امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں کشمیر کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور پدم شری ایوارڈ یافتہ مظفر بیگ نے سرینگر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ریلی میں ان کے لیے کیے گئے ’خصوصی انتظامات‘ نہ کیے جانے کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر وزیر اعظم کی آمد سے قبل ہی وہاں سے چلے گئے۔ مظفر بیگ بخشی اسٹیڈیم میں منعقد ہونے جا رہی ریلی میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ شریک ہوئے تھے تاہم ان کے لیے وی آئی پی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے دونوں الٹے قدموں واپس لوٹ آئے۔
مظفر بیگ کی زوجہ- سفینہ بیگ ریاستی حج کمیٹی کی چیئرپرسن بھی ہیں، اپنے شوہر کے پیچھے پیچھے نکل گئیں، انکے چہرے پر غصے کے آثار تھے۔ سفینہ بیگ نے ای ٹی وی بھارت کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انکے شوہر کو پدم شری ہونے کی وجہ سے مدعو کیا گیا تھا لیکن انہیں ریلی میں ان کے شایان شان جگہ نہیں دی گئی۔ اس پر کسی نے ان پر فقرہ کسا ’’ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا۔‘‘
قبل ازیں، مظفر بیگ کے لیے علیحدہ اور خصوصی انتظامات نہیں کیے گئے تھے اور انہیں عام گیلری میں بٹھایا گیا جہاں DDC ممبران اور بی جے پی کے کارکنان بیٹھے تھے۔ بیگ اور ان کی اہلیہ تقریباً ساڑھے دس بجے اسٹیڈیم پہنچے انتظامات سے دلبراشتہ مودی کی آمد سے قبل ہی واپس لوٹ گئے، تاہم سفینہ بیگ نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ گفتگو کی۔
سفینہ بیگ نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا: ’’بیگ صاحب پدم شری ایوارڈ یافتہ کی حیثیت سے وزیراعظم کی ریلی میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔ یہ سرکاری تقریب ہے کوئی بی جے پی کی ریلی نہیں۔ لیکن آپ دیکھ ہرے ہیں کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے بیگ صاحب کے ساتھ کیسا سلوک کیا ہے اور ان کے لیے علیحدہ انتظامات نہیں کیے۔‘‘ سفینہ اور مظفر بیگ کے ریلی سے چلے جانے کے فوراً بعد، جموں و کشمیر پولیس کے سیکیورٹی افسران نے انہیں وہیں رہنے پر راضی کرنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ راضی نہ ہوئے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔
سفینہ بیگ نے دعویٰ کیا کہ مظفر بیگ نے بی جے پی میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے۔ تاہم بیگ گزشتہ ماہ جموں میں منعقدہ وزیر اعظم کی ریلی میں شرکت کر چکے ہیں، اور پی ڈی پی کے ساتھ علیحدگی کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔ مودی ریلی میں شرکت کے بعد بیگ نے کہا تھا کہ انہوں نے دوبارہ کبھی پی ڈی پی میں شمولیت اختیار ہی نہیں کی تھی۔ مظفر بیگ پیپلز کانفرنس سے بھی علیحدہ ہوئے تھے اور انہوں نے واپس پی ڈی پی میں شمولیات اختیار کی تھی تاہم مودی ریلی میں شرکت کے بعد بیگ نے پی ڈی پی میں شمولیات کی خبروں کی تردید کی تھی۔ اور قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے۔
مظفر بیگ اس سال کے اوائل میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی میں دوبارہ شامل ہوئے تھے اور پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی کے ساتھ ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات کی تھی لیکن بعد میں وہ جموں میں وزیر اعظم کی ایک ریلی میں دیکھے گئے جس سے یہ اٹکلیں ہونے لگیں کہ وہ مرکز میں حکمران جماعت کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مظفر بیگ بارہمولہ پارلیمانی سیٹ سے انتخاب لڑنے کیلئے پرتول رہے ہیں۔ وہ پیپلز کانفرنس میں شامل ہوئے تھے لیکن سجاد لون کے انتخابی امیدوار کی حیثیت سے اعلان ہونے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ اس پارٹی میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔







