امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کٹھوعہ ضلع میں تین افراد کے وحشیانہ قتل کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ’میں نے مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ملزمان کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور جوابدہی طے کی جائے گی‘۔ کٹھوعہ کے مَلہار علاقے میں ہفتے کے روز 15 سالہ ورون سنگھ، ان کے چچا یوگیش سنگھ (32) اور ماموں درشن سنگھ (40) کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ تینوں افراد 5 مارچ سے لاپتہ تھے۔
مرکزی وزیر جتندر سنگھ، جو ادھم پور پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں جس میں کٹھوعہ بھی شامل ہے، نے ان قتلوں میں دہشت گردوں کے ملوث ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ انہوں نے X پر اپنے پیغام میں لکھا: کٹھوعہ ضلع کے بانی علاقے میں دہشت گردوں کے ہاتھوں تین نوجوانوں کا قتل انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس پرامن علاقے کا ماحول خراب کرنے کی ایک بڑی سازش رچی گئی ہے۔ یہ تینوں افراد بدھ کے روز ایک خاندانی تقریب کے دوران لاپتہ ہوگئے تھے، جس کے بعد فوج اور پولیس نے تلاش کی کارروائی شروع کی۔ یہ علاقہ پہلے بھی دہشت گردی کے واقعات کا شکار رہا ہے، جہاں گزشتہ سال ایک فوجی گاڑی پر حملے میں پانچ فوجی شہید ہوگئے تھے۔
ادھر، مرکزی وزیر داخلہ کے سیکرٹری گووند موہن جموں کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اس واقعے سے متعلق تفصیلی بریفنگ لیں ۔ مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے کہا، "ہم نے متعلقہ حکام سے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ مرکزی ہوم سیکرٹری خود جموں پہنچ رہے ہیں تاکہ صورتحال کا موقع پر جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایسے واقعات کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے اور عوام کا اعتماد برقرار رکھا جائے گا۔” اس قتل کے خلاف اتوار کو بِلور اور ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی، جہاں مقامی شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔










