امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی لوک سبھا میں آپریشن سندور پر بحث کا جواب دے رہے ہیں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ سیشن کے آغاز میں ہی انہوں نے میڈیا والوں سے کہا تھا کہ یہ سیشن ہندوستان کی شان گانے کے لیے ہے۔ یہ سیشن ہندوستان کی جیت کے جشن کے لیے ہے۔ جب میں فتح کا جشن کہتا ہوں تو یہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی فتح کا جشن ہے۔ میں ایوان میں بھارت کا موقف پیش کرنے اور ان لوگوں کو آئینہ دکھانے کے لیے کھڑا ہوا ہوں جو بھارت کا رخ نہیں دیکھ سکتے۔ میں ملک کے 140 کروڑ عوام کی آواز کے ساتھ اپنی آواز میں شامل ہونے کے لیے کھڑا ہوا ہوں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ 22 اپریل کو پہلگام میں جو ظالمانہ واقعہ ہوا، حمہہ آورون نے جس طرح معصوم لوگوں سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا اور پھر انہیں گولی مار دی، وہ ظلم کی انتہا ہے۔ یہ بھارت کو تشدد کی آگ میں جھونکنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش تھی۔ یہ بھارت میں فساد پھیلانے کی سازش تھی۔ آج میں اہل وطن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ملک نے اتحاد سے اس سازش کو ناکام بنایا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں کہا کہ ہندوستانی فوج کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے آزادانہ ہاتھ دیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ہی شک تھا کہ بھارت کوئی بڑی کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایٹمی حملے کی دھمکیاں دے رہا تھا لیکن بھارت نے جو فیصلہ کیا وہ کیا۔ 22 اپریل کو ہونے والے حملے کا صرف 22 منٹ میں جواب دیا گیا۔
خارجہ پالیسی پر مودی کا بیان
خارجہ پالیسی اور حمایت کے بارے میں بھی یہاں بہت کچھ کہا گیا۔ دنیا کے کسی بھی ملک نے بھارت کو اپنی حفاظت میں کارروائی کرنے سے نہیں روکا۔ اقوام متحدہ کے 193 میں سے صرف تین ممالک نے پاکستان کی حمایت میں بیان دیا تھا۔ کواڈ ہو، برکس ہو، کوئی بھی ملک ہو، ہندوستان کو پوری دنیا سے حمایت ملی۔ خارجہ پالیسی پر واضح طور پر بات کر رہا ہوں، ہمیں دنیا کی حمایت حاصل ہوئی، لیکن بدقسمتی سے میرے ملک کے ہیروز کی بہادری کو کانگریس کی حمایت نہیں ملی۔









