امت نیوز ڈیسک//
گلمرگ : جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ سیاستدانوں یا اسمبلی کے مفادات کے لیے نہیں بلکہ خطے کے عوام کے حقوق کے لیے ناگزیر ہے۔‘‘
عمر عبداللہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ رپورٹس میں ریاستی درجہ کی مشروط بحالی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ ان خبروں میں دعویٰ کیا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی اگلے اسمبلی انتخابات پر بحال کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ ’’اگر ہم یا ہماری حکومت ریاستی درجے کی بحالی میں آڑے آتے ہیں تو ہم عوامی مفادات کےلیے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ ’’اگر واقعی ایسا ہے تو میں اگلے ہی دن گورنر سے اسمبلی کو تحلیل کرنے کا کہوں گا‘‘
انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ گمراہ کن بیانیے کا سہارا نہ لے، انہوں نے نام لئے بغیر اس طرح کی خبریں شائع کرنے پر میڈیا اداروں کی بھی تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’ہمیں معلوم ہے کہ کون سے میڈیا ادارے کس کے ایماء پر اور کیوں ایسی بے بنیاد خبریں شائع کرتے ہیں، ریاستی درجہ ہمارا حق ہے، ہمیں من گھڑت کہانیوں سے ڈرانے کی کوشش نہ کریں۔‘‘
گلمرگ میں سیاحتی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے جاری کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے، عمر عبداللہ نے بتایا کہ دو بڑے منصوبے ’’ایک نئی سکی لفٹ‘‘ اور ’’پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک‘‘ کا سنگ بنیاد پہلے ہی رکھے جا چکے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سکی لفٹ آنے والے سیزن کے لیے تیار ہو جائے گی اور پانی کا ٹینک خطے میں پانی کی کمی کو دور کرے گا۔









