امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کا کہنا ہے کہ ’’دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد جس ’نارملسی‘ کی بات کی جاتی ہے وہ محض ایک فریب ہے۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے کوئی سیاسی یا انتظامی گنجائش موجود نہیں ہے وہ دن بہ دن سمٹتی جا رہی ہے۔ منتخب حکومت بھی اب تک عوام کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ وہ ہمیشہ یہ بہانہ نہیں بنا سکتے کہ ان کے پاس اختیار محدود ہے اور ریاستی درجہ بحال ہونے تک وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ عوام کو بجا طور پر ان سے توقع ہے کہ وہ کچھ کریں۔‘‘
نماز جمعہ سےقبل میرواعظ نے جامع مسجد سرینگر میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’’ہم عید کے موقع کے بعد پہلی بار ملاقات کر رہے ہیں، جب ہمیں نہ عیدگاہ اور نہ ہی جامع مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔ دونوں مقامات کو مقفل کر دیا گیا اور مجھے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ گزشتہ سات سال سے حکمرانوں کی یہ کارروائی کشمیری مسلمانوں کو ان کے بنیادی مذہبی حق کی ادائیگی سے روک رہی ہے۔‘‘
انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ ’’میں حکام، خاص طور پر ایل جی سے جو کہ یہاں کے سربراہ ہیں، پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ لوگوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں، عید اور اسلام کی روح پر بڑے احترام سے بات کرتے ہیں، تو پھر کشمیری مسلمانوں کو عید کی نماز ادا کرنے سے کیوں روکا جاتا ہے؟ عیدگاہ میں کیوں نہیں؟ جامع مسجد میں کیوں نہیں؟ کیا وجہ ہے؟ اگر ان کے کچھ خدشات اور تحفظات ہیں تو وہ ان کی وضاحت کریں، یا یہ کشمیریوں کو سزا دینے کا طریقہ ہے؟‘‘
میرواعظ نے مزید کہا کہ ’’آج صبح ایک اور افسوسناک خبر یہ ملی کہ اسرائیل نے ایران پر بمباری کی جس میں کئی عام شہریوں بشمول خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے جبکہ اعلیٰ ایرانی فوجی افسران کو بھی شہید کر دیا گیا۔ یہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ بے بس فلسطینی عوام پر نسل کشی مسلط کر کے اور اس سے بچ نکلنے کے بعد اب اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ یہ ایک آمر ریاست بن چکی ہے اور یہ عالمی امن کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے تمام ممالک کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ غزہ میں نسل کشی اور جنگ بند کرے اور دیگر ممالک کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔ جموں و کشمیر کے عوام فلسطینیوں اور ایرانیوں کے ساتھ اسرائیلی جارحیت کے خلاف کھڑے ہیں۔‘‘
دریں اثناء، انہوں نے احمد آباد طیارہ حادثے پر بھی سخت دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز احمد آباد میں پیش آئے ایئر انڈیا کے طیارہ حادثے کا واقعہ ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس نے ہمیں گہرے رنج میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہم ان تمام متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں اس مشکل وقت میں صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ ہم زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا گو ہیں۔







