امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایران میں موجود کشمیری طلباء کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے وزارت خارجہ سے ضروری اقدامات اٹھانےکی درخواست کی ہے۔ عمر عبداللہ کے مطابق اُن طلباء، جو اس وقت ایران میں زیر تعلیم ہیں، کے اہل خانہ سخت پریشان ہیں اور ہم اس مشکل کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ اسرائیل نے جمعہ کی صبح ایران پر حملہ کیا، جس میں پاسداران انقلاب ایرانی کے رہنما سمیت کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ عمر عبداللہ نے اس حملے کے پیش نظر وزارت خارجہ سے ایران میں موجود طلباء کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی درخواست کی ہے۔
عمر عبداللہ نے سماجی رابطہ گاہ ’’ایکس‘‘ پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا: ’’میں وزارت امور خارنہ سے درخواست کرتا ہوں کہ فی الوقت ایران میں پھنسے کشمیری طلباء کی حفاظت کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب ایران پر کئے گئے حملے سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر ان طلبا کے اہل خانہ سخت پریشان ہیں اور ہم اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مانگ کی کہ جموں وکشمیر کے طلباء کی حفاظت کے لیے ہر قدم اٹھایا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے ’جارحیت کا مظاہرہ‘ کرتے ہوئے ایران پر بڑا حملہ کیا، اور حملے میں ایران کے جوہری اور عسکری مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں شہری آبادی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور کئی بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ’’اسرائیلی حکومت نے ایران پر رات کے وقت کیے گئے حملوں سے اپنی کڑوی اور تکلیف دہ تقدیر رقم کر دی ہے۔‘‘









