امت نیوز ڈیسک //
جموں و کشمیر کی نیشنل کانفرنس حکو مت جس میں وزیر اعلی محمد عبد اللہ محکمہ مال کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں، نے ایک مرتبہ پھر ریاست بھر میں زمینوں کے ریکارڈ کو یہ ڈیجی ٹلائز کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ تاہم، اس بار یہ عمل صرف انگریزی زبان میں کیا جا رہا ہے اور اردو زبان کو مکمل طور پر خارج کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی پی وحید الرحمن پرہ نے سماجی رابطہ گاہ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ”اردو جو کہ جموں و کشمیر کی سرکاری زبانوں میں شامل ہے اور صدیوں سے ریونیوریکارڈ کا حصہ رہی ہے، کونئے ڈیجیٹل نظام سے ہٹانے سے کئی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔“
انھوں نے نیشنل کانفرنس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ” سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آخر کیوں اردو جو ریاست کی شناخت اور ثقافت کا لازمی جز ہے، کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے ؟ کیا نیشنل کانفر نس حکومت اردو زبان کو ریکار ڈز سے متاکر ایک نئی زبان پالیسی نافذ کرنا چاہتی ہے؟۔“










