• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
پیر, جنوری ۲۶, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
گیانواپی مسجد معاملہ : مسلم فریق نے آثار قدیمہ کی رپورٹ خارج کی

گیانواپی مسجد معاملہ : مسلم فریق نے آثار قدیمہ کی رپورٹ خارج کی

by امت ڈیسک
26/01/2024
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
وارانسی: گیانواپی مسجد میں ہوئے تین مہینے تک کے محکمہ آثار قدیمہ (اے ایس آئی) کی سروے کی رپورٹ ہندو اور مسلم فریق کو سونپ دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ملتے ہی ہندو فریق یہ دعویٰ کرنے لگا ہے کہ مسجد مندر کو توڑ کر بنائی گئی تھی، جسے مسلم فریق نے صاف طور سے خارج کر دیا ہے۔ مسلم فریق کے وکیل اخلاق احمد کے مطابق مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی ہے اور وہ سروے رپورٹ کا اچھی طرح سے مطالعہ کرنے کے بعد عدالت میں اس پر اعتراض داخل کر سکتے ہیں۔

یہ انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کے وکیل اخلاق احمد نے حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندو فریق جو دعویٰ کر رہا ہے وہ سراسر غلط ہے کیونکہ ایسی کوئی بات سروے رپورٹ میں نہیں کہی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں وہی سب باتیں ہیں جو پہلے ایڈوکیٹ کمیشن کی کارروائی میں آ چکی ہیں۔ گزشتہ کمیشن کے جائزے میں جو چیزیں سامنے آئی تھیں وہی چیزیں اس رپورٹ میں بھی سامنے آئی ہیں، بس فرق صرف اتنا ہے کہ اے ایس آئی کی رپورٹ میں ان چیزوں کا ذکر پیمائش کے ساتھ کیا گیا ہے۔

مسلم فریق کے وکیل اخلاق احمد کا کہنا ہے کہ ’’ہندو فریق کوئی ایکسپرٹ نہیں ہے جو کسی عمارت کو دیکھ کر بتا سکے کہ پتھر کتنا پرانا ہے اور اس میں استعمال ہونے والے ساز و سامان پہلے کہاں استعمال ہو چکے ہیں۔ یہ باتیں تو اے ایس آئی کی رپورٹ میں بھی نہیں ہے۔‘‘ رپورٹ کی تصویروں میں ہندو دیوی دیوتاؤں کے ذکر اخلاق احمد نے کہا کہ ’’جن مورتیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سرٹیفائیڈ نہیں ہیں۔‘‘

نیوز ویب سائٹ ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اخلاق احمد نے کہا، ’’ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین کے تمام دعوے غلط ہیں۔ کیونکہ اے ایس آئی کی رپورٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو پچھلی ایڈوکیٹ کمیشن کی کارروائی میں سامنے نہ آئی ہو۔گزشتہ کمیشن کی کارروائی میں جو بھی چیزیں ملی تھیں وہی اب بھی ملی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اس بار اے ایس آئی نے اس کی پیمائش و غیرہ کے ساتھ انہیں درج کیا ہے۔‘‘

ایڈوکیٹ اخلاق احمد کے مطابق ہندو فریق کا دعویٰ یکسر غلط ہے، کیونکہ ہندو فریق ایکسپرٹ نہیں ہے۔ ہندو دیوی دیوتاؤں کے مورتیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’’وہ مندر کے ملبے میں ملی ہونگی، کیونکہ مسجد کی ایک عمارت تھی جسے ’نارتھ یارڈ گیٹ‘کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس میں پانچ کرائے دار رہتے تھے، جو پتھروں کی مورتیاں بناتے تھے۔ بریکیڈنگ سے قبل یہ پورا علاقہ کھلا ہوا تھا۔ اس وقت ٹوٹی پھوٹی مورتیوں کو وہیں پر ملبے میں پھینک دیا جاتا تھا۔ وہیں کے ملبے میں ہی مورتیوں کو پا یا گیا ہے، وہ سرٹیفائیڈ نہیں ہیں۔‘‘

اخلاق احمد نے کہا کہ ’’دیکھنا یہ ہے کہ مسجد کتنی پرانی ہے اور کیا عمارت کو توڑ کر یہ بنائی گئی ہے؟‘‘ مسجد کی عمارت کو مندر کے ستون پر کھڑے ہونے کی بات کو بھی مسلم فریق کے وکیل نے خارج کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس سے ثابت نہیں ہوتا ہے کہ وہ جس ستون کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ کسی مندر کا ہے۔‘‘

جبکہ دوسری جانب اس سروے رپورٹ کے بعد ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اے ایس آئی رپورٹ آنے کے بعد سب کچھ شیشے کی طرح صاف ہو گیا ہے۔ اگر کوئی اب سمجھوتے کی بات کرتا ہے تو یہ منظور نہیں ہوگا۔ اس کا ایک ہی حل ہے کہ مسلم فریق جگہ کو خالی کر دے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’’ہم عدالت کے ذریعے سے مندر حاصل کریں گے۔ ہم جلد ہی وضو خانے کا اے ایس آئی سروے کرانے کی مانگ کریں گے۔ جلد ہی گیانواپی احاطہ ہمارا ہوگا۔‘‘

دراصل عدالت کے حکم پر گیانواپی مسجد کا اے ایس آئی سروے کرایا گیا تھا۔ 18 دسمبر کو اے ایس آئی نے ضلع جج کی عدالت میں اپنی رپورٹ سونپ دی تھی۔ اس کے بعد ہندو فریق نے مطالبہ کیا تھا کہ سروے رپورٹ کی کاپی دونوں فریق کو سونپی جائے۔ اس پر بدھ (24 جنوری 24) کو ضلع جج کی عدالت نے تمام فریق کو سروے رپورٹ سونپنے کا حکم دیا تھا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بارہمولہ میں نوجوان کرکٹ کھیلنے کے دوران جل بسا

Next Post

ہنی مون کے لیے گوا کے بجائے ایودھیا لے جانے پر خاتون نے شوہر سے طلاق کی مانگ کر دی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

کشمیری شال فروشوں پر حملوں کے خلاف انجینئر رشید کے ہماچل اور اتراکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ کو خطوط

25/12/2025
فوج کی سوشل میڈیا پالیسی میں ترمیم، انسٹاگرام صرف دیکھنے کی اجازت

فوج کی سوشل میڈیا پالیسی میں ترمیم، انسٹاگرام صرف دیکھنے کی اجازت

25/12/2025

14/12/2025
سری نگر کے بزرگ شہری دہلی میں لاپتہ، اہلِ خانہ کی حکام سے مدد کی اپیل

سری نگر کے بزرگ شہری دہلی میں لاپتہ، اہلِ خانہ کی حکام سے مدد کی اپیل

08/12/2025
جموں و کشمیر میں نیشنل لا یونیورسٹی آئندہ سال اپریل سے شروع ہونے کی امید: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

جموں کشمیر کا ہر ایک شہری دہشت گرد نہیں : عمر عبداللہ

13/11/2025
ایل جی سنہا کا کشمیری نوجوانوں سے خطاب: ’استعماری ذہنیت ترک کرکے مادری زبان اپنائیں‘

ریاستی درجہ کے بہانے عوام کو بے وقوف بنانا بند کریں: ایل جی کہ عمر پر تنقید

31/10/2025
Next Post
ہنی مون کے لیے گوا کے بجائے ایودھیا لے جانے پر خاتون نے شوہر سے طلاق کی مانگ کر دی

ہنی مون کے لیے گوا کے بجائے ایودھیا لے جانے پر خاتون نے شوہر سے طلاق کی مانگ کر دی

جموں اور سرینگر میں قریب 40 ہزار افراد نے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کی

جموں اور سرینگر میں قریب 40 ہزار افراد نے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں شرکت کی

کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں برفباری، میدانی علاقوں میں بارشیں

وادی میں 28 جنوری سے 3 فروری تک ہلکی برف باری کی پیشگوئی

ایل او سی پر جنگلات میں آتشزدگی سے سرنگوں کے دھماکے

ایل او سی پر جنگلات میں آتشزدگی سے سرنگوں کے دھماکے

برفباری کے باعث مغل روڈ رواں سیزن کےلیے بند

برفباری کے باعث مغل روڈ رواں سیزن کےلیے بند

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »