• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
اتوار, جنوری ۲۵, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
امریکی سیب کی کشمیری سیب کو للکار : درآمدی محصول میں کمی کے فیصلے نے کشمیری میوہ صنعت کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے

امریکی سیب کی کشمیری سیب کو للکار : درآمدی محصول میں کمی کے فیصلے نے کشمیری میوہ صنعت کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے

شاہد لطیف

by امت ڈیسک
14/09/2023
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

کہتے ہیں کہ بدقسمتی کبھی بھی اکیلے نہیں آتی۔ یہی حال کشمیری میوہ اُگانے والوں اور اس صنعت سے وابستگان کا ہے۔ ایک طرف سے بے وقت کے موسمی تغیرات، نیشنل ہائی وے پر ٹرکوں اور میوہ سے لدی گاڑیوں پر رکاوٹوں کے نتیجے میں میوہ کی تباہی اور ناقص جراثیم کش ادویات کے مضر اثرات نے میوہ صنعت کے وابستہ کشمیریوں کی کمر پہلے ہی توڑ کررکھ دی ہے اوردوسری جانب تجارتی ڈپلومیسی کے تحت امریکی سیبوں، بادام اور اخروٹ پر درآمدی ڈیوٹی کو کم کرنے کے اعلان نے اس صنعت سے وابستہ لاکھوں کشمیریوں کے سامنے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔

حال ہی میں نئی دہلی کے اندر جی 20 کے کامیاب اجلاس کے بعد جیسے ہی درآمدی ڈیوٹی میں کمی کا یہ اعلان ہوا ملک بھر کے تاجروں کے ساتھ ساتھ جموںو کشمیر کے میوہ انڈسٹری سے متعلق لوگوں نے بھی اس پر خاصی تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مانگ کی ہے کہ اس فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے کیونکہ اس کے نتائج مقامی میوہ اگانے والوں اور اس صنعت سے وابستہ کروڑوں خاندانوں کےلئے تباہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر چہ حکومت کی جانب سے اس ضمن میں وضاحت بھی کی گئی ہے لیکن اس سے بھی متعلقین مطمئن نہیں ہوئےہیں ۔ مرکزی حکومت نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ درآمدی محصول میں کی گئی کمی سے مقامی تاجروں پر کوئی بُرا اثر نہیں پڑے گا۔ سرکاری محکمہ تجارت میں ایڈیشنل سکریٹری پیوش کمار نے کہا کہ ہندوستان اس ڈیوٹی کو ہٹا کر’’اضافی‘‘ کچھ نہیں دے رہا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ ’’ہم نے امریکی سیبوں کے لئے فلڈ گیٹ کھول دیا ہے‘‘۔سینئر سرکاری اہلکار نے کہا کہ درآمد شدہ امریکی سیبوں پر20فیصد جوابی کسٹم ڈیوٹی ہٹانے کے فیصلے کا ہندوستانی کسانوں پر’’صفر‘‘ اثر پڑے گا کیونکہ حکومت کے پاس کاشتکاروں کی مدد کرنے کے لئے واضح پالیسی موجود ہے کہ اگر اس اقدام کا کوئی منفی اثر ہوتا ہے تو کسانوں کی مدد کیسے کی جائے۔پیوش کمار نے کہا کہ ہندوستان اس ڈیوٹی کو ہٹا کر’’اضافی‘‘ کچھ نہیں دے رہا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ ’’ہم نے امریکی سیبوں کے لئے سیلابی دروازہ کھول دیا ہے‘‘۔درحقیقت، یہ ہندوستان کے لیے ایک جیت کا سودا ہے کیونکہ یہ امریکی مارکیٹ میں گھریلو اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بحال کرتا ہے، جو کہ2018میں امریکہ کی جانب سے اعلیٰ ڈیوٹی کے نفاذ کی وجہ سے متاثر ہوا تھا۔

اس اضافی ڈیوٹی کو ہٹانے کا فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کے واشنگٹن اور نیویارک کے حالیہ دورے کے دوران ہندوستان اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا حصہ تھا۔ ہندوستان اور امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں چھ تجارتی تنازعات کو ختم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے تحت ہندوستان چنے، دال اور سیب سمیت آٹھ امریکی مصنوعات پر ڈیوٹی کو ہٹا دے گا، جو 2019ءمیں امریکہ کے بعض اسٹیل اور ایلومینیم مصنوعات پر ٹیرف بڑھانے کے اقدام کے جواب میں عائد کیے گئے تھے۔بھارت نے 28امریکی مصنوعات پر جوابی ڈیوٹی عائد کردی تھی۔ امریکہ نے قومی سلامتی کی بنیاد پر سٹیل کی مصنوعات پر 25فیصد اور ایلومینیم کی بعض مصنوعات پر 10فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی تھی۔سیکٹری پیوش کا کہنا تھا کہ ڈیوٹی ہٹانے سے ہندوستانی کسانوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گاکیونکہ سیب پر درآمدی ڈیوٹی اب بھی50فیصد پر ہے۔واضح رہے کہ امریکہ سے سیب کی درآمد2018-2019 میں درآمدات سے کافی کم ہو کر2022-2023میں صرف 5اعشاریہ27ملین امریکی ڈالر رہ گئی تھی۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی سیبوں پر اضافی جوابی ڈیوٹی عائد کرنے کی وجہ سے امریکی سیب کا مارکیٹ حصہ دوسرے ممالک نے لیا تھا، کیونکہ امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک سے درآمدات کافی بڑھ گئی تھیں۔ درآمدی منڈی کے حصے میں امریکہ کا درآمدی حصہ ترکی، ایران ، چلی، نیوزی لینڈ اور اٹلی جیسے ممالک نے لیا۔ حکومت کا مانن ہے کہ امریکی سیبوں پر اضافی ڈیوٹی ہٹائے جانے کے بعد اب امریکہ کو ہندوستانی سٹیل اور ایلومینیم کی برآمدات کے لئے مارکیٹ تک رسائی بحال ہو گی جبکہ اس کے نتیجے میں سیب کے گھریلو پروڈیوسرز پر کوئی اضافی منفی اثر نہیں پڑے گا ۔ حکومت کا مذید کہنا ہے کہ ما قبل وزارت تجارت نے مئی میں بھوٹان کے علاوہ سیبوں پر 50دی گئی روپے فی کلو کی ایم آئی پی (کم از کم درآمدی قیمت) عائد کی تھی۔یہ ایم آئی پی امریکہ کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک (بھوٹان کے علاوہ) کے سیب پر لاگو ہوگا، جو سیلاب کو روکے گا۔

مرکزی حکومت کی اس یقین دہانی اور ضاحت کے باوجود بھارت بھر کے مقامی تاجر وں کے ساتھ ساتھ جموںو کشمیر کے تاجر بھی امریکہ کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر نالاں اور پریشان ہیں اور اس معاہدے کے تحت امریکہ کو درآمدی محصول کی چھوٹ کے فیصلے کو واپس لینے پر زور دے رہے ہیں۔ دی وائر نامی ویب پورٹل میں چھپے ایک مضمون کے مطابق کشمیری میوہ اگانے والے اور اس کی تجارت سے وابستہ لوگ خاص طور پر اس فیصلے سے بہت پریشان ہیں ۔ ’’بیرونی دنیا میں واہ واہی کے حصول کےلئے کشمیریوں کو اذیت میں ڈالنے کا عمل‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے اس مضمون میں کہا گیا ہےکہ کشمیری تاجروں اور کاشتکاروں کے نزدیک حکومت کےسیب درآمدگی محصول میں کمی کا یہ فیصلہ مقامی صنعت کو بری طرح متاثر کردے گا۔ ایسے وقت میں جب سیب کی کٹائی کا سیزن شروع ہونے والا ہے، ٹیکس میں چھوٹ کے ساتھ واشنگٹن کے سیبوں کا بازار میں داخلہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بنے گا جس سے مقامی صنعت بری طرح متاثر ہوگی۔

بھارت بھر میں کشمیر سیب پیدا کرنے والا سب سے بڑا خطہ ہے، جس نے گزشتہ سال تقریباً 21لاکھ میٹرک ٹن پھل پیدا کیے (جو ہندوستان میں پیدا ہونے والے70فیصد سے زیادہ سیب ہیں) جس سے جموں و کشمیر میں 10 ہزار سے 14 ہزارکروڑ روپے کے درمیان کی آمدنی ہوتی ہے۔ باغبانی کا شعبہ جموں وکشمیر کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً8سے 10فیصد کا حصہ ڈالتا ہے۔یہ بات پہلے ہی لکھی گئی ہے کہ2019ءمیں، ہندوستان اور امریکہ تجارتی جنگ میں پھنس گئے تھے جب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں، واشنگٹن نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، مخصوص اسٹیل اور ایلومینیم کی اشیاء پر 10سے 25فیصد ٹیرف بڑھا دیا۔ بھارت نے واشنگٹن سے آنے والے سیب سمیت متعدد امریکی مصنوعات پر محصولات بڑھا کر اس بدلہ لیا۔اضافی محصولات کے نفاذ نے امریکہ سے ہندوستان کی سیب کی درآمدات میں زبردست کمی کی۔پچھلے چار سالوں میں، ترکی ہندوستان کے لیے سیب فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر اُبھرا ہے، جو سیب کی کل درآمدات کا84فیصد سے زیادہ حصہ بناتا ہے، اس کے بعد اٹلی، چلی اور ایران کا نمبر آتا ہے۔

کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں کٹائی کا موسم شروع ہونے کے ساتھ ہی، مارکیٹ میں اعلیٰ معیار کے واشنگٹن سیب کی آمد ، جو اپنی شیلف لائف کو بڑھانے کے لیے موم سے پالش کیے جاتے ہیں، نے مقامی کاشتکاروں اور تاجروں کے حوصلے پست کر دئے ہیں، جو اس سال کم گھریلو پیداوار سے فائدہ اٹھانے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ اس سال جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش میں غیر موسمی بارشوں، ژالہ باری اور سیلاب کی وجہ سے سیب کی پیداوار کا40 سے 50فیصد نقصان ہوا جس کی وجہ سے سیب کے درختوں میں خارش اور پاؤڈری پھپھوندی جیسی بیماریاں پھیلنے اور پھلوں کے ناپختہ گرنے کا سبب بنے ہیں۔محصول پر نظر ثانی، جس نے نئی دہلی کی طرف سے اعلیٰ واشنگٹن سیبوں پر 2019سے عائد کردہ70فیصدمحصول سے20فیصد اضافی کاٹ دی ہے، اس سال جون میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ریاستہائے متحدہ کے دورے کے دوران اعلان کیا گیا تھا۔یہ فیصلہ 5ستمبر کو نافذ ہوا جب مرکزی وزارت خزانہ نے مبینہ طور پر قومی دارالحکومت میں جی 20سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم مودی اور ان کے امریکی ہم منصب جو بائیڈن کے درمیان ملاقات سے قبل ایک نوٹیفکیشن جاری کیا۔نوٹیفکیشن میں کئی امریکی مصنوعات جیسے اخروٹ، دال، چنے اور سیب پر ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا گیا۔

درایں اثناءکشمیر میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے جبکہ مقامی متعلقین کو اس بات پرنالاں ہیں کہ اس چھوٹ سے کشمیر کی سیب کی صنعت پر منفی اثر پڑے گا، جس میں بالواسطہ اور بالواسطہ طور پر 30لاکھ سے زائد افراد کو روزگار ملتا ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ کئی دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی پہلے ہی سیب کی پیداوار کی لاگت میں اضافے کا باعث بنی ہے جبکہ پیداوار میں بھی گزشتہ سالوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔یہ ٹیکس چھوٹ (امپورٹڈ امریکی سیبوں پر) نہ صرف کشمیر کے کسانوں کو بلکہ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں بھی متاثر کرے گی۔

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے چھوٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ جموں و کشمیر کے لوگوں اور انتظامیہ کے درمیان ’’رابطہ منقطع ہونے کی عکاسی کرتا ہے، جسے براہ راست یونین حکومت چلاتی ہے۔‘‘ ان کا مذید کہنا تھا کہ ’’ہم یہاں درآمد شدہ سیب، اخروٹ یا بادام نہیں چاہتے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ’’ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ حکومت امریکہ اور دیگر ممالک کو خوش کرنے کے لیے کشمیر کے لوگوں پر مشکلات بڑھا رہی ہے۔ کشمیریوں کو صرف بیرونی ممالک سے واہ واہی حاصل کرنے کے لیے اذیت میں ڈالا جارہا ہے‘‘۔سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جی 20 کے دوران مراعات کا اعلان کیا گیا تو یہ نہیں سوچا گیا کہ اس کا ہماری معیشت پر کیا اثر پڑے گا۔ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ یہ ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ کو بھی متاثر کرے گا۔‘‘ ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر سیب اگاتا ہے، اور اخروٹ بھی ،جو ہماری بڑی معیشت ہے۔امریکہ کو خوش کرنے کے لیے، مقامی کاشتکاروں کو ختم کرنا کہاں کی دانشمندی ہے ۔انہوں نے کہا کہ’’ میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں۔ بھارت کو ایسا قدم نہ اٹھانا چاہیے جس سے یہاں پہلے سے موجود غربت میں اضافہ ہو اور ہم ایک اور بحران میں پھنس جائیں۔ اگر وہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا نہیں کرتے تو ہم سڑکوں پر آکر احتجاج کریں گے۔‘‘ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے مرکز پر الزام لگایا کہ وہ اس فیصلے سے کشمیر کے کاشتکاروں کو سخت مشکلات میں ڈال رہا ہے۔ محترمہ مفتی نے کہا کہ ’’پھلوں پر درآمدی ڈیوٹی کوکم کر کے امریکی صدر جو بائیڈن کو مودی جی کا کشمیری پھل کاشتکاروں کے آنسوؤں کے بدلے میں ایک تحفہ تھا۔‘‘ پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے بھی سیب کے کاشتکاروں پر تباہ کن اثرات کے بارے میں خبردار کیا، خاص طور پر وادی کشمیر میں، جو گزشتہ تین دہائیوں سے چیلنجوں سے دوچار ہے۔لون کا کہنا تھا کہ ’ہندوستانی منڈی میں مفت داخلے کی اجازت کشمیر اور ملک کے باقی حصوں میں سیب کے کاشتکاروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔ صورتحال کی سنگینی اس وقت عیاں ہو جاتی ہے جب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستانی منڈی، جو پہلے ہی اپنے مقامی کاشتکاروں کے لیے سبسڈی یا امداد سے محروم ہے، اب ایک ایسی قوم سے کسٹم ڈیوٹی فری درآمدات کے دروازے کھول رہی ہے جو اپنی سیب کی صنعت کو خاطر خواہ سبسڈی فراہم کرتی ہے‘۔ اس فیصلے کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے رہنما ایم وائی تاریگامی نے کہا، ’’اس فیصلے کا خطے کے معمولی کاشتکاروں اور چھوٹے تاجروں پر تباہ کن اثر پڑے گا، کیونکہ وہ پہلے ہی پچھلے کئی سالوں سے بھاری نقصان سے دوچار ہیں۔ سیب، اخروٹ پر 100فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کرنا ان کاشتکاروں کے وسیع تر مفاد میں ہے، جو قرضوں کا سامنا کر رہے ہیں اور افراط زر کے پیش نظر ان پر لاگت کی تلافی بھی نہیں کر پا رہے ہیں‘‘۔ جموں و کشمیر’ اپنی پارٹی ‘کے جنرل سکریٹری رفیع احمد میر نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس حقیقت کو دھیان میں رکھے کہ کشمیر ی پھل کاشتکار خاص طور پر اگست2019ءسے نمایاں نقصانات سے دوچار ہیں۔’’حکومت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پھلوں کی صنعت جموں و کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور لاکھوں لوگ اپنی روزی روٹی کے لیے اس صنعت پر بالواسطہ یا بالواسطہ انحصار کرتے ہیں۔‘‘

چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ڈاکٹر عمر نذیر تبت بکال جوکے سی سی آئی کے جوائنٹ سیکرٹری جنرل ہیں نے امریکہ سے درآمد کیے جانے والے سیب، اخروٹ اور بادام پر اضافی درآمدی ڈیوٹی ہٹانے کے لیے مرکز کے اقدام کو’’حیران کن‘‘ قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’اس طرح کے غیر وقتی فیصلے سے نہ صرف کشمیر کے تقریباً سات لاکھ سیب کاشتکار خاندانوں پر سخت اثر پڑے گا۔ یہ تجارت سے بالواسطہ طور پر جڑے لاکھوں دوسرے لوگوں کی روزی روٹی پر منفی اثر ڈالے گا۔ امریکہ سے درآمد کیے جانے والے سستے سیب یا خشک میوہ جات ظاہر ہے کہ مسابقتی منڈی میں کشمیری پیداوار کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوں گے۔ اس سے تقریباً۹ ہزارکروڑ مالیت کی سیب کی صنعت پر تباہی پھیلنے کا اندیشہ ہے، جو ریاستی معیشت میں بڑا حصہ ڈالتی ہے‘‘ کشمیر میں سیب کے کاشتکاروں اور تاجروں کی سرکردہ تنظیم آل ویلی فروٹ گروورز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر نے کہا کہ حکومت کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔تاجروں کے مطابق کشمیر کی سرخ لذیذ قسم، جو کشمیر میں پیدا ہونے والے کل سیب کا 70 سے 80فیصد بنتی ہے، گزشتہ سال ہول سیل مارکیٹ میں تقریباً 75روپے فی کلو گرام میں فروخت ہوئی۔ کشمیری لال لذیذ سیب کا ایک ڈبہ، جس میں تقریباً 20کلو گرام پھل ہوتا ہے، نئی دہلی کی آزاد پور منڈی جو ملک کی سب سے بڑی فروٹ منڈیوں میں سے ایک ہے، میں ایک ہزار دو سو سے ایک ہزار پانچ سوروپے میں ملتا ہے۔اس کے مقابلے میں، ایک تاجر کے مطابق، آزاد پور منڈی کی ہول سیل مارکیٹ میں ایک کلو درآمدی امریکی سیب تقریباً 120روپے میں فروخت ہوا۔ 32کلو کا ڈبہ پچھلے سال تین ہزار سے چار ہزار روپے میں فروخت ہوا جبکہ 25کلو کا ڈبہ اڑھائی ہزار ست تین ہزارروپے میں ملا۔محصول میں نظر ثانی سے تھوک مارکیٹوں میں چمکدار سرخ اور چمکدار واشنگٹن سیب کی قیمت 100روپے فی کلو تک کم ہو جائے گی، جس سے وہ مقامی سیب کی اقسام کے لیے براہ راست اور زیادہ طاقتور حریف بن جائیں گے جن کا رنگ پھیکا ہے اور چمک بھی نہیں ہے‘‘۔وسطی کشمیر میں سیب کے ایک کاشتکار کا کہنا ہے کہ ’’چھوٹ درآمد شدہ اور مقامی سیب کے درمیان قیمت کے فرق کو کم کر دے گی۔ درآمد شدہ سیبوں کا معیار غیر معمولی طور پر بلند ہے اور ہمارے سیب ان کے سامنے کوئی موقع نہیں رکھتے،‘‘ اسی طرح کشمیر میں سیب پیدا کرنے والے سب سے بڑے اضلاع میں سے ایک شوپیاں کے ایک کاشت کارکا کہناہے کہ’ امریکہ میں کسان کاشتکاری کی ٹیکنالوجی کے استعمال اور ان کی حکومتوں کی طرف سے فراہم کردہ سبسڈی کے لحاظ سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں‘۔ محصول پر چھوٹ ہندوستان میں کاشتکاروں اور تاجروں دونوں کو یکساں طور پر متاثر کرے گی کیونکہ سیب کی گھریلو اقسام واشنگٹن کے سیب کا مقابلہ نہیں کر سکتیں‘‘۔

بہر حال! امریکی سیب، اخروٹ اور بادام کو محصول میں دی جانے والی چھوٹ پر سبھی نالاں ہیں اور حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اگرچہ حکومت نے اپنی طرف سے کچھ یقین دہانیاں بھی کرائی ہیں لیکن حق یہ ہے کہ محصول میں کمی کا خمیازہ جملہ بھارتی کاشتکاروں کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر کے میوہ صنعت سے وابستہ لاکھوں کنبوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ چونکہ امریکہ کے ساتھ کیا جانے والا یہ معاہدہ عالمی تجارتی انجمن (ڈبلیو ٹی او) کے ذریعے ہوا ہے اور یہ ایک عالمی معاہدہ ہے جس کو مرکزی حکومت ملکی معیشت کےلئے بہتر تصور کرتی ہے ،اس لئے بہت کم امکانات ہیں کہ اس فیصلے پر کوئی نظر ثانی کی جائے گی۔ میوہ صنعت کے وابستہ افراد اور کنبوں کےلئے یہ ایک آزمائش کی گھڑی ہے ہی ساتھ ہی ساتھ یہ جموں کشمیر کی معیشت کے لئے بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا ہمارے میوہ اگانے والے اور ماہرین معیشت اس نئے چیلنج کا مقابلہ کرنےلئے تیار ہیں اور یہ بھی کہ اگر درآمدی محصول میں کمی کرنے کے منفی اثرات نکل آتے ہیں تو کیا مرکزی حکومت اس کو رول بیک کرنے کا سوچ سکتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’کہیں پر مفت کھانا نہیں ملتا‘۔موجودہ وقت مفادات کا وقت ہے اور اگر کسی کو بھی اپنی معیشت یا صنعت کو بچانا ہے تو اسے عالمی معیاروں کے شانہ بشانہ چل کر اپنی پیداواری صلاحیت میں نکھار پیدا کرنا پڑتا ہے ۔ امیدکی جانی چاہئے کہ کشمیری فروٹ گروورس اس نئی آزمائش کا مقابلہ کریں گے اور اس امتحان میں ضرور سرخرو ہوکر رہیں گے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

سرینگر سڑک حادثہ میں ایک نوجوان ہلاک

Next Post

سحرش اصغر کا ڈپیوٹیشن ختم، واپس پنجاب کیڈر طلب

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

ادھمپور کی جانب سے پھنسی ہوئی گاڑیاں نکال لی گئیں، جموں جانے والی ٹریفک معطل

25/01/2026
وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم  وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی کو کابینہ وزیر کا درجہ دے دیا گیا

24/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کھیلے گا ٹی20 ورلڈ کپ

24/01/2026
کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان

کشمیر میں اگلے 48 گھنٹوں کے دوران موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان

24/01/2026
یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل تمام انتظامات مکمل، برفباری کے بعد زمینی اور ہوائی رابطہ بحال،صوبائی کمشنر کشمیر

یوم جمہوریہ کی تقریب سے قبل تمام انتظامات مکمل، برفباری کے بعد زمینی اور ہوائی رابطہ بحال،صوبائی کمشنر کشمیر

24/01/2026
مبینہ حملے کے بعد تہار میں ایم پی انجینئر رشید کو جیل نمبر 1 منتقل کیا گیا

عدالت نے رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید کو حراستی پیرول پر بجٹ اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی

24/01/2026
Next Post
سحرش اصغر کا ڈپیوٹیشن ختم، واپس پنجاب کیڈر طلب

سحرش اصغر کا ڈپیوٹیشن ختم، واپس پنجاب کیڈر طلب

کشمیر کے مختلف اضلاع میں کینڈل لائٹ مارچ نکالا گیا

کشمیر کے مختلف اضلاع میں کینڈل لائٹ مارچ نکالا گیا

راجوری میں سیکورٹی فورسز اور ملی ٹنٹوں کے مابین جھڑپ

کوکرناگ انکاؤنٹر: ایک اور فوجی اہلکار ہلاک، تعداد 04 تک پہنچ گئی

جموں و کشمیر و لداخ ہائی کا وقف بورڈ کی ہدایت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

جموں و کشمیر و لداخ ہائی کا وقف بورڈ کی ہدایت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر چدمبرم کی مرکز پر تنقید

کشمیر میں سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت پر چدمبرم کی مرکز پر تنقید

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »