امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 2 ستمبر: جموں و کشمیر کی ایک خصوصی عدالت نے سینئر پی ڈی پی لیڈر اور سابق وزیر نعیم اختر کے ساتھ ساتھ JKPCC کے دو سابق عہدیداروں کو چھ سال پرانے بدعنوانی کے کیس میں بری کر دیا ہے۔
خصوصی اینٹی کرپشن جج سورندر سنگھ نے کہا کہ ایک فوجداری عدالت کو صرف سرکاری کارروائی کی ترجمان نہیں بننا چاہیے اور استغاثہ کی خواہش کے مطابق الزامات عائد نہیں کرنے چاہیے۔ عدالت نے پایا کہ مختلف دفعات کے تحت لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں، اور 2021 میں دائر کی گئی چارجشیٹ کو خارج کر دیا۔
عدالت نے اپنے 27 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا:
"ملزمان کے خلاف کوئی ایسا مقدمہ نہیں بنتا جس پر چارجز فریم کیے جائیں… ملزمان کو بری کیا جائے اور ان کی ضمانتیں بھی ختم ہوں۔”
2019 میں جموں و کشمیر پولیس کی کرائم برانچ نے اندریابی، سابق JKPCC منیجنگ ڈائریکٹر وکڑ مصطفی شونٹھو اور کمپنی سیکرٹری نیرو چڈھا کے خلاف بدعنوانی کی دفعہ کے تحت FIR درج کی تھی۔ یہ FIR اس وقت درج ہوئی جب حکومت نے JKPCC کے معاملات کی جانچ کے لیے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی، جس کی رپورٹ میں مارچ 2018 میں شونٹھو کی تعیناتی کو "غیر قانونی اور قواعد کی خلاف ورزی” قرار دیا گیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ اندریابی بطور JKPCC چیئرمین اور اس وقت ورکنگز منسٹر ہونے کے ناطے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ انہوں نے ذاتی فائدے یا دیگر ملزمان کے لیے غیر قانونی طریقے اپنائے۔ عدالت نے مزید کہا کہ گواہوں کے بیانات میں اگر کوئی کمی یا غلطی ہوئی بھی ہو، تو وہ محض محکمے کے معمولات کے خلاف تھی، نہ کہ جرم کے زمرے میں۔
عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی فوجداری دفعہ کے تحت ملزمان پر چارج کرنے کے لیے کوئی مضبوط شواہد موجود نہیں، اور استغاثہ نے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے۔ اس لیے خصوصی عدالت نے فیصلہ دیا کہ ملزمان کو تمام الزامات سے بری کیا جائے۔









