امت نیوز ڈیسک //
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، انہوں نے ایران کے دارالحکومت تہران کو فوری طور پر خالی کرنے پر زور دیا۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ پر ایک بار پھر ایران پر جوہری معاہدے کرنے پر زور دیا۔ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ کو اس جملے کے ساتھ ختم کیا، "ہر کسی کو فوری طور پر تہران کو خالی کرنا چاہیے!”
اسرائیل نے پیر کے روز تہران میں تقریباً 300,000 لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ فضائی حملوں سے قبل وہاں سے نکل جائیں۔ اس کے بعد اسرائیلی فورسز نے براہ راست نشریات کے دوران ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن اسٹیشن پر حملہ کیا۔ اسرائیل دن بھر ہوائی حملوں اور ڈرونز سے ایران کو نشانہ بنا رہا ہے، جب کہ ایران نے اسرائیل پر میزائل فائر کیے جس میں کم از کم آٹھ افراد مارے گئے۔ ایرانی حملوں میں اب تک 24 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔
ٹِٹ فار ٹاٹ حملے اُس وقت شروع ہوئے جب اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ کے جوہری پروگرام پر جمعہ کو حملہ کیا۔ جس کے بعد سے ایران بھی جوابی حملے کر رہا ہے۔ ان حالات میں جنگ نے ایک وسیع، زیادہ خطرناک علاقائی جنگ کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو نے پیر کو دعویٰ کیا کہ حملوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو ایک سال پیچھے کردیا ہے اور کہا کہ وہ ٹرمپ سے روزانہ رابطے میں ہیں۔
کیا امریکہ جنگ میں شامل ہو گا:
امریکی حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ امریکہ ایران پر حملوں میں حصہ لے رہا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ، امریکہ ایران میں کسی بھی فوجی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ترجمان الیکس فائفر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خبریں درست نہیں ہیں۔ امریکی افواج اپنا دفاعی انداز برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہم امریکی مفادات کا دفاع کریں گے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ان تبصروں کی بازگشت کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ، امریکی افواج اپنی دفاعی پوزیشن کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم امریکی فوجیوں اور اپنے مفادات کا تحفظ کریں گے۔
پارنیل نے ایک رپورٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ، امریکی جیٹ طیاروں کے حملوں میں حصہ لینے کی خبر سچ نہیں ہے۔









