امت نیوز ڈیسک //
جموں، 24 اگست : لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو کہا کہ انتظامیہ کشتواڑ میں حالیہ بادل پھٹنے سے متاثرہ افراد کو علاج، بازآبادکاری اور امداد فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
جی ایم سی جموں میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، جہاں انہوں نے زیرِ علاج زخمیوں کی عیادت کی، ایل جی سنہا نے نیوز ایجنسی کشمیر نیوز کارنر—کے این سی کو بتایا،”فی الحال یہاں 16 افراد داخل ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ جلد صحتیاب ہو کر گھروں کو لوٹیں گے۔ بدقسمتی سے کئی لوگوں نے اس واقعے میں جانیں گنوائیں، اور تمام تر کوششوں کے باوجود کئی لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابھی بھی 32 افراد لاپتہ ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تقریباً 4 کروڑ 13 لاکھ روپے بطور امداد پہلے ہی تقسیم کیے جا چکے ہیں۔”
ایل جی نے یقین دلایا کہ متاثرہ خاندانوں کو مکمل سہارا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا،”اس سانحے سے متاثرہ افراد کے لیے حکومتِ ہند اور جموں و کشمیر انتظامیہ ان کی بازآبادکاری اور فلاح کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔”
جب ان سے وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ کے کشتواڑ کے طے شدہ دورے کے بارے میں پوچھا گیا تو ایل جی سنہا نے کہا،”اگر موسم نے اجازت دی تو وہ کشتواڑ جائیں گے، ورنہ وہ جی ایم سی جموں آکر زخمیوں سے ملاقات کریں گے۔”
جموں و کشمیر میں جاری موسلادھار بارشوں پر بات کرتے ہوئے سنہا نے کہا کہ مشورے جاری کیے گئے ہیں اور عوام سے محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔
انہوں نے کہا، "زیادہ تر علاقوں میں بھاری بارش ہو رہی ہے۔ اس طرح کے موسمی نظام پورے ملک میں دیکھنے کو مل رہے ہیں اور جموں و کشمیر میں بھی۔ ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں الرٹ پر ہیں۔ مجھے امید ہے کہ کوئی بڑا حادثہ پیش نہ آئے۔” (کے این سی)









