• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ای وی ایم پرایلون مسک کا بڑا بیان، اپوزیشن جماعتوں کا ردعمل

ای وی ایم پرایلون مسک کا بڑا بیان، اپوزیشن جماعتوں کا ردعمل

by امت ڈیسک
16/06/2024
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے بارے میں کہا کہ اسے کو ہیک کیا جا سکتا ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے امریکی انتخابات سے ای وی ایم کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔

ایلون مسک کا یہ تبصرہ امریکی صدر کے امیدوار سے ہٹائے جانے والے آزاد امیدوار رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کی ایک پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آیا۔ٹیسلا اور ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے آزاد امیدوار رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کی پوسٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے ای وی ایم کے ہیک ہونے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ای وی ایم کے ہیک ہونے کا خطرہ اب بھی بہت زیادہ ہے۔

کینیڈی جونیئر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، پورٹو ریکو کے پرائمری انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق ووٹنگ کی سینکڑوں بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں۔ خوش قسمتی سے پیپر ٹریل کی وجہ سے اس لیے مسئلہ کی نشاندہی کی گئی اور ووٹوں کی گنتی درست کر دی گئی۔ انھوں نے آگے لکھا کہ وہاں کیا ہوتا ہوگا جہاں پیپر ٹریل نہیں ہوتا ہے؟

کینیڈی جونیئر نے مزید لکھا کہ امریکی شہریوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ان کا ہر ووٹ شمار ہوتا ہے، اور یہ کہ ان کے انتخابات کو ہیک نہیں کیا جا سکتا۔ انتخابات میں الیکٹرانک ہیکنگ سے بچنے کے لیے ہمیں بیلٹ پیپر پر واپس جانے کی ضرورت ہے۔ بیلٹ پیپر کے بعد ہی ہم ایماندارانہ اور منصفانہ انتخابات کی ضمانت دیں گے۔

کینیڈی جونیئر کی پوسٹ کے بعد ایلون مسک نے پوسٹ کیا کہ ہمیں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ختم کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس مشینوں کو انسانوں یا مصنوعی ذہانت کے ذریعہ ہیک ہونے کا خطرہ اگرچہ چھوٹا ہے، پھر بھی بہت زیادہ ہے۔

ایلون مسک کے اس پوسٹ کے بعد بھارت میں بھی کئی لیڈروں نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ سینیئر وکیل پرشانت بھوشن نے ایلون مسک کی پوسٹ کو ری ٹویٹ کرکے لکھا کہ ٹیکنالوجی کے دنیا کے معروف ماہرین میں سے ایک ایلون مسک نے ای وی ایم میں گڑبڑی کے امکان کی وجہ سے اس کو ختم کرنے مطالبہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر یورپ اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش نے ای وی ایم کو ختم کر دیا ہے۔

سابق مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے ٹویٹ کیا کہ یہ ایک بہت بڑا عام بیان ہے جس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی محفوظ ڈیجیٹل ہارڈویئر نہیں بنا سکتا۔ جو کی غلط ہے۔ ایلون مسک کا نقطہ نظر امریکہ اور دیگر جگہوں پر لاگو ہو سکتا ہے، جہاں وہ انٹرنیٹ سے منسلک ووٹنگ مشینیں بنانے کے لیے باقاعدہ کمپیوٹ پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔ لیکن بھارتی ای وی ایم اپنی مرضی کے مطابق ڈیزائن کیے گئے ہیں، جو کسی بھی نیٹ ورک یا میڈیا سے محفوظ اور الگ تھلگ ہیں۔ انھوں نے آگے لکھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو آرکیٹیکٹ اور ٹھیک بنایا جا سکتا ہے جیسا کہ بھارت نے کیا ہے۔

چندر شیکھر کے تبصرے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایلون مسک نے لکھا "کچھ بھی ہیک کیا جا سکتا ہے”، جس پر سابق وزیر نے پھر جواب دیا کہ "تکنیکی طور پر آپ صحیح ہیں، کیونکہ کچھ بھی ممکن ہے۔ جیسے کوانٹم کمپیوٹ کے ساتھ، میں کسی بھی سطح کی خفیہ کاری کو ڈکرپٹ کر سکتا ہوں، لیکن بیلیٹ پیپر پر ووٹنگ کے مقابلے میں ای وی ایم کے محفوظ اور قابل اعتماد ہونا، یہ ایک مختلف قسم کی بات چیت ہے اور ہم اس میں اختلافات کرسکتے ہیں۔

اس کے بعد انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر سری نواس بی وی نے چندر شیکھر سے سوال کیا کہ اگر کچھ بھی ممکن ہے تو بھارتی ای وی ایم کو ہیک کیوں نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے لکھا کہ اگر کچھ بھی ممکن ہے، تو کچھ بھی ہیک کیا جا سکتا ہے۔ تو پھر بھارتی ای وی ایم کو ہیک کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ کیا وہ بھگوان کی طرف سے محفوظ ہیں؟ یا ہماری اپنی پرماتما کا اوتار؟

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایلون مسک کے ٹویٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بھارت میں ای وی ایم کو ایک "بلیک باکس” قرار دیا اور ایک نیوز آرٹیکل کی تصویر بھی پوسٹ کی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایکناتھ شندے کی شیو سینا کے امیدوار کا ایک رشتہ دار نے ای وی ایم مشین کو کھولنے کے لیے فون کے ون ٹائم پاس ورڈ (OTP) کا استعمال کیا تھا۔

راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "بھارت میں ای وی ایم ایک "بلیک باکس” ہیں اور کسی کو بھی ان کی جانچ پڑتال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہمارے انتخابی عمل میں شفافیت کے بارے میں سنگین خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جب اداروں میں جوابدہی کا فقدان ہوتا ہے تو جمہوریت دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتی ہے”۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

جامع مسجد سرینگر میں نماز عید صبح 9 بجے ادا کی جائیگی، مولوی عمر فاروق خطبہ دیں گے: انجمن اوقاف

Next Post

حج کے آخری مرحلے میں حجاج کی منیٰ میں جمرہ عقبہ کے مقام پر رمی جمرات کے مناسک کی ادائیگی

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

بھارت نے زخم دئے، ان سے ہی مرحم لیں گے : الطاف بخاری

جوڈیشل امتحان کے نتائج پر الطاف بخاری کا سوال، علاقائی عدم توازن پر تشویش، ایل جی سے فہرست روکنے کی اپیل

22/01/2026
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کا بنگلہ دیش کو الٹی میٹم، بھارت نہ آنے پر متبادل ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ

بنگلہ دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کیا، بھارت میں کھیلنے سے انکار

22/01/2026
بھدرواہ۔چمبا سڑک حادثہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ازجان، 11 زخمی

بھدرواہ۔چمبا سڑک حادثہ: فوجی گاڑی کھائی میں گرنے سے 10 اہلکار ازجان، 11 زخمی

22/01/2026
کشتواڑ کے جنگلات میں ملی ٹنٹوں سے دوبارہ رابطہ، وقفے وقفے سے فائرنگ

کشتواڑ کے جنگلات میں ملی ٹنٹوں سے دوبارہ رابطہ، وقفے وقفے سے فائرنگ

22/01/2026
ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ

ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ

22/01/2026

عمر عبداللہ کا جموں کی علیحدگی کے مطالبے پر طنز، سنیل شرما کو ’میئر‘ کہہ کر نشانہ

22/01/2026
Next Post
حج کے آخری مرحلے میں حجاج کی منیٰ میں جمرہ عقبہ کے مقام پر رمی جمرات کے مناسک کی ادائیگی

حج کے آخری مرحلے میں حجاج کی منیٰ میں جمرہ عقبہ کے مقام پر رمی جمرات کے مناسک کی ادائیگی

*پہلگام روڈ حادثہ میں موٹرسائیکل سوار ہلاک، 2 سوار زخمی*

زوجیلا پر گاڑی پتھر کی زد میں آنے سے دو افراد ازجان، تین زخمی

فسادات اور انہدام کے بارے میں پڑھانے کی ضرورت نہیں: این سی ای آر ٹی کے سربراہ

فسادات اور انہدام کے بارے میں پڑھانے کی ضرورت نہیں: این سی ای آر ٹی کے سربراہ

عیدگاہ کو عید کی نماز کے لیے تیار نہ رکھنے پر مسجد انتظامیہ نےکیا ناراضگی کا اظہار

عیدگاہ کو عید کی نماز کے لیے تیار نہ رکھنے پر مسجد انتظامیہ نےکیا ناراضگی کا اظہار

رواں برس 18 لاکھ 33 ہزار 146 افراد نے حج ادا کیا

رواں برس 18 لاکھ 33 ہزار 146 افراد نے حج ادا کیا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »