امت نیوز ڈیسک //
گلمرگ : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سیاحت کو معیشت کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’اگر ریاست کو سیاحت کے شعبے کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو مقامی سطح پر اسے فروغ دینا ہوگا اور ساتھ ہی ان پابندیوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہوگی جو کئی سیاحتی مقامات پر اب بھی عائد ہیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار شمالی کشمیر کے معروف سیاحتی مقام گلمرگ میں طلب کیے گئے کابینہ اجلاس میں کیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز جنوبی کشمیر کے پہلگام کے بعد آج گلمرگ میں کابینہ اجلاس طلب کیا گیا۔ جموں کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرینگر یا جموں سے باہر کابینہ اجلاس منعقد ہو رہے ہیں اور یہ فیصلہ گزشتہ دنوں حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے کے لیے لیا گیا۔
اسکی ریزارٹ گلمرگ میں بدھ کے روز منعقدہ کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا: ’’22 اپریل کے بعد پورا (سیاحتی) عمل رکا ہوا ہے، اس لیے پہلا قدم ہمیں خود اٹھانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے وزیر تعلیم کو ہدایت دی کہ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو پہلگام اور گلمرگ جیسے مقامات کی سیر پر لے جانے کی ترغیب دی جائے تاکہ حالات میں بہتری آئے اور مقامی اعتماد بحال ہو سکے۔
وزیر اعلیٰ نے اراکین اسمبلی کے ایک وفد کے دورے کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا، ’’ہم نے انہیں مدعو نہیں کیا، وہ خود ہم سے رابطے میں آئے۔ مجھے امید ہے کہ ان کا دورہ مثبت پیغام دے گا۔‘‘ عمر عبداللہ نے تسلیم کیا کہ دودھ پتھری، بیتاب ویلی، گلمرگ اور پہلگام کے بعض حصوں کے بند ہونے سے سیاحت متاثر ہو رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر حکومت واقعی سیاحت کو دوبارہ بحال کرنا چاہتی ہے تو ان پابندیوں پر از سر نو غور کیا جانا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا: ’’سکیورٹی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ریاست کو اپنی معیشت اور شناخت کو بھی بچانا ہے۔ اس کے لیے ہمیں بتدریج اعتماد بحال کرنا ہوگا اور نمایاں سیاحتی مقامات کھولنے ہوں گے۔‘‘










