امت نیوز ڈیسک //
سویڈش ماحولیاتی اور انسانی حقوق کی کارکن گریٹا تھنبرگ منگل کے روز اسرائیل سے ڈی پورٹ ہو کر پیرس کے چارلس ڈی گال ایئرپورٹ پہنچ گئی ہیں۔ ایئرپورٹ پہنچتے ہی گریٹا تھنبرگ نے کہ کہ ’’اسرائیلی فوجیوں نے انھیں بین الاقوامی پانی (International Waters) میں ہی اغوا کر لیا تھا۔‘‘
گریٹا تھنبرگ نے پیرس پہنچنے پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہ ہمیں بین الاقوامی علاقے میں ہی اغوا کیا گیا تھا۔ 22 سالہ تھنبرگ پیرس اس وقت پہنچی جب اسرائیلی بحریہ نے اسے اور فلسطینی حامی کارکنوں کے ایک گروپ کو غزہ جانے سے روک دیا۔ واضح رہے کہ اسرائیلی افواج گریٹا تھنبرگ کے اس جہاز پر چڑھے اور تھنبرگ سمیت جہاز میں موجود 12کارکنان کو اپنی حراست میں لے لیا۔ یہ کارکنان غزل میں انسانی امداد لے کر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، جہاں اسرائیلی ناکہ بندی کی وجہ سے بھک مری کی صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔
ٹرمپ نے کہا-غصیل اور عجیب لڑکی ہے تھنبرگ
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گریٹا تھنبرگ کو ’’غصے کے مسائل‘‘ سے جوجھنے والی اور ’’عجیب، نوجوان اور غصیل‘‘ لڑکی قرار دیا۔ انھوں نے تھنبرگ کے غزہ جانے کی کوشش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’وہ ایک عجیب انسان ہے، وہ ایک نوجوان، غصے والی انسان ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ حقیقی غصہ ہے یا نہیں -اس پر یقین کرنا مشکل ہے، اصل میں… میں نے دیکھا جو ہوا۔ وہ (گریٹا) یقیناً مختلف ہے۔‘‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ اسے غصے پر قابو کی کلاسز میں جانا چاہیے۔ یہ اس کے لیے میری بنیادی سفارش ہے… گریٹا تھنبرگ کو اغوا کیے بغیر ہی اسرائیل کو کافی مسائل کا سامنا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ گریٹا تھنبرگ 2019 میں ٹرمپ کو غصے بھری آنکھوں سے دیکھنے کے لیے مشہور ہے، جب وہ اقوام متحدہ کی ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ایک سمٹ میں شریک ہوئے تھے۔









