس ضمن میں آگاہی مہم چلانا ناگزیر ہو جاتا ہے جو آن لائن حفاظت اور سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال پر توجہ مرکوز کرے، جو خواتین کو اس دائرے میں چھپے ممکنہ خطرات سے خود کو بچانے کے لیے بااختیار بناسکے۔ یہ تعلیمی اقدامات خواتین کو ذاتی معلومات کو آن لائن ظاہر کرنے سے وابستہ خطرات کے بارے میں روشناس کر سکتے ہیں اور انہیں مشتبہ سرگرمیوں کو پہچاننے اور رپورٹ کرنے کے علم سے آراستہ کر سکتے ہیں۔ لاپتہ خواتین کے بحران کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے میں کمیونٹی کی شمولیت اور حمایت اہم عناصر ہیں۔ مقامی سماجی تنظیموں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، اور خواتین کے گروپوں کو شامل کرنا مدد اور چوکسی کے نیٹ ورک کو فروغ دے سکتا ہے۔ کمیونٹی سے چلنے والی یہ کوششیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون اور انمول معلومات اور مدد فراہم کر کے لاپتہ خواتین کے کیسوں کو روکنے اور ان کا جواب دینے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مزید برآں، لاپتہ خواتین کے کیسوں کی باریک بینی سے تحقیقات کے لیے مختلف متعلقین کے نمائندوں پر مشتمل ایک پرجوش اور مؤثر جماعت بنائی جانی چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ لاپتہ خواتین کے مقدمات کو کنٹرول کرنے والے قانونی فریم ورک کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور اسے مضبوط کیا جائے تاکہ تیز رفتار اور موثر کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت کو تحقیقات کی تیز رفتار کارروائی، چارج شیٹ کی فوری فائلنگ، اور مناسب وقت کے اندر ٹرائلز کی بروقت تکمیل کو ترجیح دینی چاہیے۔ لاپتہ خواتین کے مقدمات کو نمٹانے کے لیے مخصوص اور خصوصی عدالتوں کی تشکیل قانونی عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ انصاف کی منصفانہ اور فوری فراہمی ہو‘‘۔
یہ تو ہیں وہ اقدام جو انتظامیہ اور حکام اٹھاسکتے ہیں۔ لیکن کیا سماج اور سماجی قائدین پر اس صورت حال سے نمٹنا کوئی معنی نہیںرکھتا۔ جی ہاں ! ہم جموں وکشمیر کی بات کررہے ہیں جہاں کہ عورت کی عزت و ناموس کو دنیا کی ہر شئے پر ترجیح دی جاتی ہے۔ پھر کشمیر وادی کی کیا بات کریں جو لل دید اور حبہ خاتون جیسی عزت ماب خواتین کی جائے پیدائش ہے ۔وہاں کی ہزاروں خواتین غائب ہوجائیں تو یہاں کے لوگ کیسے اور کیونکر آرام کی نیند سوسکتے ہیں۔ اس ضمن میں پہلاکردار خاندانوں ، والدین نیز بڑے بہن بھایئوں کا بنتا ہے جنہیں اپنی بہنوں اور بچیوں کے اوپر نظر گزر رکھنا پڑے گی۔اس جدید دور میں ہم اپنے بچوں کی آزادی پر بےجا قدغنیں عائد نہیں کرسکتے لیکن آزادی کے نام پر انہیں تباہی کا راستہ چننے دینا بھی کوئی دانشمندی نہیں ہے۔اسلئے ہمارے گھرانوں اور سماج کو بحیثیت مجموعی وہ اقدامات اٹھانے پڑیں گے جس سے صورت حال کو قابو میں لایا جاسکے۔ اس ضمن میں سماجی تنظیموں، اخلاقیات اور مذہبی تعلیمات کو پھیلانے والے اداروں نیز علمائے کرام ، خطبائے عظام اور دوسرے مؤثر طبقات کا کردار بھی اہم بن جاتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے ساتھ اپنے چھوٹوں اور بڑوں کو وقت کے بُرے مسائل اور مصائب اور ان میں معاون کا کردار ادا کرنے والے ہتھیاروں اور آوزاروں جیسے کہ موبائل فون اور اس جیسے دوسرے گیزٹ،سوشل میڈیا اور دوسرے میڈیائی پلیٹ فارم بھی شامل ہیں کے صحیح اور غلط استعمال کی آگاہی دینا بھی وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی نصاب کے اندر بھی سوشل میڈیا وغیرہ کے پرفریب معاملات کی جانکاری کے اسباق ڈالے جاسکتے ہیں تاکہ معصوم بچے اور بچیوں کو غلط اور ناکارہ لوگوں کے ہتھے چڑھ جانے سے بچایا جاسکے۔
بقول ایک کالم نگار ’’مختصر یہ کہ جموں و کشمیر میں لاپتہ خواتین کا بحران معاشرے کے تمام طبقات سے پرعزم اور ٹھوس کوششوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس دنیاوی خطے کی لاپتہ ہونے والی بیٹیاں انصاف، تحفظ اور تحفظ کی مستحق ہیں۔ سوشل میڈیا کے تاریک اثرات سے نمٹنا، قانون نافذ کرنے والے نظام کو تقویت دینا، آگاہی مہم چلانا، کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینا، اور قانونی فریم ورک کو مضبوط بنانا اس سنگین مسئلے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے ناگزیر اقدامات ہیں۔ ہمیں جموں و کشمیر میں ایک ایسا ماحول بنانے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے جو خواتین کے حقوق اور وقار کا تحفظ کرتے ہوئے ان کے لیے زیادہ محفوظ اور محفوظ ہو۔ ہم صرف اس تاریک حقیقت سے پردہ اٹھا سکتے ہیں اور متحد کوششوں اور غیر متزلزل عزم کے ذریعے اس خوبصورت علاقے میں لاپتہ خواتین کی دل دہلا دینے والی وباء کو ختم کر سکتے ہیں‘‘۔
محض دو سال کے اندر غائب قرار دی جانے والی ان خواتین کا معاملہ بہت سارے سوالات اور خداشات کو جنم دے رہا ہے۔اگر یہ داد و شمار صحیح ہیں تو ہم پر ،ہمارے سماج پر اور ہمارے گھرانوں پرنئی نسل کو بچانے کےلئے ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے










