امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: صحت و طنی تعلیم کی وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ جموں و کشمیر میں منشیات کی بدعت پر قابو پانے کے لیے "بڑی مچھلیوں” کو گرفتار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسل کو بچایا جا سکے۔
"منشیات سے پاک جموں وکشمیر ” کے موضوع پر پیر کو سرینگر میں منعقدہ ایک سمینار پر میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے سکینہ ایتو نے کہا کہ منشیات کی بدعت ایک حساس مسئلہ ہے اور "ہمیں اپنی آنے والی نسل کو بچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کو منشیات سے پاک معاشرہ بنانے کے لیے یہ ہر اسٹیک ہولڈر اور کمیونٹی کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
وزیر موصوفہ نے کہا کہ صرف محکمہ صحت اور پولیس منشیات کی بدعت کو روک نہیں کر سکتے۔ بلکہ ہمیں بھی انفرادی اور اجتماعی طور اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔”اگر ہمیں کشمیر میں منشیات کا خاتمہ کرنا ہے تو ہم سب کو یہ ذمہ داری اٹھانی چاہیے۔ جب تک ہم سب ذمہ داری نہیں اٹھاتے ہم اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ "بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کی ضرورت ہے۔ صرف نچلی سطح پر جرم کرنے والوں کو گرفتار کرنے سے منشیات پر قابو نہیں پانے پایا جاسکتا یے ۔ ایسے میں سماج کے ذی حس اور مذہبی علما کو اس بدت کو روکنے میں اپنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔
"واضح ررہے منشیات سے پاک کشمیر "کے موضوع پر سرینگر میں ایک سمینار کا اہتمام کیا گیا جو کہ وائس آف ویکلی نیوز پیرز کشمیر اور اے آر آزاد میموریل فاؤنڈیشن نے باہمی اشتراک سے منعقد کیا۔سمینار میں وزیر صحت و طبی تعلیم کی وزیز سکینہ ایتو نے خاص مہمان کے طور شرکت کی جبکہ مختلف طبقہ ہائے فکر کے لوگوں کے علاوہ محکمے تعلیم کے اعلی عہدیدار بھی اس موقعے پر موجود تھے۔









