امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے منگل کو پارلیمنٹ میں اعلان کیا کہ سرینگر کے نواحی علاقے ہارون میں پیر کے روز مارے گئے تین ملی ٹینٹ وہی ہیں جنہوں نے 22 اپریل کو پہلگام میں اندھا دھند فائرنگ کر کے معصوم شہریوں کو ہلاک کیا تھا۔ امیت شاہ نے یہ بیان لوک سبھا میں ’’آپریشن سندور‘‘ پر جاری بحث کے دوران دیا، جہاں انہوں نے ’’آپریشن مہادیو‘‘ کی تفصیلات شیئر کیں اور بتایا کہ ’’سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی شناخت کے لیے مخصوص تکنیکی عمل سے کام لیا تاکہ اس بات کی مکمل تصدیق ہو سکے کہ مارے گئے افراد وہی تھے جو پہلگام حملے میں ملوث تھے۔‘‘
امیت شاہ، کے مطابق مارے گئے ملی ٹینٹوں کی شناخت سلیمان عرف فیصل، افغان، اور فیصل جٹ کے طور پر کی گئی ہے۔ یہ تینوں مبینہ طور پر پاکستان سے آئے تھے اور انہوں نے کشمیر میں سرگرم نیٹ ورک کا حصہ بن کر کئی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔
لوک سبھا میں امیت شاہ کا خطاب
امیت شاہ کے مطابق سلیمان اکتوبر 2024 میں گگن گیر (ضلع گاندربل) میں ہوئے حملے میں بھی ملوث تھا۔ لوک سبھا میں تقریر کے دوران انہوں نے کہا: ’’بائسرن وادی میں ہمارے شہریوں کو جن تین ملی ٹینٹوں نے مارا تھا، وہ یہی تین تھے جو کل (ہاروَن سرینگر میں) مارے گئے۔‘‘
وزیر داخلہ نے بتایا کہ یہ آپریشن (آپریشن مہادیو) بھارتی فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کی مشترکہ کارروائی تھی، اور انہوں نے اس کامیابی پر سبھی فورسز کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا: ’’معصوم شہریوں کو ان کے خاندانوں کے سامنے صرف مذہب پوچھ کر قتل کیا گیا۔ میں اس بربریت کی مذمت کرتا ہوں اور متاثرہ کنبوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘
امیت شاہ نے بتایا کہ 22 اپریل کو پہلگام حملے کے اگلے ہی دن 23 اپریل کو سرینگر میں ایک اعلیٰ سیکیورٹی میٹنگ ہوئی تھی، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پہلگام حملے میں ملوث ملی ٹینٹوں کو کسی بھی صورت میں بھارت سے نکلنے نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا: ’’آپریشن مہادیو 22 مئی 2025 سے شروع ہوا، لیکن ایک لحاظ سے یہ اسی دن شروع ہو گیا تھا جب حملہ ہوا تھا۔ حملہ دن 1 بجے ہوا اور میں شام 5:30 بجے سرینگر پہنچ گیا تھا۔‘‘
آپریشن مہادیو کیسے شروع ہوا
شاہ نے بتایا کہ 22 مئی کو انٹیلی جنس بیورو کو اطلاع ملی تھی کہ ملی ٹینٹ داچھی گام میں چھپے ہوئے ہیں۔ اس کی تصدیق کے لیے انٹیلی جنس اور فوج نے سگنل پکڑنے والے اعلیٰ قسم آلات کے ذریعے مسلسل دو ماہ تک یعنی 22 مئی سے 22 جولائی تک کوششیں جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا: ’’ہمارے اہلکار سرد پہاڑی علاقوں میں پیدل گشت کر رہے تھے سگنل پکڑنے کی کوشش کرتے رہے۔ 22 جولائی کو پختہ اطلاع ملی، جس کے بعد فوج کی 4 پیرا یونٹ، سی آر پی ایف اور جموں کشمیر پولیس کی مشترکہ ٹیم نے علاقے کو گھیر لیا۔ آپریشن کی تفصیل دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’آپریشن مہایو کے دوران وہاں افرادی قوت بھیجی گئی اور اُن ہی تین ملی ٹینٹوں کو مارا گیا جنہوں نے پہلگام میں ہمارے معصوم شہریوں کو قتل کیا تھا۔‘‘







