امت نیوز ڈیسک /
جموں: مغربی افریقی ملک نائجر میں مبینہ طور پر دہشت گردوں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے ایک ہندوستانی شہری کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اغوا ہونے والا ہندوستانی شہری جموں و کشمیر کے ضلع رامبن کا رہائشی ہے۔
رامبن کی رہائشی شیلا دیوی نے بتایا کہ ان کے شوہر رنجیت سنگھ "ٹرانس ریل لائٹنگ لمیٹڈ” نامی ایک مربوط بجلی کی ترسیل اور تقسیم کی کمپنی میں سینئر سیکیورٹی آفیسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 15 جولائی کے بعد سے خاندان کا رنجیت سنگھ سے کوئی رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔
ہندوستانی سفارتخانے نے اطلاع دی تھی کہ نائجر کے جنوب مغربی علاقے میں ایک دہشت گرد حملے میں دو ہندوستانی شہری مارے گئے جبکہ ایک کو اغوا کر لیا گیا۔ سفارتخانے نے جمعہ کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا: نائجر کے ڈوسو (Dosso) علاقے میں 15 جولائی کو ہونے والے ایک ہولناک دہشت گرد حملے میں دو ہندوستانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ایک کو اغوا کر لیا گیا۔
نائجر کے مقامی میڈیا کے مطابق، دارالحکومت نيامے سے تقریباً 130 کلومیٹر دور ایک تعمیراتی مقام پر سیکیورٹی پر مامور فوجی دستے پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر دیا تھا۔ شیلا دیوی نے ہفتہ کے روز کہا: ہماری آخری بات 15 جولائی کو واٹس ایپ پر ہوئی تھی۔
اس کے بعد سے میں اُن سے رابطہ نہیں کر پائی ہوں۔ میں نے ان کی کمپنی کے انتظامیہ سے رابطہ کیا، تو ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ کام کی جگہ پر نیٹ ورک کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شوہر کے اغوا کی اطلاع انہیں اگلے دن ان کے ایک دوست سے ملی، جبکہ کمپنی کی جانب سے کہا گیا کہ وہ دہشت گرد حملے کے بعد جنگل کی طرف فرار ہو گئے تھے۔
شیلا دیوی کا کہنا ہے: اب چار دن گزر چکے ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرے شوہر کو بازیاب کرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہو رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمپنی سے کئی بار رابطے کی کوشش کے باوجود انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ شیلا دیوی نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے اپیل کرتے ہوئے کہامجھے معلوم نہیں کہ میرے شوہر کس حال میں ہیں۔
مجھے مقامی حکومت یا حکام کی کسی کوشش کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ڈپٹی کمشنر رامبن، محمد الیاس خان سے بھی ملیں، جنہوں نے انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔ شیلا دیوی نے کہا: ڈی سی صاحب نے کہا کہ وہ اپنی حد تک ہر ممکن کوشش کریں گے، مگر میں جانتی ہوں کہ اصل کام ہمارے وزارتِ خارجہ کا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میرے شوہر کو بحفاظت وطن واپس لایا جا سکتا ہے۔










