امت نیوز ڈیسک //
ہلدوانی: ہلدوانی کے ون بھول پورہ میں مبینہ سرکاری زمین پر بنی مسجد اور مدرسے کو مسمار کرنے کے بعد ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ ہنگامہ اتنا بڑا تھا کہ پولیس انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین پر پتھراؤ کرنے اور پیٹرول بم پھینکنے کا الزام لگایا۔ اس دوران پولیس کی فائرنگ سے باپ بیٹے سمیت تین افراد کی موت ہوگئی، جب کہ متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔ انتظامیہ کے مطابق تشدد کے دوران آگ زنی، پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات میں مظاہرین، پولیس، انتظامیہ اور میڈیا اہلکاروں سمیت 300 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جن کا مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔
حالات بے قابو ہوتا دیکھ کر انتظامیہ نے کل شام کو ‘شرپسندوں’ دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا۔ ضلع انتظامیہ نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ مظاہرین نے ون بھول پورہ پولیس اسٹیشن کو بھی آگ لگا دی۔ اس دوران 70 سے زائد گاڑیاں جلا دی گئیں جب کہ متعدد گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ون بھول پورہ پولیس اسٹیشن میں لگی آگ میں کئی سال پرانا ریکارڈ بھی جل کر راکھ ہو گیا۔ اب تک موصول ہونے والی جانکاری کے مطابق ہلدوانی میں تشدد کے دوران پولیس کی فائرنگ سے تقریباً تین مظاہرین کی موت ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اہلکاروں اور کارپوریشن کے کارکنوں سمیت 300 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ہلدوانی میں حالات پر قابو پانے کے لیے نیم فوجی دستوں کی کئی کمپنیاں بھی رات گئے پہنچ گئی ہیں۔ فی الحال صورت حال معمول پر ہے۔
پولیس اب پتھراؤ کرنے کے الزام میں گھر گھر جا کر لوگوں کو پکڑنے کی مہم چلا رہی ہے۔ اس دوران ملزمین کو پکڑنے اور چھتوں کی تلاشی لینے کے لیے پولیس نے میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کی مدد سے متعدد گھروں کے دروازے توڑ دیے۔ تاحال متعدد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور گرفتاری کی یہ مہم بدستور جاری ہے۔ اس ہنگامہ آرائی میں 70 سے زائد گاڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔
جانیں پورا واقعہ: مقامی پولیس انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ہلدوانی کے مسلم اکثریتی علاقے ون بھول پورہ میں ملک کے باغ میں میونسپل کارپوریشن کی زمین پر ‘غیر قانونی طور پر’ ایک مسجد اور مدرسہ چل رہا تھا۔ ضلع انتظامیہ اور ہلدوانی میونسپل کارپوریشن نے مدرسہ اور مسجد چلانے والوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں خالی کرنے کی ہدایت دی تھی۔ خالی نہ ہونے کے بعد، جمعرات کو مقامی انتظامیہ نے بھاری پولیس فورس اور جے سی بی مشین کی مدد سے مسجد اور مدرسے کو مسمار کر دیا۔ اس کارروائی کے خلاف لوگوں کا غم و غصہ بھڑک اٹھا اور مقامی لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا۔ اس دوران پولیس نے مظاہرین پر پتھراؤ کرنے کا الزام لگایا جس میں کئی پولیس اہلکار، ضلعی انتظامیہ کے لوگ اور میڈیا اہلکار زخمی ہوگئے۔









