• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
ہفتہ, فروری ۷, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
حکومت کی نظر وقف املاک پر ہے: نصیر حسین

حکومت کی نظر وقف املاک پر ہے: نصیر حسین

by امت ڈیسک
03/04/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: وقف ترمیمی بل پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان خوب جم کر نوک جھونک ہوئی۔

کانگریس کے سید نصیر حسین نے مرکز میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ملک میں پولرائزیشن کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ حکومت نے یہ بل صرف وقف املاک پر قبضہ کرنے کے لیے لایا ہے جب کہ بی جے پی کے رادھا موہن داس اگروال نے کہا کہ اس کا مقصد وقف کو کسی کی جائیداد پر دعویٰ کرنے سے روکنا اور غریب مسلمانوں کی فلاح وبہبود کے لئے وقف املاک کواستعمال کرنا ہے۔

نصیر حسین نے وقف (ترمیمی) بل 2025 اور مسلم وقف (منسوخی) بل 2025 پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جب متعلقہ بل 1995 اور 2013 میں پیش کیے گئے تھے تو بی جے پی نے ان کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ بی جے پی نے اس کی حمایت کیوں کی تھی اور اسے اتفاق رائے سے کیوں منظور کیا تھا۔

سال 2009 میں بی جے پی نے اپنے انتخابی منشور میں اس سے متعلق ایک کمیٹی کی رپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے اسے نافذ کرنے کی بات کہی تھی۔ سال 2013 میں کانگریس حکومت نے اس کمیٹی اور سچر کمیٹی کی رپورٹس کو ملا کر ترمیم کی تھی اور بی جے پی نے اس کی حمایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ 2014سے 2024 تک مرکز میں برسراقتدار رہنے والی مودی حکومت کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وقف ایکٹ ایک خوشامدی قانون ہے۔

سال 2024 میں جب بی جے پی لوک سبھا انتخابات میں 400 سیٹیں نہیں جیت سکی تھی اور اسے 240 سیٹیں ملی تھیں تب وہ یہ ترمیم لے کر آئی تھی تاکہ پولرائزیشن اور مذہب کی سیاست کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل مسلم کمیونٹی کو بدنام کرنے والا ہے اور وقف ایکٹ کے حوالہ سے گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مناسب پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں رکھی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کتنے لوگ اس کے خلاف تھے اور کتنے حق میں تھے۔ اپوزیشن ارکان کی آراء کمیٹی کی سفارشات میں شامل نہیں ہیں۔

کمیٹی کے اجلاس میں دفعات پر بحث نہیں ہوئی۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش نہیں کی لیکن معاون ارکان نے اس کی منظوری پر اصرار کیا۔ یہ صرف نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے ارکان ِ پارلیمنٹ کی سفارش تھی۔انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم دستور کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام مذاہب کے لیے یکساں قانون ہونا چاہیے۔ تمام مذاہب کے لیے قوانین بنائے جائیں لیکن پرسنل لاء بورڈ کو اس سے الگ رکھا جانا چاہئے۔

ایک کمیونٹی کو دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیرات کا تصور ہر مذہب میں ہوتا ہے۔ اس ملک میں ہر مذہب کے لیے الگ الگ قوانین ریاستوں میں بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرو آیوکت سروے کرتا ہے۔ کلکٹر کی منظوری کے بعد ہی جائیداد کو وقف قرار دیا جاتا ہے۔اس دوران وزیر داخلہ امیت شاہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ صرف اس حقیقت تک محدود ہے کہ جو لوگ ٹریبونل کے فیصلہ سے مطمئن نہیں ہیں انہیں وقف ایکٹ کے تحت دیوانی مقدمات میں چیلنج کرنے کا حق نہیں دیا گیا ہے۔ ٹریبونل کا فیصلہ 99 فیصد درست سمجھا جاتا ہے۔ زمین کے مالک کو اپیل کا حق نہیں ہے۔

اس کے بعد حسین نے کہا کہ وقف اراضی پر حکومت کی پوری نظر ہے۔ ملک میں مختلف مذہبی مقامات ہیں۔ ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صرف ووٹ کی سیاست ہو رہی ہے۔ ایک نیا پورٹل لانے کی بات ہو رہی ہے۔ حکومت مسلمانوں پر نظر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سال 2013 میں اس وقت کی حکومت کی جانب سے دارالحکومت دہلی کے لُٹینز علاقہ میں 123 جائیدادوں کو وقف کے حوالے کرنے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ زمین اس وقت دی گئی تھی جب انگریز لُٹین بنا رہے تھے۔

اس حوالے سے لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم پر حکومت نے یہ اراضی وقف کو منتقل کی تھی۔ بی جے پی کے اگروال نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ تاریخی کام کیا ہے۔ مودی جی نے 2047 تک ملک کی 20 فیصد مسلم آبادی کی ترقی کا خواب دیکھا ہے۔ اگر وقف املاک کا صحیح استعمال کیا جائے تو اس کا استعمال غریب مسلمانوں کی تعلیم اور بہتری کے لیے کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم پی ایف آئی کی اکائی ایس ٹی ایف آئی اس بل کے خلاف ملک بھر میں پمفلٹ تقسیم کر رہی ہے۔ وقف بائی یوزر کیا ہے؟ اس وقت وقف ایک لینڈ مافیا کی طرح کام کر رہا ہے۔ 1995کے قانون میں ایک شق ہے کہ وقف جس کو چاہے اپنی جائیداد ظاہر کر سکتا ہے۔ ٹریبونل کے فیصلہ کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جاسکتی۔ اتر پردیش میں 74فیصد جائیداد اور تلنگانہ میں 50 فیصد سے زیادہ جائیداد سرکاری ملکیت ہے۔ انہوں نے وقف کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے ان لیڈروں اور عہدیداروں کی فہرست دکھاتے ہوئے کہا کہ وقف کی املاک پر غیرقانونی طریقہ سے قبضہ کیا جارہا ہے۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

ایل جی کی طرف سے افسران کا تبادلہ ،کانگریس کا اعتراض

Next Post

وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا میں بھی منظور

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

پاکستان میں  مسجد پر خودکش حملہ، 31 افراد جاں بحق، 169 زخمی

پاکستان میں مسجد پر خودکش حملہ، 31 افراد جاں بحق، 169 زخمی

06/02/2026
میر واعظ نے نوہٹہ اور چھتہ بل میں آتشزدگی کے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا

میر واعظ نے نوہٹہ اور چھتہ بل میں آتشزدگی کے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا

06/02/2026
گزشتہ برس جنگی صورتحال اور خشک سالی سے جموں و کشمیر کی معیشت کو شدید دھچکا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

گزشتہ برس جنگی صورتحال اور خشک سالی سے جموں و کشمیر کی معیشت کو شدید دھچکا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

06/02/2026
سجاد لون کی میوہ صنعت کو نقصان پہنچنے پر حکومت کی تنقید

بیوروکریٹس کا تیار کردہ، سیاسی سمت سے محروم: سجاد لون کا جموں و کشمیر بجٹ پر شدید تنقید

06/02/2026
دہلی دھماکہ کیس: این آئی اے کا اننت ناگ میڈیکل کالج میں چھاپہ، دستاویز ضبط

دہلی دھماکہ کیس: این آئی اے کا اننت ناگ میڈیکل کالج میں چھاپہ، دستاویز ضبط

06/02/2026
اسمارٹ سٹی کیلئے نصف سری نگر کی کھدوائی عوام کیلئے تکلیف کا باعث: محبوبہ مفتی

محبوبہ مفتی کا چناب ویلی اور پیر پنجال خطوں کے لیے ریل رابطہ قائم کرنے کا مطالبہ

06/02/2026
Next Post
وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پاس

وقف ترمیمی بل راجیہ سبھا میں بھی منظور

طارق قرہ، میر دلی مصروفیات کے باعث عمر کی ہنگامی میٹنگ میں نہیں ہونگے شریک

طارق قرہ، میر دلی مصروفیات کے باعث عمر کی ہنگامی میٹنگ میں نہیں ہونگے شریک

وزیر اعلی عمر عبداللہ کی صدارت میں ہنگامی اجلاس جاری

وزیر اعلی عمر عبداللہ کی صدارت میں ہنگامی اجلاس جاری

عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں دو قرار دادیں پاس، ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے:تنویر صادق

عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں دو قرار دادیں پاس، ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے:تنویر صادق

وزیر اعظم کی قیادت میں جموں وکشمیر سے علیحدگی پسندی اور ملی ٹینسی کا خاتمہ ہو پایا: ایل جی

افسران کی منتقلی کا معاملہ؛ اپنے دائرہ اختیار سے پوری طرح آگاہ: ایل جی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »