• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, جنوری ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
سپریم کورٹ میں دفعہ370 پر متحرک آئینی بحث: سینئر ماہرین قانون و آئین کپل سبل ،گوپال سبھرامنیم سے لیکر ظفر احمدشاہ تک کے مفصل دلائل؛بینچ کی جانب سے اُٹھائے گئے تیکھے سوالات اور وکلاء کے مدلّل جوابات

سپریم کورٹ میں دفعہ370 پر متحرک آئینی بحث: سینئر ماہرین قانون و آئین کپل سبل ،گوپال سبھرامنیم سے لیکر ظفر احمدشاہ تک کے مفصل دلائل؛بینچ کی جانب سے اُٹھائے گئے تیکھے سوالات اور وکلاء کے مدلّل جوابات

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
10/08/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

آئین ہند کی دفعہ 370 کے بارے میں سپریم کورٹ میں ہونے والی حالیہ قانونی بحث نے ایک نئی متحرک اور فعال بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا اس شق کو ہندوستانی آئین کی ایک ناقابل تنسیخ خصوصیت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی میں آئینی بنچ ، اس مسئلے کی باریکیوں کو تلاش کر رہا ہے، اہم سوالات اٹھا ئے جارہے ہیں اور کئی اقسام کے مفروضوں کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ آرٹیکل 370جسے اصل میں ایک عارضی شق کے طور پر تصور کیا گیا تھا، نے ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی خود مختاری دی تھی۔ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نے اس شق کی تخلیق اور اطلاق میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم،1957میں آئین ساز اسمبلی کا وجود ختم ہو گیا، اور اس کی غیر موجودگی کے ساتھ یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا آرٹیکل 370نے ایک مستقل کردار اختیار کر لیا ہے۔

سپریم کورٹ کے اندر آرٹیکل 370کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی نیشنل کانفرنس کی درخواست کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر قانون دان کپل سبل نے دلیل دی کہ چونکہ 1957ءکے جموں و کشمیر آئین نےآرٹیکل370کو تبدیل کرنے کے لیے کوئی طریقہ کار فراہم نہیں کیا تھا، اس لیے صرف جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کو ایسا کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ ریاستی مقننہ کا کردار نہیں سنبھال سکتی نا ہی یکطرفہ طور پر اس شق کو ختم کرنے، ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس کول نے یہ نکتہ اٹھایا کہ جموں و کشمیر کا آئین ہندوستانی آئین میں آرٹیکل370کو مستقل حیثیت نہیں دے سکتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین ایک متحرک دستاویز ہے جس میں ترامیم اور تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایڈوکیٹ سبل کا استدلال یہ تھا کہ، فی الحال، ریاست کی دستور ساز اسمبلی کے بغیر، آرٹیکل 370 میں ترمیم یا اسے منسوخ کرنے کا کوئی عمل دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پارلیمنٹ کو 1957کے بعد اسے منسوخ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ تاہم اس موقع پر عدالت نے نشاندہی کی کہ یہ موقف ایک متحرک آئین کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا، جس میں ضرورت پڑنے پر ترمیم اور تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ عدالت نے دیگر آئینی ترامیم کے مضمرات پر بھی سوال اٹھایا جس نے جموں و کشمیر پر ہندوستانی آئین کی مختلف دفعات کا اطلاق کیا۔ وہ حیران تھے کہ ایسی صورت میں آرٹیکل370 کا کیا بچ جائے گا۔چیف جسٹس نے جناب سبل سے سوال کیا کہ 370 کے ہوتے ہوئے بھی بھارتی آئین کے بے شمار قوانین جموںو کشمیرپر اطلاق کئے جاچکے ہیں تو کیا 370 کے محض خول کو ہی باقی رکھنا ضروری ہے۔ اس پر ایڈوکیٹ سبل کا کہنا تھا کہ ہاں! یہ خول قائم رکھنا اسلئے ضروری ہے کیونکہ اس کومکمل طور پر ہٹادینا پارلیمان یا ریاستی اسمبلی کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔بینچ کی جانب سے استفسار کیا گیا کہ چونکہ آئین ایک متحرک دستاویز ہوتی ہے اور اس میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں لائی جاتی ہیں ،اسلئے دفعہ370 میں تبدیلی کیونکر لائی جاسکتی ہے۔ کپل سبل کااس پر کہنا تھا کہ ایسا صرف اور صرف ایک سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جس میں جموں وکشمیر کے عوام ہی فیصلہ دے سکتے ہیں۔ سبل نے بعد میں واضح کیا کہ وہ بحث کر رہے تھے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے پاس آرٹیکل 370(3) کے تحت یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس شق میں کوئی ترمیم کرے۔ انہوں نے ہندوستانی آئین اور جموں و کشمیر کے آئین کے درمیان باہمی تعامل اور قوانین بنانے کے دوران مقررہ طریقہ کار پر عمل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ کپل سبل نے پارلیمنٹ کو آئین ساز اسمبلی کا کردار سنبھالنے کے خلاف بھی خبردار کیا، کیونکہ اس سے بنیادی ڈھانچے اور بنیادی حقوق میں تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ایک آئین ساز اسمبلی ریاست کے مستقبل کو متعین کرنے اور سماج کے مختلف طبقات کی اُمنگوں کو پورا کرنے کے لیے انتظامات وضع کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ دنیا کی کس جمہوریت میں اس قسم کی آئینی کھواڑ ممکن ہے؟

قریب تین دن تک جاری رہنے والے اپنے دلائل میں نیشنل کانفرنس کے وکیل ایڈوکیٹ کپل سبل نے آرٹیکل 370کی تشریح، اس میں ترمیم اور آرٹیکل370 نیز آرٹیکل368 کے درمیان تعلق سمیت مخلف قانونی پیچیدگیوں پر بحث کی، جو آئین میں ترمیم کا اختیار دیتا ہے۔یہ بات واضح رہے کہ قریب چار سال کی لمبی تاخیر کے بعد اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ آف انڈیا کا ایک آئینی بیچ کر رہا ہے جس میں چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ،جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس سور یہ کانت شامل ہیں۔ عدالت آرٹیکل370کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی20سے زیادہ درخواستوں کی جانچ کر رہی ہے، جس نے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیا ہوا تھا۔ اپنے دلائل کے تیسرے اور آخری دن ایڈوکیٹ کپل سبل نے راجیہ سبھا میں سابق چیف جسٹس آف انڈیار نجن گوگوئی کے ایک حالیہ بیان کو سامنے لایا جس پر چیف جسٹس چندر چوڑ نے واضح کیا کہ ریٹائرڈ ججوں کی رائے عدالت پر پابند نہیں ہے۔ سبل نے اپنے دلائل میں متاثرہ لوگوں(جموں کشمیر کے عوام) سے مشورہ کیے بغیر ریاست کی حیثیت کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنے کے آئینی جواز پر بھی توجہ مرکوز کی۔سبل نے استدلال کیا کہ اس طرح کے آئینی مسائل کو لوگوں کے حوالہ کے بغیر ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔ جموں و کشمیر کی نمائندہ آواز کہاں ہے ؟ کیا ہم نے انہیں پچھلے چار سالوں میں سنا ہے ؟ آپ ایک ایگز یکٹو ایکٹ کے ذریعے رضامندی کے ساتھ ایک معاملے کو ختم کردیتے ہیں۔کپل سبل نے سوال کیا کہ آپ ان کی رائے نہیں لیتے۔ ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ’ بریگزٹ‘ میں کیا ہوا، ایک ریفرنڈم ہوا، سبل نے یورپی یونین کو چھوڑنے کے برطانیہ کے فیصلے کی مثال پیش کی، بعد میں اپنے دلائل میں ایگزیکٹو پاور اور پارلیمانی نگرانی کے درمیان نازک توازن کو واضح کیا۔ اس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ آئینی جمہوریت میں عوام سے رائے مانگنا قائم شدہ اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔ آپ بریگزٹ جیسی صور تحال کا تصور نہیں کر سکتے۔ آئینی جمہوریت میں ریفرنڈم جیسا کچھ نہیں ہو سکتا۔

سماعت کے دوران آرٹیکل370کے تاریخی تناظر کو چھوتے ہوئےمسٹرسبل نے جموں و کشمیر کے پہلے منتخب وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی تقریر کا حوالہ دیا۔ اس موقعہ پر چیف جسٹس آف انڈیا نے شیخ عبداللہ کی تقریر پڑھتے ہوئے کہا:’’مسلم ریاست ہونے کا یہ دعویٰ صرف ایک چھلاوا ہے۔ یہ عام آدمی کو دھوکہ دینے کا ایک پر دہ ہے تا کہ وہ واضح طور پر نہ دیکھ سکے کہ پاکستان ایک جاگیر دارانہ ریاست ہے جس میں ایک گروہ اپنے آپ کو اقتدار میں برقرار رکھنے کے لیےہر طریقے سے کوشش کر رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان کا (شیخ عبد الله ) 1951ءمیں ایک وژن تھا جب وہ معاشی مفادات کی بات کر رہے تھے، جس کی دنیا آج بات کر رہی ہے۔ تاہم بحث مزید اس بات کے گرد گھومتی رہی کہ آیا آرٹیکل370کا مقصد مستقل یا عارضی ہو نا تھا۔ خاص طور پر1957میں جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کے تناظر میں۔ کپل سبل نے اپنے اختتامی ریمارکس میں کہا کہ یہ بحث ہندوستان کے آئینی منظر نامے کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سماعتوں کے دوران پیش کیے جانے والے دلائل ،قانونی تشریحات، سیاسی فیصلوں اور ملک کے حکمرانی کے ڈھانچے پر ان کے اثرات کے درمیان پیچیدہ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ان کی دلیل تھی کہ اگر انتظامیہ کی اس طرح کی کارروائیوں سے عوام کی آواز کو خاموش کر دیا جائے تو مستقبل کیا ہوگا ؟یہ ایک تاریخی کیس ہے ، نہ صرف موجودہ زمانےکے لیے بلکہ مستقبل کے لیے بھی۔ مجھے امید ہے کہ عدالت اس ضمن میں عوامی مفادات کا ساتھ دے گی۔ ایڈوکیٹ کپل سبل کے دلائل پر محیط سماعتوں میں ، اب تک، صرف دو اہم سوالات تھے جو بنچ نے پوچھے ۔ کیا آرٹیکل 370کا مقصد مستقل یا عارضی ہو نا تھا؟ اگر جموں و کشمیر کے لوگ بھی بالفرض اس کا خاتمہ چاہتے ہیں تو اس کو ختم کرنے کے طریقے اور ذرائع کیا ہیں؟

کپل سبل کے مفصل اور مدلّل دلائل کے بعد ایک اور سینئر وکیل گوپال سبرامنیم نے سپریم کورٹ بینچ کے سامنے اپنے دلائل شروع کئے۔سبرامنیم نے اپنی ابتدائی گزارشات میں کہا کہ ہندوستان اور جموں و کشمیر کے آئین آرٹیکل 370کے ذریعے ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں۔سبرامنیم نے عرض کیا کہ ہندوستانی آئین اور جموں و کشمیر کا1957کا آئین ’’ایک ساتھ موجود ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تکمیلی وجود ہندوستان اور جموں و کشمیر کے درمیان تعلقات کا خلاصہ ہے۔انہوں نے دونوں آئینوں کو ایک دوسرے کے لیے ’’تکمیلی‘‘ قرار دیا۔سبرامنیم نے عرض کیا کہ عدالت کو اس کیس میں’’بنیادی ڈھانچہ‘‘ کا تعین کرنا ہوگا کہ آیا آرٹیکل 370کے تحت خصوصی حیثیت کو ختم کیا جاسکتا ہے یا نہیں، ہندوستان کے آئین کے ساتھ ساتھ اس کے آئین کو بھی استعمال کرنا ہوگا۔ سبرامنیم نے جو دوسرا نکتہ پیش کیا وہ یہ ہے کہ ایک دستور ساز اسمبلی کو بنیادی طور پر آئین بنانے کا غیر معمولی کام سونپا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ کیس میں، عدالت کا تعلق صرف ایک نہیں بلکہ دو آئین ساز اسمبلیوں کے مینڈیٹ سے ہے، یعنی ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی اور جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی۔سبرامنیم نے پارلیمنٹ یا ریاستی مقننہ کو عطا کردہ ترمیمی طاقت کے خلاف آئین ساز اسمبلی میں حاصل اختیارات کے درمیان فرق کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے زور دیا کہ کچھ اصول جیسے غیر متناسب وفاقیت، ریاست کے بقایا اختیارات، اور مستقل رہائش کا حق جموں و کشمیر کے آئین کا ایک ناقابل تردید حصہ بن گئے ہیں اور جو جموں و کشمیر پر لاگو ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی آئین میں بھی جھلکتا ہے۔سبرامنیم نے عرض کیا کہ دو صدارتی احکامات جو ’’مجموعہ اور مادہ ‘‘میں جموں و کشمیر کے آئین کو ختم کرتے ہیں ’’نا جائز‘‘ہیں۔ انہوں نے دلیل دی، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی عمل اس مقصد کے مطابق نہیں ہے جس کے ساتھ اسے سونپا گیا ہے، تو اسے ایک غیر مجاز عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔مسٹرسبرامنیم نےگزشتہ کارروائی میں چیف جسٹس آف انڈیاکی طرف سے کئے گئے مشاہدات میں سے ایک کا حوالہ دیا کہ لوگوں کی مرضی کا اظہار اداروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک آئین ساز اسمبلی اور ریاست کی مقننہ دونوں ’’تسلیم شدہ‘‘ ادارے ہیں۔منسوخی کی حد تک رسائی کے لیے ’’ ڈگری ٹیسٹ ‘‘کا اطلاق کیا جائے گا۔سبرامنیم نے کہا کہ عدالت کو منسوخی کی حد کا اندازہ لگانے کے لیے’’ڈگری ٹیسٹ‘‘ یا’’اثر ٹیسٹ‘‘کا اطلاق کرنا چاہیے۔اس ٹیسٹ کا اطلاق سابق چیف جسٹس آف انڈیا مسٹرکپاڈیہ نے گلین راک اسٹیٹ لمیٹڈ td بمقابلہ اسٹیٹ آف تامل ناڈو 2010 میں کیا تھا۔ڈگری ٹیسٹ کا اطلاق مقننہ کے ترمیمی اختیارات کے حوالے سے کیا گیا تھا۔جسٹس کپاڈیہ نے اس امتحان کی تعریف اس طرح کی تھی کہ اگر کسی کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آئینی ترمیم بنیادی اقدار یا بنیادی اصولوں (جیسے) سیکولرازم اور مساویانہ مساوات کو منسوخ کرنے کی کوشش کرتی ہے، اور جو آئین کو دوبارہ لکھنے کی ضمانت دیتی ہے، تو ایسا آئینی قانون یقینی طور پر بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرے گا۔سبرامنیم نے بنچ کو بتایا کہ ہندوستانی آئین ’’غیر متناسب وفاقیت‘‘ کو تسلیم کرتا ہے۔یہ واضح کرتے ہوئے کہ غیر متناسب وفاقیت کا کیا مطلب ہے، سبرامنیم نے مزید کہا کہ اصول یہ کہتا ہے کہ ’’خاص حالات اور لوگوں کی خصوصی ضروریات‘‘ کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔سبرامنیم آئین ہند کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے تعارفی تقریر کا حوالہ دیا جس میں مؤخر الذکر بیان کرتے ہیں کہ ہندوستانی آئین کا وفاقی ڈھانچہ ریاست میں لوگوں کو خصوصی حقوق اور مراعات دینے کی اجازت دیتا ہے۔جموں و کشمیر کسی دوسری شاہی ریاست کے برعکس سبرامنیم نے عرض کیا کہ عدالت کو اس حقیقت کو دھیان میں رکھنا چاہئے کہ ’’جموں و کشمیر کسی دوسری ریاست کی طرح نہیں تھا‘‘۔انہوں نے اس دلیل کو یہ بتاتے ہوئے واضح کیا کہ، دیگر شاہی ریاستوں کے برعکس، جموں و کشمیر کا اپنا 1939کا آئین تھا، یہاں تک کہ ہندوستان کے تسلط کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی یہ آئین موجود تھا۔انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہندوستانی دستور ساز اسمبلی نے اس حقیقت کو نوٹ کیا کہ جموں و کشمیر کی خودمختاری کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔سبرامنیم نے نشاندہی کی کہ آرٹیکل 306کے مسودے پر بحث کرتے ہوئے ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کی طرف سے اس اعتراف کی وجہ یہ تھی کہ جموں و کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کو ہندوستان کے ساتھ انضمام کے پہلو پر فیصلہ لینے کا اختیار حاصل ہے۔یونین کو یہ ماننا غلط ہے کہ یہ یکطرفہ اختیارات کا استعمال کر سکتا ہے۔ ایڈکیٹ گوپال سبرامنیم کے بعد یہ سطور تحریر کئے جانے تک جموںوکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی پیروری کرنے والے سینئر قانون دان ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ سپریم کورٹ کے سامنے اپنے دلائل پیش کررہے تھے ۔

ظفر شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اسمبلی کے ذریعہ قوانین بنانے کا اختیار اہم تھا۔ بہت سے قوانین مرکزی قانون کے مطابق تھے۔ جیسا کہ احتیاطی حراستی ایکٹ مرکزی قانون کی طرح تھا۔ رنبیر پینل کوڈ آئی پی سی جیسا ہی تھا۔ لیکن ریاستی اسمبلی آر پی سی میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن آئی پی سی میں نہیں۔ قانون بنانے کی طاقت نے ہمیں آئینی خود مختاری دی تھی جو ہم سے چھین لی گئی۔ایک موقع پر بینچ میں شامل جسٹس سنجیو کھنہ نے ظفر شاہ سے سوال کیا کہ ان کے نزدیک سپریم کیا ہے؟ آئین یا انضمام کا معاہدہ؟شاہ نے کہا کہ اہم دستاویز الحاق ہے۔جسٹس سنجیو کھنہ نے پوچھا کہ سپریم کیا ہے، آئین یا الحاق کا آلہ یعنی دستاویز؟ اس پر ظفرشاہ نے جواب دیا کہ یقیناً ہندوستان کا آئین سپریم ہے لیکن بشمول آرٹیکل 370۔ایک موقع پر چیف جسٹس آف انڈیا نے ظفر شاہ سے کہا کہ عدالت ان کی دلیل کو سمجھ چکی ہے اور1954 ء میں جو خاصی خود مختاری جموں کشمیر کو دی گئی تھی وہ عیاں ہے لیکن وہ بے شک تحریراً ہی سہی عدالت کو بتائیں کہ 4 اگست2019کے موقع پر اس خود مختاری کی دفعات میں سے کون سی دفعات مستثنیات کے طور پر موجود تھیں اور کن کی منسوخی مکمل طور پرکی گئی تھی تاکہ عدالت کو ایک صحیح اندازہ لگانا آسان ہوجائے۔ ظفر شاہ ایڈوکیٹ نے اس موقع پر عدالت کو اس حوالے سے کھانے کے وقفے کے بعد مطلع کرنے کا اعلان کیا۔

بہرحال عدالت عظمیٰ میں جاری اس کارروائی کا کیا نتیجہ برآمد ہوگا وہ آنے والا وقت بتائے گا لیکن ایک بات دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ اس عدالتی کارروائی کی لایئو اسٹریمنگ نے نہ صرف بھارت بھر کے عوام خاص طور پر پڑھے لکھے طبقے کے اندر دفعہ370 ،اسکی اہمیت،اسکی ضرورت،اس کو ختم کرنے کے طریقہ کار کی قانونی یا دوسری شکل وغیرہ جیسی بحث کو گھر گھر پہنچادیا ہے ۔

بقول ایک سینئر صحافی’ اس کیس میں سپریم کورٹ کی مصروفیت آرٹیکل 370سے متعلق پیچیدگیوں کو واضح کرنے کی اہمیت کی نشاندہی کرتی ہے۔ جیسے جیسے سماعت آگے بڑھے گی، عدالت کا فیصلہ اس اہم آئینی معاملے پر قابل قدر وضاحت فراہم کرے گا۔ حتمی فیصلے سے قطع نظر، یہ مقدمہ ملک کے قانونی منظر نامے پر دیرپا اثر چھوڑے گا، اور یقین کیا جانا چاہئے کہ جمہوریت کے اصولوں، چیک اینڈ بیلنس اور قانون کی حکمرانی کو تقویت بخشے گا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

15اگست کے پیش نظر سرینگر اور وادی کے دیگر علاقوں میں سخت سیکورٹی انتظامات

Next Post

ممبئی سےتعلق رکھنے والے کرکٹر سرفراز خان نے کشمیر میں رچائی شادی؛ مہمان نوازی سے ہوئےمتاثر

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

یومِ جمہوریہ محض پریڈز تک محدود نہیں ہونا چاہیے، آئین کا تحفظ ضروری: محبوبہ مفتی

26/01/2026
جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

جموں و کشمیر میں یوم جمہوریہ تقریب کا انعقاد، ایل اجی منوج سنہا کا یوٹی کی سلامتی اور ترقی پر زور

26/01/2026
پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

پاکستان کی کشمیر کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام: نائب وزیر اعلیٰ

26/01/2026
کشتواڑ کے سنگھ پورہ علاقے میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹینٹوں کے درمیان تصادم

کشتواڑ کے جنگلات میں تازہ تصادم، فائرنگ کا تبادلہ جاری

26/01/2026
نیشنل کانفرنس نے میاں الطاف کو اننت ناگ-راجوری سیٹ کے لیے لوک سبھا امیدوار نامزد کیا

میاں الطاف کی بجبہاڑہ–پہلگام ریلوے لائن کی مخالفت کرنے والے دیہاتیوں کی حمایت

25/01/2026
نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

نائب وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر کی سرمائی تیاریوں میں ناکامی پر افسران کو سخت وارننگ

25/01/2026
Next Post
ممبئی سےتعلق رکھنے والے کرکٹر  سرفراز خان نے کشمیر میں رچائی شادی؛ مہمان نوازی سے ہوئےمتاثر

ممبئی سےتعلق رکھنے والے کرکٹر سرفراز خان نے کشمیر میں رچائی شادی؛ مہمان نوازی سے ہوئےمتاثر

رنگریٹ انکاؤنٹر کے بعد نعرے بازی کے مبینہ الزام میں ماں بیٹی کی گرفتاری قابل مذمت ہے: سجاد غنی لون

کشمیر میں سیاحوں کا راج ہے، ہم تو کہیں نہیں:سجاد لون

سری نگرمیں تاریخی گھنٹہ گھر پر ترنگا نصب

سری نگرمیں تاریخی گھنٹہ گھر پر ترنگا نصب

370 آرٹیکل 370 معاملے پر سپریم کورٹ میں گیارہ جولائی کو سماعت

یہ کہنا مشکل ہے کہ دفعہ 370 کو کبھی منسوخ نہیں کیا جاسکتا : سپریم کورٹ

تحریک عدم اعتمادناکام، کس نے کیا کہا؟

تحریک عدم اعتمادناکام، کس نے کیا کہا؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »