امت نیوز ڈیسک //
اکیس جون کو پارلیمنٹ کا مونسون سیشن شروع ہونے جا رہا ہے۔ اسکو لے کر اپوزیشن جماعتیں سرکار کو کئی معاملات پر گھیرنے کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہیں۔ اس دوران خاص پر پہلگام حملہ، ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کا دعوی اور جمون کشمیر کے ریاستی درجے کی مانگ بھی اپوزیشن کی جانب سے کی جا سکتی ہے۔
اس بیچ کانگریس سینئر رہنما اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگیر س صدر ملک ارجن کھڑگے نے آج وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر جموں کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کی فوری بحالی پر زور دیا۔
پچھلے پانچ سالوں سے جموں و کشمیر کے عوام نے مسلسل مکمل ریاست کی بحالی کا مطالبہ جر ریے ہیں۔ یہ مطالبہ ان کے آئینی اور جمہوری حقوق میں جائز بھی ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ جب کہ ماضی میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریاست کا درجہ دیا گیا ہے، جموں اور کشمیر کا معاملہ آزاد ہندوستان میں اس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی مکمل ریاست کی تقسیم کے بعد اسے یونین کے زیر انتظام علاقہ بنایا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا کہ وزیر اعظم نے خود کئی مرتبہ ریاستی درجے کا وعدہ دیا ہئے۔ دونوں لیدران نے حکومت پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں بل پیش کر کے جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے۔۔۔ وہیں لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کیا مانگ کی۔










