امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کے روز ’بغیر کسی تاخیر کے جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے سے متعلق پرزور مطالبہ کیا‘۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس سلسلے میں حکمراں نیشنل کانفرنس کی طرف سے قانونی آپشنز سمیت تمام راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
مرکز کے زیر انتظام علاقے میں نیشنل کانفرنس کے اقتدار میں آنے کے تقریباً دس ماہ بعد عمر عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ ’ریاست کا درجہ عوام کا بنیادی حق ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے اس کا وعدہ کیا تھا۔
عمر عبداللہ نے حکومت موجودہ صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی مثالی صورت حال نہیں ہے۔ بار بار وعدے کئے گئے، پارلیمنٹ میں وعدے کئے گئے، سپریم کورٹ میں وعدوعدوں کے باوجود، یہ معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم کوئی ایسی چیز نہیں مانگ رہے ہیں جو ہمارا حق نہیں ہے۔ ریاست کا حق ہے، اس کا عوام سے وعدہ کیا گیا تھا‘۔
انہوں نے ایک انٹرویو میں پی ٹی آئی کو بتایاکہ "یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر بات نہیں کی جاسکتی ہے یا اس کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا‘۔ عبداللہ، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ "خوشگوار” تعلقات برقرار رکھتے ہیں، نے اس معاملے پر اپنی نجی بات چیت کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا، صرف اس بات کی تصدیق کی کہ ریاست کا مسئلہ "متعدد سطحوں پر” اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "میرے، وزیر اعظم، وزیر داخلہ وغیرہ کے درمیان انفرادی طور پر جو بات چیت ہوئی ہے، یہ وہ گفتگو نہیں ہے جسے شیئر کیا جاسکتا ہے۔ یقین ہم نے اس معاملہ کو اٹھایا ہے۔ ریاست کے درجہ سے متعلق مسائل کے علاوہ جموں و کشمیر کے دیگر مسائل کو متعدد سطحوں پر کئی بار اٹھایا گیا ہے اور ہم اسے جاری رکھیں گے۔”
انہوں نے مرکزی حکومت کے ساتھ اپنے رشتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عوامی مسائل پر بات کرنے سے انہیں کوئی چیز نہیں روک سکتی، جہاں تک مرکز سے اچھے تعلقات کا تعلق ہے، میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی ایسی چیز ہے جس پر تبصرہ کیا جانا چاہئے‘۔ انہوں نے کہاکہ ’جموں و کشمیر کے معاملے میں دونوں عہدوں (وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم) پر ہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لئے ان دونوں کے درمیان خوشگوار تعلق رکھنا ضروری ہوتا ہے‘۔
انہوں نے سوال کیا کہ "اگر حکومت ہند نے ہماری مدد کی ہے تو کیا مجھے کم از کم عوامی سطح پر اس کی تعریف نہیں کرنی چاہئے؟ لیکن جہاں چیزیں اچھی نہیں ہیں یا جہاں چیزیں غلط ہیں، میں اس پر خاموش نہیں رہوں گا۔”
اس سوال پر کہ کیا ان کی پارٹی ریاست کا درجہ دینے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، وزیر اعلیٰ نے کہاکہ "ہم مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر اور ماہرین کے ساتھ کچھ بات چیت ہوئی ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔” چیف منسٹر نے "ہائبرڈ سسٹم” سے متعلق کسی بھی تجاویز کو مسترد کر دیا جہاں ریاست کا درجہ بحال ہونے کے بعد بھی امن و امان کی ذمہ داری مرکزی حکومت کے پاس رہے گی۔









