امت نیوز ڈیسک //
سیکورٹی فورسز نے آج کٹھوعہ ضلع کے ایک دور افتادہ جنگلاتی علاقے میں ملی ٹینٹ مخالف آپریشن دوباره شروع کر دیا۔ ایک روز قبل اس تصادم میں تین ملی ٹینٹ اور تین پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ جمعرات کو ہونے والی اس جھڑپ میں سات دیگر افراد بشمول ایک افسر زخمی بھی ہوئے تھے۔
رات بھر آپریشن روکنے کے بعد صبح کی پہلی روشنی کے ساتھ مختلف سمتوں سے تلاشی مہم دوباره شروع کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی لاشوں کو برآمد کرنے، لاپتہ پولیس اہلکار کی تلاش اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنا ترجیحہے۔
سیکورٹی فورسز احتیاط کے ساتھ علاقے کی طرف بڑھ رہی ہیں تاہم ملی ٹینٹوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت سامنے نہیں آئی، جس سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ تمام ملی
ٹینٹ مارے جا چکے ہیں۔ تاہم، ڈرون کی مدد سے صرف تین ملی ٹینٹوں کی لاشیں دیکھی جا سکی ہیں، جبکہ دو دیگر کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔
یہ آپریشن راج باغ کے گھٹی جو تھانہ علاقے میں واقع جکھولے گاؤں کے قریب کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی جمعرات کی صبح 8 بجے کے قریب اس وقت شروع ہوئی جب پولیس نے ایک گروہ کے خلاف کارروائی تیز کر دی جو مبینہ طور سے جے ای ایم پر پاکستان میں موجود ملی ٹینٹ تنظیم جیش محمد تعلق رکھتے ہیں اور حال ہی میں ہیرانگر سیکٹر کے راستے در اندازی کی تھی۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ وہی گروپ تھا جو پہلے ہیرانگر کے سنیال جنگل میں محاصرے سے فرار ہوا تھا یا کوئی دوسرا گروہ تھا۔ اس آپریشن میں تین ملی ٹینٹوں کو ہلاک کر دیا گیا، جس کی قیادت جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ ایس او جی) نے کی جبکہ فوج اور سی آر پی ایف نے بھی مدد فراہم کی۔
جھڑپ کے مقام کے قریب پانچ پولیس اہلکار، بشمول ایک سب ڈویژنل پولیس آفیسر ، پھنس گئے تھے۔ تاہم، ڈی ایس پی رینک کے ایس ڈی پی او کو زخمی حالت میں نکال لیا گیا، جبکہ ان کے تین سیکورٹی افسران ہلاک ہو گئے۔ ایک اور پولیس اہلکار ابھی تک لاپتہ ہے۔
زخمی ایس ڈی پی او کے علاوہ تین دیگر پولیس اہلکاروں کو کٹھوعہ اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دو فوجی اہلکار بھی اس آپریشن میں زخمی ہوئے۔











