جموں و کشمیر کے ضلع ڈوڈہ سے رکنِ اسمبلی معراج ملک نے نیشنل کانفرنس کی زیرِ قیادت حکومت سے اپنی حمایت واپس لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اعلان کو ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے عوام کے ساتھ شیئر کیا۔معراج ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے گزشتہ نو ماہ کے دوران لوگوں کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ نہ ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے، نہ عوامی فلاح کے اقدامات دیکھنے کو ملے، اور نہ ہی نوجوانوں کے لیے کوئی روزگار پالیسی سامنے لائی گئی۔ ہر محاذ پر حکومت ناکام رہی ہے، اسی لیے میں نیشنل کانفرنس سے اپنی حمایت واپس لیتا ہوں۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو صرف وعدوں میں الجھائے رکھا، جبکہ زمینی سطح پر کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی۔ معراج ملک کا کہنا تھا کہ ان کا ضمیر مزید اس ناکام حکومت کی حمایت کی اجازت نہیں دیتا۔
معراج ملک نے’’ایکس ‘‘پر ویڈیو پوسٹ کے متن میں لکھا کہ’’کیجریوال جی نے 49 دن بعد استعفیٰ دے دیا کیونکہ وہ لوگوں کی اس طرح خدمت نہیں کر سکے جس طرح وہ چاہتے تھے۔ عمر عبداللہ جی کو اقتدار میں رہے 9 ماہ سے زیادہ ہو چکے ہیں، اس کے باوجود انہوں نے کچھ نہیں کیا۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ’’اس لیے نہیں کہ وہ نہیں کر سکتے، بلکہ اس لیے کہ وہ ایسا نہیں کرئیں گے۔ عوامی خدمت کے لیے نیت کی ضرورت ہوتی ہے، بہانے نہیں۔‘‘
معراج ملک کون ہے
معراج ملک کا شمار ڈوڈہ خطے کے مقبول لیڈروں میں ہوتا ہے۔ وہ ڈوڈہ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل(ڈی ڈی سی) کے رُکن تھے، جو مقامی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرنے کی وجہ سے اکثر خبروں میں رہتے تھے۔ انہوںنے 2021 میں ڈی ڈی سی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ 1988 میں پیدا ہونے والے معراج ملک ایک طویل عرصے سے عام آدمی پارٹی سے وابستہ ہیں۔ انہوںنے 2014 کے اسمبلی انتخابات میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا تھا۔ اور اپنی ایک نئی پہچان بنائی۔
اکتوبر 2022 کو عام آدمی پارٹی نے سابق نیشنل پینتھرس پارٹی لیڈر ہرش دیو سنگھ کو عآپ جموں و کشمیر یونٹ کا چیرمین مقرر کردیا جبکہ معراج ملک کو شریک چیرمین بنادیا گیا۔اس کے بعد مارچ 2025 میںمعراج ملک کو عآپ جموں و کشمیر یونٹ کا صدر بنادیا گیا۔
واضح رہے معراج ملک کا نام اس وقت شہ سرخیوں میں آیا جب اس نےڈوڈہ اسمبلی نشست سے مدمقابل بی جے پی کےگجے سنگھ راناکو تقریباً 4500 ووٹوں سے ہراکر سب کو حیران کر دیا۔اس سیٹ کے لیے نیشنل کانفرنس کے قد آور لیڈرخالد نجیب سہروردی اور غلام نبی آزاد کی پارٹی (ڈی اے پی) کے عبدالمجید وانی بھی انتخابی میدان میں تھے جبکہ پی ڈی پی کی جانب سے منصور احمد بٹ اور کانگریس کے شیخ ریاض احمدبھی اس سیٹ کے لیے قسمت آزمائی کررہے تھے۔باور یہی کیا جارہا تھا کہ مسلم ووٹوں کی تقسیم سے بی جی پی اُمیدوار مقابلہ جیتے گا لیکن معراج ملک نے سب کو حیران کرکے ڈوڈہ سیٹ بہ آسانی جیت لی۔
معراج ملک اور تنازعات
معراج ملک اپنے جوشیلے پن کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہے ہیں۔افسر شاہی و دیگر سرکاری افسران سے وہ اکثر خائف ہی نظر آتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی دیگر سیاسی پارٹیوں خاصکر بی جے پی اور پی ڈی پی کے تعیںتعلق بھی دوستانہ نہیں رہا ہے۔ اسمبلی ایوان میںانہوں نے بھاجپا اور پی ڈی پی کو جموں و کشمیر کی موجودہ ابتر صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا ہے جس پر ان دنوں پارٹیوں نے معراج ملک کی شدید تنقید کی ۔
ادھر گزشتہ ماہ معراج ملک اپنے حامیوں کے ہمراہ جی ایم سی ڈوڈہ کے اسپتال کا اچانک دورہ کرنے پہنچے۔ دورے کے دوران اُن کے ساتھی اسپتال میں ویڈیوز بناتے رہے اور ان کا ذاتی کیمرا مین فیس بک پر براہِ راست نشریات کرتا رہا۔ انہوں نے ایمرجنسی وارڈ میں موجود جونیئر ڈاکٹروں کو ڈانٹا، جب کہ پیرامیڈیکل عملے پر حاضری ریکارڈ میں بدانتظامی کے الزامات عائد کیے۔اس دوران معراج ملک نے ایک خاتون ڈاکٹر پر نجی نرسنگ ہوم کی طرف مریضوں کو راغب کرنے کا بھی الزام عائد کیا اور کئی بار ڈاکٹروں کے لیے ’مافیا‘ کا لفظ استعمال کیا، جس پر طبی عملے نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔
عام آدمی پارٹی رکن اسمبلی معراج ملک اور گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ کے ڈاکٹروں کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایم ایل اے نے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے اور اسپتال انتظامیہ پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے اور اس حوالے سے محکمہ صحت کو تحریری طور شکایت بھی درج کی ہے۔ معراج ملک کا دعویٰ ہے کہ ’’چند ڈاکٹر نجی اسپتالوں کا مافیا چلا رہے ہیں اور سرکاری نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘‘جی ایم سی ڈوڈہ کے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی مشترکہ کمیٹی نے ایم ایل اے سے 24 گھنٹے کے اندر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے، بصورت دیگر غیر ہنگامی طبی خدمات معطل کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ڈاکٹروں کے احتجاج کے بعد پولیس نے ایم ایل اے معراج ملک کے خلاف ’’خاتون ڈاکٹر کو بدنام کرنے، مجرمانہ دھمکیاں دینے اور اس کی عزت نفس مجروح کرنے کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ۔‘‘واضح رہےیہ ایف آئی آر ایک میڈیکل کالج کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کی شکایت پر درج کی گئی ہے، جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ایم ایل اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے خلاف دھمکیاں دینے اور بدتمیزاور توہین آمیز زبان استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ڈاکٹر نے تھانہ ڈوڈہ میں شکایت درج کرواتے ہوئے کہا کہ ایم ایل اے کی جانب سے سوشل میڈیا پر مجرمانہ دھمکیاں، گالی گلوچ اور اسپتال کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈالنے والے بیانات دئیے گئے۔انہوں نے شکایت میں کہاایک سلسلہ وار اور نہایت تکلیف دہ واقعات میں، ملک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر میرے خلاف کھلے عام دھمکیاں دیں اور توہین آمیز، ناشائستہ زبان استعمال کی۔شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ محض الفاظ نہیں بلکہ ایک خاتون ڈاکٹر کی حیثیت سے میری عزت، حفاظت اور پیشہ ورانہ فرائض پر براہ راست حملہ ہے۔ یہ الفاظ سوشل میڈیا پر ایک خاتون سرکاری ملازمہ کی عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہیں۔شکایت کنندہ نے پولیس سے درخواست کی کہ وہ اس بات کا نوٹس لے کہ ملزم نے اپنے سوشل میڈیا لائیو ویڈیوز میں بارہا ان کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔انہوں نے مزید کہا، سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس نے طنزیہ انداز میں کہا، ’یہ اسپتال تمہارے باپ کا نہیں ہے‘، جب کہ میرے والد کا انتقال 12 سال قبل ہو چکا ہے۔ یہ جملہ نہ صرف تکبر ظاہر کرتا ہے بلکہ شدید بے حسی اور بداخلاقی کا عکاس ہے ۔اس کے علاوہ ایم ایل اے پر الزام ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بغیر اجازت لیبر روم میں داخل ہوئے اور اس دوران سوشل میڈیا پر براہِ راست ویڈیوز بھی چل رہی تھیں۔
یاد رہے کہ معراج ملک اس سے پہلے بھی بدزبانی کے الزامات کی وجہ سے تنازعات میں گھر چکے ہیں۔ 17 مارچ 2025 کو جموں کی اسپیشل ایکسائز موبائل مجسٹریٹ کی عدالت نے سابق وزیر غلام محمد سروری کی جانب سے دائر کردہ ایک مقدمے میں معراج ملک کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا، جس میں ان پر جھوٹے بیانات دینے کا الزام تھا۔
حکومت سے حمایت واپس
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے عمر عبداللہ کی نیشنل کانفرنس سرکار سے حمایت واپس لینے کا اقدام نیشنل کانفرنس کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کہ نیشنل کانفرنس حکومتی اتحاد کو مضبوط دکھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ معراج ملک کےاس فیصلے کے ممکنہ اثرات آئندہ ایام میں جموں و کشمیر کی سیاسی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔خیال رہے معراج ملک کا ’پُرجوش اورزوردار‘سیاسی بیانیہ عوامی سطح پر کافی مقبول ہےجو آنے والے دنوں میںعمر عبداللہ سرکار کے لیے مشکلات کھڑا کرسکتا ہے۔










