امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی: سپریم کورٹ 8 اگست کو ایک ایسی درخواست پر سماعت کرے گی جس میں مرکزی حکومت کو جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کی ہدایت دینے کی گزارش کی گئی ہے۔ یہ اقدام اُس وقت سے تقریباً چھ سال بعد کیا جا رہا ہے جب جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنایا گیا تھا۔
خبری ایجنسی کشمیر نیوز کارنر کے مطابق، سینئر وکیل گوپال شنکرناراین نے چیف جسٹس آف انڈیا، بی آر گوائی کے سامنے معاملے کا ذکر کیا اور درخواست کی کہ کیس کو 8 اگست کی فہرست میں برقرار رکھا جائے۔ چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ یہ کیس فہرست سے خارج نہیں کیا جائے گا۔
یہ درخواست ایک متفرق عرضی کے طور پر اُس ختم شدہ مقدمے میں دائر کی گئی ہے جس کا عنوان تھا: “از خود: آئین کے آرٹیکل 370 سے متعلق”، جس میں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو برقرار رکھا تھا۔
درخواست گزاروں میں کالج کے اُستاد ظہور احمد بھٹ اور سماجی کارکن خورشید احمد ملک شامل ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کے گزشتہ فیصلے کے بعد سالیسیٹر جنرل نے ریاستی حیثیت کی بحالی کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن گزشتہ گیارہ ماہ میں کوئی عملی اقدام نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حیثیت کی عدم بحالی ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کی بنیادی خصوصیت کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے یہ دلیل بھی دی کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات پُرامن طریقے سے منعقد ہوئے، لہٰذا امن و امان یا سیکیورٹی کی کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی جو ریاستی حیثیت کی راہ میں حائل ہو۔
سپریم کورٹ نے اپنے گزشتہ فیصلے میں کہا تھا کہ:”ریاستی حیثیت کی بحالی جلد از جلد ہونی چاہیے”،لیکن عدالت نے اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا تھا۔ (کے این سی)










