امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے کشمیر میں زیر حراست ایک پولیس اہلکار پر تشدد کرنے کے الزام میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ رینک کے افسر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ سی بی آئی نے ایف آئی آر میں کپواڑہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اعزاز احمد نائیکو اور جے آئی سی میں تعینات پانچ اہلکاروں کو نامزد کیا ہے۔ ان میں سب انسپکٹر ریاض احمد، جہانگیر احمد، امتیاز احمد، محمد یونس اور شاکر احمد شامل ہیں۔
پولیس کانسٹیبل خورشید احمد چوہان کو دو سال قبل کپواڑہ کے مشترکہ تفتیشی مرکز (جے آئی سی) میں مبینہ طور پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ 26 جولائی کو درج کی گئی سی بی آئی کی ایف آئی آر میں ملزمین پر مجرمانہ سازش، قتل کی کوشش اور غلط طریقے سے قید کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
یہ کارروائی سپریم کورٹ کی طرف سے جموں و کشمیر پولیس کے ان افسران کی گرفتاری کے حکم کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو منتقل کرتے ہوئے کہا تھا کہ تشدد میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کو ایک ماہ کے اندر گرفتار کیا جانا چاہیے اور مقدمہ درج کرنے کے تین ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کی جانی چاہیے۔
سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب چوہان نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا جس نے آئی پی سی کی دفعہ 309 کے تحت ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے چوہان کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ دینے کا بھی حکم دیا۔
معاملہ کیا ہے؟
خورشید احمد چوہان کی اہلیہ روبینہ اختر نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ بارہمولہ میں تعینات چوہان کو 17 فروری 2023 کو منشیات کے معاملے میں تفتیش کے لیے ایس ایس پی کپوارہ کے سامنے رپورٹ کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔
جہاں نائکو، ریاض احمد اور دیگر ملزمین نے خورشید کو مبینہ طور پر لوہے کی سلاخوں اور لکڑی کے ڈنڈوں سے چھ دن تک تشدد کا نشانہ بنایا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ انہیں ‘غیر انسانی اور توہین آمیز تشدد’ کا نشانہ بنایا گیا۔ چوہان نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا، "میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہوں اور مجھے انصاف ملا ہے۔”








