امت نیوز ڈیسک ///
جموں: کانگریس نے جمعرات کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے اعلیٰ افسروں کے حالیہ تبادلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے ’’غیر ضروری مداخلت‘‘ قرار دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر کو کاروباری قواعد (بزنس رولز) کی منظوری کا انتظار کرنا چاہیے تھا، کیونکہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
تبادلے اور سرکاری موقف
لیفٹیننٹ گورنر نے 48 جونیئر اور مڈل رینک کے جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) افسروں کے تبادلے کا حکم جاری کیا، جن میں 14 ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز اور 26 سب ڈویژنل مجسٹریٹس شامل ہیں۔ اس اقدام کو بیوروکریسی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب نیشنل کانفرنس (این سی) کی قیادت میں حکومت نے تقریباً ایک ماہ قبل کاروباری قواعد کا مسودہ تیار کر کے مرکزی وزارت داخلہ کو منظوری کے لیے بھیجا تھا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے جمعہ کو سرینگر میں اتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔
کانگریس نے کی تنقید
کانگریس کے قومی جنرل سیکریٹری غلام احمد میر نے کہا: ’’لیفٹیننٹ گورنر کو تھوڑا انتظار کرنا چاہیے تھا، کیونکہ بزنس رولز کی منظوری ابھی باقی تھی۔ حکومت پہلے ہی اس کا مسودہ مرکز کو بھیج چکی ہے، ایسے میں یہ ایک غیر ضروری اقدام ہے۔‘‘
میر نے مزید کہا کہ موجودہ قواعد کے مطابق جے کے اے ایس افسروں کے تبادلے کا اختیار وزیر اعلیٰ کے پاس ہوتا ہے، جبکہ آئی اے ایس افسروں کے تبادلے لیفٹیننٹ گورنر کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ ’’جب معاملہ مرکز کے زیر غور ہے، ایسے وقت میں تبادلے کے فیصلے نے انتظامیہ کے حالات پر ایک غلط تاثر دیا ہے۔ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔‘‘










