امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سرینگر میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے نیشنل کانفنرس، پی ڈی پی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے موروثی سیاست پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان تینوں خاندانوں نے جموں و کشمیر کو بربادی کے سیوا کچھ بھی نہیں دیا اور ان مذکورہ خاندانوں نے اپنے اقتدار کے لیے یہاں لوگوں کو ہمیشہ بلی کا بکرا بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ان تین خاندانوں کو لگتا تھا کہ ان پر کیسے سوال اٹھایا جائے لیکن اب یہ دلی سے یہاں تک بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔ ان کا مقصد جموں و کشمیر کی ترقی نہیں ہے بلکہ ان کا ہدف کرسی ہے اور یہ لوگ کرسی کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا لوگوں کو لوٹنا ان سیاسی جماعتوں کا شیوہ رہا ہے اور لوگوں کو اپنے جائز حق سے محروم رکھنا ہی ان کا سیاسی ایجنڈا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی اور پی ڈی میں نے جموں و کشمیر کو تشدد اور انتشار دیا لیکن اب جموں وکشمیر کے لوگ این سی، پی ڈی اور کانگریس کے شکجنے میں آنے والے نہیں ہیں۔
انہوں کا کہا کہ اب کشمیری نوجوان مذکورہ خاندانوں کو چلینج کر رہے ہیں۔ اب وہی نوجوان ان کے خلاف میدان میں ہیں جن کو انہوں نے کبھی آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا۔ ان کے دور حکومت میں جو یہاں کے نوجوانوں کو برداشت کرنا پڑا ان کا وہ دکھ درد کبھی سامنے آنے نہیں دیا گیا۔ لیکن آج وہ ان کے ظلم و زیادتی کے خلاف خود کھل کر بول رہے ہیں۔
این سی اور پی ڈی نے اپنی سیاسی دکان چلانے کے لیے دہائیوں تک یہاں نفرت کا سامان فروخت کیا۔ کشمیر میں جو اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے نذر آتش کیے گئے، وہ سب ان کی نفرت کا نتیجہ تھا اور یہ سیاسی جماعتیں یہاں نئے اسکول تعمیر کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھیں، کیوں کہ یہ نہیں چاہتی تھیں یہاں کا نوجوان تعلیم کے نور سے منور ہوسکے۔









