22 ستمبر جمعۃ المبارک کے روز ،چار برس کے طویل عرصے کے بعد ،جیسے ہی میرواعظ محمد عمر فاروق جامع مسجد کے منبر پرپہنچے تو ان کی آنکھیں چھلک پڑیں اور بزبان حال وہ سب کچھ بیان کرگئیں جو پچھلے کئی برسوں کے دوران انہیں سہنا پڑا ۔ میرواعظ جسمانی لحاظ سے کافی کمزور دکھے اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ گویا انہیں خود بھی یقین نہیں آرہا ہو کہ وہ فی الواقع جامع مسجد کے منبر پر موجود ہیں۔ پچھلے چار برسوں کے دوران لیفٹیننٹ گورنر سے لیکر پولیس سربراہ اور انتظامیہ کے اعلیٰ ترین آفیسران بار بار اس بات کو دہرارہے تھے کہ میرواعظ محمد عمر فاروق نظر بند یا پابندِ سلاسل نہیں ہیں بلکہ ایک آزاد شہری ہیں اور ان کے اردگرد موجود پولیس حصار صرف اور صرف ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلئے لگایا گیا ہے لیکن خود میرواعظ ،ان کی جماعت عوامی ایکشن کمیٹی و انجمن اوقاف جامع ، حریت کانفرنس اور دوسری سیاسی سماجی و دینی تنظیمیں بار بار سرکاری دعووں کی نفی کررہے تھے اور سرکار سے میرواعظ کو رہا کردینے اور جامع مسجد میں نمازوں کی پیشوائی کی اجازت دینے کی مانگ کررہے تھے ۔ ان کا اصرار تھا کہ میرواعظ اپنے گھر پر ہی پابند سلاسل ہیں اور انہیں کہیں بھی آنے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ حال ہی میں جموں کشمیر یو ٹی کے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا سے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اس حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے پرانی بات دہراتے ہوئے کہا کہ میرواعظ بالکل آزاد ہیں اور یہ کہ ان کی سیکورٹی کے کچھ سوالات ہیں جن کی وجہ سے انہیں پولیس کی حفاظت درکار ہے۔
اس انٹرویو کے معاً بعد میرواعظ کی جماعت انجمن اوقاف جامع نے میرواعظ کی نظر بندی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا اور عدالت نے بھی ان کی درخواست کو دائر کرکے حکومت سے جواب طلب کیا ۔ابھی عدالتی جواب طلبی کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ 22 ستمبر کی صبح سے ہی یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ میرواعظ کی نظر بندی کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور وہ جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی پیشوائی کریں گے۔ ایک مقامی نیوز ایجنسی کے مطابق انجمن اوقاف جامع مسجد نے بتایا کہ سینئر پولیس حکام نے 21ستمبر کو میرواعظ کی رہائش گاہ کا دورہ کرکے انہیں بتایا کہ حکام نے انہیں گھر کی نظربندی سے رہا کرنے اور جمعہ کی نماز کے لیے جامع مسجد جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انجمن اوقاف نے بتایا کہ ’’ہمیں حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق کو آج22 ستمبر تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی، اس لیے ہمیں تیار رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔‘‘واضح رہے میرواعظ اگست 2019ءسے گھر میں نظربند ہیں اور تب سے انہیں جامع مسجد سرینگر میں جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔
الغرض رہائی ملتے ہی میرواعظ جامع مسجد پہنچے تو عوام الناس نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ اس موقع پر کئی جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے اور کئی مر و زن کو روتے بلکتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ خود میرواعظ بھی اس موقع پر جذباتی ہوگئے اور ان کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ میرواعظ کے خطاب اور لہجے میں بھی جابجا جذباتیت دیکھی جاسکتی تھی۔ میرواعظ کا اصرار تھا کہ انہیں عدالتی حکم کے بعد رہا کیا گیاہے اگرچہ سیاسی مبصرین کا اصرار ہے کہ عدالت کے احکامات تو ابھی تک محض حکومت سے جواب طلبی کے ہیں اسلئے میرواعظ کی رہائی کے پیچھے کچھ اور بھی عوامل ہوسکتے ہیں۔ یہ بات بھی اس ضمن میں قابل ذکر ہے کہ ابھی کچھ ہی روز قبل کچھ اور مذہبی علماء جن میں اہل حدیث خطیب مشتاق احمد ویری اور بریلوی متکب فکر کے خطیب عبدالرشید داؤدی قابل ذکر ہیں ‘کو بھی عدالتی احکامات کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔مذید براں میرواعظ عمر فاروق اور دوسرے مولوی حضرات کی رہائی کا خیر مقدم کرنے والوں بلکہ اس کا کریڈٹ لینے والوں میں یہاں کی مقامی بی جے پی لیڈرشپ میں شامل کئی لوگ پیش پیش رہے ہیں۔
بہرحال میرواعظ نے جامع مسجد کے منبر پر چار برس بعد اپنے خطاب میں گزشتہ چار برس کے حالات اور اپنی نظر بندی کواپنے والد میر واعظ محمد فاروق کی موت کے بعد اپنی زندگی کا بدترین دور قرار دیا اور کہا کہ اس دور نے انہیں بہت حدتکالیف دہ حالات سے دوچار کیا ہے۔وسیع و عریض جامع مسجد میں موجود جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ’’امن کی وکالت کرنے کے باوجود، یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ انہیں ملک دشمن، امن مخالف اور علیحدگی پسند بھی قرار دیا گیا۔‘‘ما قبل، میر واعظ کی آنکھیں اسوقت چھلک پڑیں اور وہ جذبات پر قابو کھو گئے جب وہ مجمع میں موجود لوگوں کی شدید نعرے بازی کے درمیان منبر پر کھڑے ہوئے۔اُن کا کہنا تھا کہ’’مجھے مسلسل 212جمعہ کے بعد جامع مسجد کے منبر پر خطبہ دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ لوگوں کو معلوم ہے کہ4اگست2019ءکے بعد مجھے گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور مجھے گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی جس کی وجہ سے میں بطور میر واعظ اپنے فرائض سرانجام نہیں دے سکا۔‘‘میرواعظ نے کہا کہ عدالت سے رجوع کرنے کے بعد، چند پولیس افسران نے کل ان سے ملاقات کی اور بتایا کہ انہیں رہا کیا جا رہا ہے اور وہ کل جمعہ کی نماز پڑھنے جامع مسجد جا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتے، لیکن یہ سب لوگوں کی دعاؤں کی وجہ سے ہے کہ وہ دوبارہ خطبہ دینے کے لیے حاضر ہوسکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے چار سال تک منبر سے دور رہنا کافی مشکل امرتھا۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019ءکے بعد جموں وکشمیر کے عوام کو مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ جموں و کشمیر کی خصوصی شناخت چھین لی گئی ۔ دفعہ 370 اور35 اے کو منسوخ کیا گیا اورجموں وکشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر کےلداخ کو اس سے الگ کرلیا گیا۔ تنظیم نو ایکٹ کے تحت اور اس کے بغیر بھی نت نئے قوانین اور احکام لگاتار نافذ کیے جا رہے ہیںجو بدقسمتی سے نہ صرف سخت اوریک طرفہ ہیں بلکہ ہمیں ہر طرح سے بے اختیار بنانے کی کارروائیاں ہیں۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ میرواعظ کا ادارہ تال میل اوررسائی پر یقین رکھتا ہے۔اس ادارے کا ہمیشہ سے یہ ماننا ہےکہ بات چیت اور گفت و شنید کا راستہ ہی مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ میرواعظ کے منصب پر فرض ہے کہ وہ اہل اقتدار تک حق و ثواب کی بات پہنچائے ۔یہ منصب لوگوں کی فلاح و بہبود اور لوگوں کے مفاد اور امن و امان کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا مکلف ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ میرواعظ ہمیشہ مکالمے اور استدلال کی ترجمانی کرتے رہے ہیں، یہاں تک کہ ہم نے اس کےلئے ذاتی نقصانات اور تکالیف بھی برداشت کئے ہیں۔
میرواعظ کا کہنا تھا کہ2020 ء میں جب لگائی گئی پابندیاں کچھ نرم ہوئیں تب سے حریت کانفرنس مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہےلیکن پابند کے گئے میڈیا خاص طور پر مقامی میڈیا نے ہمارے بیانات کو شائع کرنا ہی بند کردیا ۔انہوںنے زور دے کر کہا کہ ’’ میں اپنے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ وقت ہے صبر کرنے کا ہے، اللہ تعالیٰ پر یقین رکھنے کا ہے‘کیونکہ اللہ سب سے بڑا طاقت ور اور مختار ہے‘۔انھوں نے نوجوانوں کو یقین دلایا کہ ’حالات عنقریب ہمارے حق میں بدل جائیں گے۔‘ان کا کہنا تھا ہمیں ایمان اور یقین کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہوگا۔ جیسا کہ قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے’’اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔قرآن پاک ہماری رہنمائی کرتا ہے اور مزید بتاتا ہے کہ ’’بے شک مشکل کے بعد راحت ہے‘‘۔انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ’اپنے جذبات پر قابو رکھیں، صبر اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں‘۔
میرواعظ کا کہنا تھا کہ حریت کانفرنس کا نظریہ ہے کہ جموں و کشمیر کا ایک حصہ ہندوستان کے پاس جبکہ باقی دو حصے پاکستان اور چین کے پاس ہیں اور ان جملہ حصوں کے مل جانے سےہی جموں و کشمیر مکمل ہو سکتا ہےجیسا کہ وہ 14اگست 1947ءکو تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک علاقائی مسئلہ ہو سکتا ہے، لیکن جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔لہٰذا یہ ایک مسئلہ ہے جس کو حل کرنا ناگزیر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے جس کی عالمی برادری نے بھی توثیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مصنوعی لکیر کی وجہ سے منقسم مختلف اطراف میں رہنے والے خاندان اور دوست ملنا چاہتے ہیں اور اپنی زندگیاںمل بانٹ کر رہنا چاہتے ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ اپنی خوشیاں بانٹنا چاہتے ہیں اور ایک ساتھ اپنے نقصانات کا غم منانا چاہتے ہیں۔ ہمارے لیے جموں و کشمیرکا مسئلہ انسانی مسئلہ ہےنہ کہ کوئی علاقائی جنگ۔ ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اس مخمصے کے حل کے متمنی ہیں ۔
یوکرین اور روس کے درمیان جنگ کے معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا یہ کہنا درست ہے کہ موجودہ دور جنگ کا دور نہیں ہے۔’ہم اس بیان کی مکمل تائید کرتے ہیں اور ہم بھی جموں و کشمیر کے مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی وکالت کرتے رہے ہیں لیکن شومئی قسمت کہ امن کی راہ پر چلتے ہوئے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے ہمیں عدم تشدد پر مبنی حل کی تلاش کرنے پر علیحدگی پسند، ملک دشمن اور امن دشمن قرار دیا گیا‘۔ ان کا مذید کہنا تھا کہ ’’ ہماری کوئی ذاتی خواہش نہیں ہے، ہم جموںو کشمیر کے عوام کی خواہشات اور اُمنگوں کے مطابق صرف جموں و کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں‘۔کشمیرسے ترک وطن پر مجبور کشمیری پنڈتوں کی وطن واپسی کی وکالت کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ ’’ ہماری پرامن تحریک ‘برادریوں اور قوموں کے درمیان بقائے باہمی پر یقین رکھتی ہے۔ ہم طاقت ور اور کمزور، اکثریت اور اقلیت کے درمیان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کشمیری پنڈتوں کی واپسی کی وکالت کی ہے اور اس انسانی مسئلے کو سیاسی بنانے کی مخالفت کی ہے۔ سیاسی قیدیوں، صحافیوں، وکلاء، سول سوسائٹی کے اراکین اور نوجوانوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے میرواعظ کا کہنا تھا کہ سخت گیر اقدامات سے مسائل کا حل نہیں نکالا جاسکتا ۔ آج ہزاروں لوگ جیلوں میں ہیں اور ان کے خاندان بھی اس وجہ سے تباہ حالی کا شکا ہے ۔اسلئے ضروری ہے کہ ان اسیروں کو فی الفور رہا کردیا جائے۔ میرواعظ نے اجتماع میں شامل لوگوں سے نماز کے بعد پرامن طریقے سے جامع مسجد سے نکلنے اور اپنے گھروں کو لوٹنے کی اپیل بھی کی۔
جیسے کہ پہلے ہی عرض کیا جاچکا ہے کہ میرواعظ محمد عمر فاروق اور ان سے پہلے رہا کئے گئے مولوی صاحبان کی رہائی اگرچہ بظاہر عدالتی احکامات یا مداخلت کا نتیجہ ہے لیکن سیاسی ،سماجی ،دینی اور مذہبی جماعتوں نے جس طرح اس کا خیر مقدم کیا ہے وہ ثابت کرتا ہے کہ یہ رہائی حکام کی مرضی اور منشاء کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔ میرواعظ ہوں کہ دوسرے مولوی صاحبان ،ان کی رہائی پر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹردرخشاں اندرابی اور بی جے پی کے دوسرے لیڈران کے خیر مقدمی بیانات اور رہا شدگان کے ساتھ ملاقاتیں اس بات کی غماز ہیں کہ اس رہائی کے پس پردہ سیاست سے چنداں انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ میرواعظ کی رہائی پر بی جے پی ہی نہیں بلکہ دیگر سیاسی جماعتوںنے بھی کھل کر خیر مقدم کیا۔ جموں وکشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی کا کہنا ہے کہ کسی بھی گروہ یا سیاسی جماعت کے پاس کسی مذہبی شخصیت کا کاپی رائٹ نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے میر واعظ عمر فاروق کے 4برس بعد تاریخی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ دینے کی اجازت دینے کے سرکاری فیصلے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس بار سیاسی بیانات میرواعظ کی رہائی کی خوشی پر سایہ نہیں ڈالیں گے۔موصوفہ چیئرپرسن نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو’’ایکس‘‘ پر ایک پوسٹ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ’’میں اپنے ذی عزت بھائی میر واعظ عمر فاروق صاحب کو مبارک باد پیش کرتی ہوں۔‘‘انہوں نے کہا کہ’ ’انتظامیہ کے قابل داد فیصلے کے بعد آپ کو دیکھ کر مسرت ہوئی‘‘۔میرواعظ کو ایک اہم لیڈر قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’میں میرواعظ کے عظیم مستقبل کے لئے دعاگو ہوں‘‘۔پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی اور این سی کے نائب صدر عمر عبداللہ، اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری، پیپلز کانفرنس کے لیڈر سجاد غنی لون اور وادی کے دیگر سیاسی قائدین نے مولوی میر واعظ عمر فاروق کے نماز جمعہ کی امامت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔ اس کے بارے میں عمر عبداللہ نے کہا کہ میں جموں و کشمیر میں انتظامیہ کی طرف سے میر واعظ عمر فاروق کو نظر بندی سے رہا کرنے کے اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وہ انہیں آزادانہ گھومنے پھرنے، لوگوں سے بات چیت کرنے اور اپنی سماجی اور مذہبی ذمہ داریوں کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیں گے۔ آج کشمیر میں سب کی نظریں میر واعظ پر ہوں گی کیونکہ وہ 2019کے بعد جامع مسجد میں اپنا پہلا جمعہ کا خطبہ دیں گے۔ادھر محبوبہ مفتی نے ایکس (ٹوئٹر) پر لکھا کہ آخر کار میر واعظ عمر فاروق ایک آزاد آدمی کی طرح گھوم پھر سکیں گے۔ جبکہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ برسوں سے ان کی تحویل سے انکاری ہے۔ ایک مذہبی سربراہ کے طور پر جموں و کشمیر کے مسلمانوں میں ان کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ ان کی رہائی کا کریڈٹ لینے کے لیے بی جے پی کی مختلف سیاسی تنظیموں کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا ہے۔الطاف بخاری نے وزیر داخلہ شاہ اور ایل جی منوج سنہا کا شکریہ ادا کیا۔جموں کشمیر اپنی پارٹی کے صدر الطاف بخاری نے اس فیصلے کے لیے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا،کہ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا میر واعظ عمر فاروق کو تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ اُمید ہے کہ میرواعظ ایک بہتر اور پرامن کل کے لیے معاشرے کی مثبت تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔پیپلز کانفرنس نے اسے خوشی کا دن قرار دیا۔پی سی کے لیڈر سجاد لون کا کہنا تھا کہ ’’میں رہائی کا خیرمقدم کرتا ہوں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایسے سینکڑوں لوگ ہیں جو زیر حراست ہیں۔ جذبہ خیر سگالی کے طور پر، حکومت ہند کو انہیں رہا کرنا چاہئے‘‘۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میرواعظ کی رہائی اور 4 سال بعد جامع مسجد میں حاضری کی خبر کو جہاں بھارت بھر کے اخباروں اور ٹی وی چینلوں نے بھر پور جگہ دی وہیں عرصہ دراز بعد عالمی میڈیا خصوصاً مغربی میڈیا میں بھی اس خبر کو اچھی خاصی پذیرائی دی گئ۔ میرواعظ کے خطاب جس کی ایک کاپی میڈیا کو بھی روانہ کردی گئی تھی ‘کا جب جائزہ لیا جاتا ہے تو واضح طور پر سمجھ آتا ہے کہ میرواعظ گویا تلوار کی دھار پر چلتے ہوئے کافی محتاط انداز اختیار کئے ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین اور ناقدین اگرچہ میرواعظ کی رہائی اور ان کے پہلے بیان کے بارے میں مختلف الرائے ہیں لیکن سبھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ حالات میں میرواعظ کی رہائی جہاں حکومت کےلئے ایک پیچیدہ مسئلہ تھا وہیں پر میرواعظ کےلئے بھی ایک مشکل ترین مرحلہ تھا ۔انہیں بیک وقت سبھی طبقوں کو خوش یا مطمئن کرنے کی ضرورت تھی اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انہوں نے نہایت دانشمندی کے ساتھ اس مرحلے کو طے کرنے کی سعی کی ہے۔میرواعظ اور دوسرے مولوی صاحبان کی رہائی ،اس پر خاص طور سے حکمران جماعت بی جے پی کے لیڈران کی خوش اندامیاں یقیناً حیران کن ہیں لیکن ایک مثبت چیز کو محض کسی حیرانگی کی فکر میں منفی بنادینا بھی کم عقلی ہی کہلائے گی۔ آگے کے حالات و واقعات بتائیں گے کہ میرواعظ وغیرہ کی رہائی کے پس پردہ کیا عوامل ہیں لیکن فی الحال سبھی اس بات سے خوش ہیں کہ عرصہ دراز کے بعد کچھ تو ایسا ہوا ہے جس نےمسموم فضا کو کچھ معطر اور مغموم ہوا ؤںکو تھوڑی سی مثبت سمت فراہم کی ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ یہ تبدیلیاں پائیدار ہوں گی اور ان کے نتیجے میں جموں وکشمیر کے عوام کچھ راحت محسوس کرپائیں گے۔








