امت نیوز ڈیسک //
جموں / جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبدالله نے آپریشن سندور پر پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ پہلگام حملے پر بھی پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خود لیفٹیننٹ گورنر نے اس واقعے میں سیکورٹی اور انٹیلی جنس ناکامی کا اعتراف کیا ہے، لہذا یہ جاننا عوام کا حق ہے کہ اس ناکامی کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف آپریشنز کی کامیابی پر بات کرنا کافی نہیں بلکہ ان وجوہات کا بھی تعین ہونا چاہیے جن کی وجہ سے اس قسم کے حملے ممکن ہو پاتے ہیں ان باتوں کا اظہار وزیر اعلیٰ نے جموں میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے کے دن سے پولیس نیم فوجی دستے اور فوج سبھی حملہ آوروں کے پیچھے ہیں۔ اگر آج کوئی ملی ٹینٹ انکاؤنٹر میں مارا جاتا ہے تو یہ ایک اچھی بات ہوگی۔ ان کا اشارہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے بارون میں جاری انکاونٹر کی طرف تھا۔ عمر عبداللہ نے آپریشن سندور پر پارلیمنٹ میں ہونے والی ممکنہ بحث کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن سندور پر بحث درست ہے لیکن اس سے پہلے پہلگام حملے پر بات ہونی چاہیے۔ حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر صاحب نے خود کہا تھا کہ اس میں ضرور کوئی نہ کوئی کوتاہی ہوئی تھی۔ انٹیلی جنس اور سیکورٹی کی ناکامی کا ذکر بھی سامنے آیا، اس پر پارلیمنٹ میں بھی بات ہوئی چاہیے کہ اگر انٹیلی جنس فیل ہوئی سیکیورٹی فیل ہوئی تو آخر کس کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا؟
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، کیونکہ اس طرحکی کارروائیاں عوامی اعتماد کو متزلزل کرتی ہیں اور ان کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔










